مچ البوم اور ننھے لڑکے کے سفید جھوٹ
”اسے زور سے مارو۔“ سپاہی چلایا۔ ”نہیں تو میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا۔
”سیبسٹین نے اپنی طرح کے اس قیدی کو کوڑا مارا، جسے وہ جانتا تک نہ تھا۔ یہاں پہ ٹرین سے اترنے والے دوسرے لوگوں کی طرح اس کے کپڑے بھی اتار لیے گئے تھے۔ اس کے جسم کے سب بال مونڈ دیے گئے تھے۔ رات بھر اسے غسل خانے میں کھڑا رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے ننگے پاؤں سردی میں تاحال بھیگے ہوئے تھے، جن سے پانی نچڑ رہا تھا۔ صبح کے وقت اس کے پاؤں کو رگڑا گیا تھا، پھر اسے دھاری دار کپڑے اور ٹوپی لینے کے لیے صحن میں برہنہ ہو کر چلنا پڑا تھا۔ یہ اس کی جبری مشقت کا پہلا دن تھا اور وہ پہلے ہی دن کسی مکھی کی طرح ڈھے گیا تھا۔“
ذرا ایک اور منظر ملاحظہ کیجیے :
”قیدیوں کو گھسیٹ کر ایک بڑے پل پر لایا گیا۔ پھر انھیں اپنے جوتے اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ سب مختلف دھڑوں کی صورت رسی میں بندھے ہوئے تھے۔ ان سب کا رخ گہرے سرد پانیوں کی طرف تھا۔ ان میں کم از کم ستر یا اسی افراد تھے۔ جن میں سے بیشتر بچے تھے، ان کے سر اور پاؤں برف کے لمس سے منجمد ہو رہے تھے۔ آخر کار قطار کے آخر سے ایک سپاہی اٹھا اور اس نے اک یہودی کے سر میں گولی مار دی۔ فینی نے اسے اور اس کے ساتھ بندھے سب لوگوں کے گروہ کو بلند پل سے دریا میں دہشت زدہ چہروں کے ساتھ گرتے دیکھا، جنھیں ایک تیز لہر اپنے ساتھ بہائے دور لیے جا رہی تھی۔“
اذیت و دہشت سے بھرپور یہ مناظر کسی فلم کے نہیں بلکہ 1933 سے 1945 کے دوران جاری رہنے والے دوسری جنگِ عظیم کے اس سفاک ہولوکاسٹ کے ہیں، جب نازی جرمن حکومت اور اس کے اتحادیوں و حلیفوں کے نسلی تفاخر و زعم نے باہمی ملی بھگت سے چھ ملین بے گناہ یورپی یہودیوں کی منظم نسل کشی کی تھی۔
معروف امریکی صحافی اور ادیب مچ البوم کا شہرہ آفاق ناول The Little Liar، جس کا سلیس، سہل اور شستہ ترجمہ حال ہی میں قربان چنا صاحب نے کیا ہے، نازی حراستی کیمپ آشوٹز کی وحشت، بربریت، ظلم، زیادتی اور ناروا انسانی سلوک پر مشتمل المیوں کی ایسی کربناک داستان ہے، جسے سنانے کے لیے سچائی نے خود کو کسی قصہ گو کی مانند مجسم کیا اور پھر اپنے آپ کو دہرایا۔
یہ ناول 1943 میں آشوٹز کی موت گاہ کی طرف روانہ ہونے والی ٹرین کے بے بس مسافروں سے ایک ننھے اور سچے لڑکے نیکو کے بولے جانے والے سفید جھوٹ کی کہانی ہے، جس کے بہکاوے میں موت کی طرف جانے والے مسافر اسے زندگی کا نیا سفر گردانتے رہے۔ نفرت، سفاکی، دہشت، خون اور جنگ کی ہولناکی کی ایسی دلدوز داستان جہاں ظلم و وحشت کی چیرہ دستیاں روح میں کسی گھاؤ کی مانند اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
خاص طور پر ان مناظر میں جب نسل پرستی کے تفاخر میں مبتلا سفاک نازی جرمن وہاں کے لوگوں سے بے رحمانہ سلوک کرتے ہیں۔ انھیں جانوروں کی مانند سمجھتے ہیں۔ خاص کہ کہانی کا وہ حصہ جب ناول کا ایک متشدد جرمن نازی کردار اڈوگراف ایک ہراساں و خوفزدہ یہودی عورت کے شیر خوار بچے کو اس کی گود سے جھپٹتے ہوئے، چکتی ٹرین کی کھڑکی سے باہر اچھال دیتا ہے۔
پولینڈ اور جرمنی میں ہولوکاسٹ کی کہانیاں سننے والے بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ نازیوں نے یونان پر بھی حملہ کیا تھا، وہاں سلونیکا کا معروف علاقہ جو تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصا خوش حال تھا اور جہاں کبھی پچاس ہزار سے زیادہ یہودیوں کا گھر تھا، اس وحشت ناک نسل کُشی کے بعد وہاں محض دو ہزار سے بھی کم یہودی زندہ بچے تھے۔
”نازی جرمنوں نے سلونیکا میں روز مرہ زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں پر قابو پا لیا تھا۔ انھوں نے یہودی اخبارات کو بند کر دیا، ان کی لائبریریوں کا صفایا کر دیا۔ انھوں نے ہر یہودی کو اپنے لباس پر زرد ستارہ پہننے پر مجبور کیا، اسی طرح انھوں نے قدیم یہودی قبرستان کو بھی غارت کر دیا۔ تین لاکھ قبروں کو مسمار کر دیا گیا۔ سونے کے دانتوں کی تلاش میں انھوں نے مردوں کی ہڈیاں تک نکال باہر کیں۔ یہودی خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی یوں تذلیل پر دکھ سے روتے بلبلاتے رہے۔ نازیوں نے تعمیراتی سامان کے لیے یہودی قبروں کے پتھروں کو بھی بیچ ڈالا۔ ان میں سے کچھ قبروں کے کتبے گلیوں کے فرش یا گرجا گھر کی دیواروں میں بھی چنوائے گئے۔“
یہودی نسل کشی کے اس غیر انسانی فعل کے لیے نازی جرمنی کے پاس پانچ قتل گاہیں تھیں : چیلمنو، بالزیک، سوبیبور، ٹریبلنکا اور آشوٹز برکیناؤ۔ یہ قتل گاہیں یہودیوں کو بڑے پیمانے پر ہلاک کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تھیں۔ یہاں قتل کا بنیادی ہتھیار ایک زہریلی گیس تھی جو کہ گیس بند چیمبرز یا گاڑیوں میں چھوڑ دی جاتی تھی۔
جرمن حکام، اپنے اتحادیوں اور حلیفوں کی مدد سے یہودیوں کو پورے یورپ سے مارتے ہانکتے ان قتل گاہوں تک لاتے۔ انہوں نے قتل گاہوں کی طرف جانے والی گاڑیوں کو ”نئی بستیوں میں آبادکاری کا عمل“ کا نام دے کر اپنے بدنیت ارادوں کو چھپائے رکھا۔ ناول کے ننھے کردار نیکو کو ساری زندگی اسی جھوٹ کے بولنے کا رنج رہا جو اس سے جرمن نازی اڈوگراف نے مکر و فریب سے دانستہ بلوایا تاکہ نیکو کی برادری کے یہودی اس کی بات پر یقین کر کے خاموشی سے ٹرین کا سفر طے کر جائیں۔
آشوٹز ایک وحشت ناک موت گاہ تھی، جہاں جبر، ظلم، زیادتی، تشدد یا موت میں سے کوئی نہ کوئی ان قیدیوں سے ہمہ وقت بر سرِ پیکار رہتی۔ صرف روٹی کا ایک ٹکڑا اور رات کو کھانے کے لیے تھوڑا ناقص سوپ ہوتا۔ بسا اوقات سپاہی شغل میں قیدیوں کے ہجوم میں گوشت کا ایک ٹکڑا اچھالتے اور انھیں کتوں کی طرح اس پر ٹوٹتے جھپٹتے دیکھ کر خوش ہوتے۔
آشوٹز کی سخت مشقت بھری زندگی میں موت بھی سستی نہ تھی۔ پہلے انھیں دن بہ دن خوف سے دہلنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ ان کے جسم بھوک سے سوکھتے رہتے، انھیں مارا پیٹا جاتا، ننگے رہنے سے وہ سردی میں جم جاتے، ان کی بیماریوں اور رستے زخموں کو نظر انداز کر دیا جاتا، یہاں تک کہ وہ نقاہت سے خود زمین پر گر نہ پڑتے۔
