سوشل میڈیا کو سمجھنے کی ضرورت


آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے اور دنیا میں رہنے والا ہر ایک شخص براہ راست یا بالواسطہ طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کنندگان میں شامل ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے، روزگار، معیشت، سیاست، سماج، سکھائی، تشہیر، ابلاغ، فن، سائنس اور تفریح، غرض یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی پر اثر مرتب کیا ہے۔

سوشل میڈیا نے بہت سی اصطلاحات بدل دیں، بہت سی نئی اصطلاحات کو ایجاد کیا اور اس طرح آج کی زندگی بالکل بھی پہلے کی طرح نہیں رہی۔

سوشل میڈیا حقیقت میں کسی بھی طرح کے ریگولیٹری کنٹرول یا انتظامی اتھارٹی کے قابو میں نہیں ہے تو اس کے لیے قواعد و ضوابط کی پابندی عائد کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں بہت سی حکومتوں کے زیر انتظام طاقتور ادارے اپنے پورے وسائل اور اختیار کے ساتھ اس ضمن میں کام کر رہے ہیں۔ مگر اگر دیکھا جائے تو ان کا اختیار انٹرنیٹ کو بند کرنے اور کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا ایپلیکیشن (ایپ) پر پابندی لگانے تک محدود نظر آتا ہے اور یہاں لفظ محدود کا استعمال بہت خوب ہے کیوں کہ پابندی لگانے کا عمل بھی محدود نتائج سے زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک المعروف وی پی این  کے استعمال سے ایک عام شخص کسی بھی قسم کی بندش اور پابندی کی حدود پھلانگ جاتا ہے۔

اس لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے مظاہر بسا اوقات اس پابندی کے مقاصد کے عین خلاف پر مبنی ایک بڑے تاثر کی تخلیق کا سبب بن جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اثرات کو سمجھنے کے لیے مماثلت کے طور پر ایک تیز رفتار دریا کی مثال لی جا سکتی ہے۔ تیز رفتار دریا کے بہاؤ میں طاقتور چٹانیں، بھاری بھر کم اشیا اور پل تک بہہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہاؤ کو طاقت کے استعمال سے روکنے میں کامیاب ہونے پر دریا اپنا رخ بدل کر تباہی مچا سکتا ہے۔ مگر جب اسی دریا سے نہریں نکالی جاتی ہیں۔ بند بنائے جاتے ہیں تو اسی بہاؤ کی طاقت سے اپنی منشا کے مطابق مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بجلی کی پیداوار، سیلاب کے خطرے کو مثبت اشاریے میں تبدیل کر کے پانی کو ذخیرہ کرنا وغیرہ وغیرہ۔

سوشل میڈیا یا سماجی ابلاغ کے بہاؤ کی بے پناہ قوت کو ایک انجینئر اور فلاسفر کی مشترکہ صلاحیت، تجزیے اور تحقیق کے ذریعے سمجھنے کی کوشش اور پھر اس کے مثبت اور تعمیری استعمال کے حوالے سے غور و خوض کی اشد ضرورت ہے۔

کسی بھی قسم کی توانائی کو پوری طرح یا مناسب طور پر بغیر سمجھے اور جانے اس کے بارے میں درست فیصلہ کرنا دانائی نہیں۔

سوشل میڈیا آج انسان کی سوچ، پسند، معلومات، فیصلے، ۔ مزاج، صحت اور قابلیت پر براہ راست اثرانداز ہو رہا ہے تو اس وقت سوشل میڈیا کو قابو (کنٹرول) کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار اور طاقت ور بہاؤ کی طاقت اور صلاحیت مثبت انداز میں استعمال کرنے پر تحقیق اور غور فکر آج کی اہم ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیم و تربیت اور آگاہی پر کام کرنے سے انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس پر آنے والے بہت سے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ آبادی کے ایک بڑے حصے تک رسائی کے بہت سے معاملات اور سہولیات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر اور سوچ میں بدلاؤ لاکر ترقی کے نت نئے مدارج کو طے کیا جاسکتا ہے۔

تعلیم و تربیت، ابلاغ، رابطے اور رسائی کے ان نئے مگر اب آزمودہ طریقہ کار اور وسائل کو درست طور پر استعمال کر کے امن کے قیام، بہتر انتظام، درست حکمرانی، انصاف، تعلیم و تربیت، آگاہی کے رائج اور فرسودہ سے معاملات میں ایک شان دار اور مثبت تبدیلی لاکر ایک عام آدمی کی زندگی کو بہتر کرنا ہی صحیح فیصلہ کہا جائے گا۔

سوشل میڈیا آج کا ابھرتا ہوا ایک سچ ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں تیز رفتار تبدیلیوں کے ذریعے بہت کچھ بدل رہا ہے۔

اب یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ اس ابھرتی ہوئی طاقت کے درست استعمال کے بارے میں ہمارا انفرادی، گروہی اور اجتماعی ارادہ کیا ہے؟

ہم اس کو استعمال کر کے اپنے سماج اور عوام کی بہتری کے لئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں یا ہم اس کے طاقتور بہاؤ کو بس روکنے پر ہی غور کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS