پیغام صلح: کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا


آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے اپنے ایک مضمون ’In Neutral Gear۔ ”میں لکھا ہے کہ جب سیاستدان کوئی بات کہتے ہیں تو مختلف حالات میں اس کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ مثلاً جب سیاست دان کہیں کہ فوج سیاست سے دور رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اقتدار میں ہیں اور ہماری حکومت کو صرف آپ سے خطرہ ہے لہٰذا آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔ اسی طرح جب یہ کہا جاتا ہے کہ فوج اپنی قومی اور آئینی ذمہ داریاں نبھائے تو وہ دراصل یہ عرضی پیش کرنا ہوتا ہے کہ ہم اپوزیشن میں ہیں، اقتدار کے حصول کے لیے ہماری مدد کریں۔ جنرل (ر) اسد درانی کے مطابق جب یہ فرمائش کی جاتی ہے کہ فوج“ نیوٹرل ”رہے تو اس کی تشریح یہ ہے کہ فی الحال حالات کنٹرول میں ہیں، اگر ضرورت پڑی تو ہم آپ کو بلائیں گے۔ جنرل (ر) اسد درانی کا یہ مضمون عمران خان کے آرمی چیف کے نام نئے پیغام پر یاد آیا۔

تحریک عدم اعتماد کے ذریعے 2022 میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ سابقہ اور موجودہ فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ قیدی بننے کے بعد ان کے لہجے میں تلخی مزید بڑھتی چلی گئی۔ عمران خان کے دیے جانے والے پیغامات، میں نہ صرف 8 فروری کے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کی جماعت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

مگر اب انہوں نے اس جارحانہ لہجہ بدل کر دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے جسے مبصرین نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کے نام عمران خان کا پیغام عمر ایوب اور عمران خان کی بہن علیمہ خان بالترتیب 25 اور 26 جولائی کو عمر ایوب اور علیمہ خان لائی ہیں۔ کہ عمران خان نے آرمی چیف کے نام پیغام دیا ہے کہ ’وہ‘ نیوٹرل ’ہو جائیں۔ حکومت کی حمایت نہ کریں بلکہ پیچھے ہٹ جائیں۔ عمر ایوب کے بقول‘ عمران خان نے کہا ہے کہ رواں برس دسمبر میں نئے انتخابات کی تیاری کریں۔ صاف شفاف انتخابات ہوں گے تو تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی۔ علیمہ نے یہ بھی کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف سے کہا ہے کہ وہ‘ سی سی ٹی وی سے دیکھیں اور جو 9 مئی کے مجرم ہیں انھیں ضرور سزا دیں۔ ’عمران خان کے بیان کی وضاحت میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم لڑنا نہیں، سب اداروں سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پیغام اسی وقت قبول ہو سکتا ہے جب وہ پورا سچ بولیں کہ انہوں نے:

• پی ٹی آئی کو فوج سے لڑایا۔

• جنرل عاصم منیر کی تقرری روکنے کے لئے پنڈی پر یلغار کی۔

• خود پر کبھی بیگم پر قاتلانہ حملوں کے الزامات لگائے۔

• 9 مئی کو عاصم منیر کا تختہ الٹنے کے لئے فوج میں بغاوت کی سازش کی۔

• دو سو سے زیادہ فوجی تنصیبات اور شہدا ءکی یادگاروں پر حملے کرائے۔

• فضائیہ کے طیارے جلائے۔

• ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کا مضحکہ اڑایا۔

• سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور فوج کو گالیاں دلوائیں۔

• بیرون ملک فوج اور چیف کے خلاف بسوں پر اشتہاری مہم چلوائی

• آرمی چیف کو اس عہد کا یحییٰ خان باور کرانے والی وڈیو بنوائی۔

• جیل میں بیٹھ کر فوج اور چیف کے خلاف مضامین لکھے۔ آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔ امریکی کانگریس سے پاکستان مخالف قرارداد پاس کرائی وغیرہ۔

تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کہتے ہیں کہ عمران خان کا یہ پیغام آرمی چیف کو موقع دیتا ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ دیں۔ زلفی بخاری کے بقول ملک کے سب سے بڑے سیاسی رہنما ہونے کے ناتے عمران خان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کی خاطر زخم بھریں اور ایسے مواقع فراہم کرتے رہیں۔ اس وقت عمران خان یہی کچھ کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ آرمی چیف بھی پاکستان کے زخم بھرنے کا ہی سوچ رہے ہوں گے۔ اسے کہتے ہیں کہ ”رسی جل گئی پر بل نہ گئے“ صلح بھی کرنی ہے مگر اپنی ٹانگ بھی اوپر رکھنی ہے۔ بات چیت، مذاکرات، ڈائیلاگ سیاست کا اہم پہلو ہے۔ مگراس کے لیے غلطیاں تسلیم کرنی پڑتی ہیں۔ نہ کہ اپنی غلطیاں دوسروں پر تھوپ کر دباؤ کے ماحول کے ذریعے ڈٹ جانے کا تاثر دینا اور فریق دوم سے یک طرفہ رعایت کی امید رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔

بعض مبصرین کی رائے میں اس نئی حکمت عملی سے تحریک انصاف یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ کوئی ’بیک ڈور ڈپلومیسی‘ چل رہی ہے مگر بظاہر ایسا نہیں۔ ماضی کے واقعات سے یہی پتا چلتا ہے کہ کوئی بھی اپنے مفاد کے بغیر صلح کرتا ہے نہ مفاہمت۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ایک واضح پیغام تھی۔ تحریک انصاف شاید اس لیے بھی مفاہمت چاہتی ہے کہ عمران خان کو کہیں 9 مئی کے مقدمات میں فوج کی حراست میں نہ دے دیا جائے۔ فوج کی طرف سے سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی اور ڈیجیٹل دہشت گردی کی اصطلاحات سے بھی تحریک انصاف کو سخت پیغام ملا کہ فوج 9 مئی کو نہیں بھول رہی۔ اگرچہ عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے مگر ساتھ یہ ڈر بھی ہے کہ معاملات فوجی عدالتوں میں نہ پہنچ جائیں۔ اس وقت ان کے کارکن بھی احتجاج کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے اب عمران خان ڈیل سے معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ’ہم کہتے ہیں بات کریں، آپ کہتے ہیں دھرنا کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ آئیں، بیٹھیں، سلجھائیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ملک گیر پہیہ جام کریں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو پیغام دیا کہ‘ بات کرو، برباد مت کرو، سلجھاؤ، الجھاؤ مت۔ مصدق ملک کی پریس کانفرنس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو جواب میں یہ پیغام دے دیا کہ ’مذاکرات ہم نہیں کریں گے بلکہ سیاسی جماعتیں آپس میں معاملات طے کریں۔ اسٹیبلشمنٹ سے پنجہ آزمائی کے بعد عمران خان کو یہ اندازہ ہونے لگا ہے، کہ دیوار بہت اونچی اور ریاست کی طاقت کہیں زیادہ ہے۔

بہر حال پینترے بدلنا عمران کا وتیرہ ہے۔ کبھی میر جعفر اور میر صادق کا بیانیہ، کبھی سپہ سالار کے القابات۔ کبھی قبر تک پیچھا کرنے کی دھمکیاں اور کبھی نئی درخواست۔

دیکھیں ”نیوٹرل“ کی اصطلاح کی نئی تفسیر اور تعبیر کیا سامنے آتی ہے۔ ماضی میں خان صاحب کہا کرتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (اچھائی اور برائی) کی لڑائی ہو، ملک کے خلاف سازشیں ہو رہی ہوں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں تو نیوٹرل ہوں۔ اللہ نے اس موقع پر انسان کو نیوٹرل رہنے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس شعور نہیں ہوتا، اچھے اور برے کی تمیز نہیں ہوتی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی ”نظریاتی سیاست“ اقتدار کے حصول کے گرد گھومتی ہے وہ جلد از جلد اپنا مشن کی تکمیل کے خواہاں ہیں۔ اس کے لئے روپ اور نظریہ تبدیل کرنے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ چند دن پہلے فوجی قیادت اور حکومت کو ”انسانی حقوق اور جمہوریت“ کی آڑ میں نئے نئے بیانیوں سے نشانہ بنانے والے عمران خان ”اقتدار کے لیے فوجی قیادت کے سامنے اس لیے“ سرتسلیم خم ”کر رہے ہیں تاکہ فوج کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ پائیں۔

“ ڈرٹی ہیری ”کے القابات سے پکارنے، دنیا بھر میں تضحیک کرنے اور فوج کی اعلیٰ قیادت کو دہشت گرد قرار دلانے کے لیے دن رات ایک کرنے والے عمران خان اب عنایات کے خواستگار ہیں۔ عمران خان نے نوجوانوں کو تبدیلی اور غلامی سے آزادی کے نام پر گمراہ کرنے کے مشن میں کامیاب ہوئے کے بعد دوسرا حملہ پاکستان کی معیشت پر کیا۔ ریکارڈ قرضے لئے۔ ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آنے دی، سی پیک بند کرایا اور قومی ائر لائنز کا سرکاری طور پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے لائسنس منسوخ کرا کے اس کی پروازوں پر پابندی لگوائی جو اب تک جاری ہے۔ پاکستان کو دیوالیہ کرنے کا مشن تقریباً پورا کر دکھایا۔ پاکستان اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے خلاف مہم اب بھی سوشل میڈیا ٹیم کے ہیڈ آفس امریکہ سے چلائی جا رہی ہے، جو عمران خان کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں۔ عمران خان پیغام صلح کے ذریعے فوج کو کہنا تو چاہ رہے ہیں کہ:

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔

لیکن کیا جھوٹے الزامات اور ہمہ گیر معاندانہ مہمات کے خاتمے اور غلطیوں کے صدق دل سے اعتراف کیے بغیر یہ ممکن ہے۔ یہ آنے والا وقت بہت جلد بتا دے گا۔

Facebook Comments HS