ناول میں مچ البوم نے مختلف تمثیلوں سے اپنی کہانی کو بیان کرتے ہوئے اس ناول کو مزید دلچسپ، موثر اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل بنایا ہے۔ مثلاً ایک تمثیل کے مطابق ”تخلیقِ کائنات کے وقت سچ کے فرشتے نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو پیدا نہ ہونے دیا جائے کیونکہ وہ جھوٹا ہو گا اور تب خدا نے سچائی کو آسمان سے نکال کر زمین کی گہرائیوں میں دفن کر دیا۔“
”سچائی کا کہنا تھا کہ مجھے خدا نے جان بوجھ کر چھپایا کہ میری فضیلت تمہاری قابلیت سے کہیں زیادہ تھی۔ مجھے لاتعداد ٹکڑوں میں توڑ کر زمین پر پھینکا گیا، جن میں سے ہر ٹکڑا اب بھی انسانی دل میں اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔“
اسی طرح حراستی کیمپ کی سختیوں کو جھیلتے کریپس خاندان کے بڑے بزرگ لازارے کے کئی خیالات بھی یہاں آفاقی نوعیت کے ہیں۔ ذرا دیکھیے :
”جب آپ کسی کے لیے کچھ کرتے ہیں تو اس کا صلہ کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح جب آپ کو بدلے میں کچھ ملے تو اچھا بننا بہت آسان ہوتا ہے۔ ہاں مگر یہ بہت ہی مشکل ہوتا ہے جب آپ کے علاوہ کوئی نہ جانے کہ آپ کیا اچھا کر رہے ہیں۔“
”اس جھوٹی دنیا میں ایمانداری چاندی کے ورق کی طرح چمکتی ہے۔“
”کسی بھی آدمی کو اگر معاف کیا جائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔“
”داغ پر کبھی شرمندہ نہ ہونا، آخر میں نشانات ہی ہماری زندگی کی کہانی بتاتے ہیں۔ انسان کے پاس بس یہی دو چیزیں رہ جاتی ہیں، ایک وہ چیز جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی اور دوسری وہ چیز جس نے ہمیں شفا بخشی۔“
”برائی کو پھیلانے کے لیے یہی کافی ہے کہ ایسے لوگوں کو ڈھونڈو جو تکلیف میں ہوں اور انھیں دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کر کے بتاؤ کہ ان کی تکالیف کا سبب وہ ہیں۔“
ناول میں مچ البام کے مہارت سے تراشے گئے کرداروں میں بہادر باہمت سچا نیکو جسے حالات کی تلخی اور مصلحت جھوٹ کا دامن پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے، مصائب کے سامنے ڈٹ جانے والا سیبسٹین جو ان موت گاہوں سے بچ نکلنے والا خوش قسمت شخص ہے، اس کا بردبار، سمجھدار اور قانع دادا لازارے، حالات کی سختیاں جھیلتا اس کا بے بس باپ لیو جو اپنے باپ لازارے کی جگہ خود موت قبولتا ہے، درد ناک حالات کا صبر و جوان مردی سے مقابلہ کرتی فینی، نسلی تعصب، سفاکی، مکاری اور ظلم کی مجسم شکل اڈوگراف یہ سبھی ایسے کردار ہیں جو اس اجتماعی المیے کا ہر حصہ قاری پر کھولتے ہوئے اس عظیم ہولوکاسٹ کے کرب و بے بسی کے واضح عکاس ہیں۔
ایک اہم موضوع پر مچ البام کے ایسے عمدہ ناول کو رواں و سہل انداز میں اردو میں منقلب کرنے پر قربان چنا صاحب کا دلی شکریہ۔ اس ناول کو سٹی بک پوائنٹ کراچی نے شائع کیا ہے۔ اس موضوع پر ایک اور قابلِ ذکر، مختصر مگر اہم اور موثر ناول جان بوئن کا The Boy in the striped pajamas ہے، دلچسپی رکھنے والے قارئین کو اس ناول اور اس پر بنی فلم کو بھی اپنے فراغت کے لمحات میں ضرور پڑھنا یا دیکھنا چاہیے۔






