حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کر دیا گیا


تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا گیا، ایران کے نیم فوجی پاسداران انقلاب نے بدھ کو اعلان کیا، لیکن فوری طور پر کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

جیو نیوز میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 دیگر کو اغوا کر لیا گیا تھا، پر ہنیہ اور حماس کے دیگر رہنماؤں کو قتل کرنے کے عزم کے بعد اسرائیل کو فوری طور پر اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

ہنیہ منگل کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری کے لیے تہران میں تھیں۔

ایران نے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ہنیہ کو کیسے مارا گیا۔ واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تجزیہ کاروں نے فوری طور پر اس قتل کا الزام اسرائیل پر ڈال دیا۔

اسرائیل نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن وہ عام طور پر ان کی موساد انٹیلی جنس ایجنسی کے ذریعے کیے جانے والے قتل پر عوامی تبصرے نہیں کرتا ہے۔

اسماعیل ہنیہ کے قتل پر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ حماس کے سربراہ پر حملے کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینی عوام، عرب عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

حماس رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایک بزدلانہ فعل ہے جس کی سزا دی جائے گی، یہ ایک سنگین واقعہ ہے، ہنیہ کے قتل سے اسرائیل کو اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔

خبر ایجنسی کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ فلسطینی گروپ کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ تھے، وہ غزہ جنگ بندی مذاکرات میں بطور مذاکرات کار شریک تھے، غزہ میں سفری پابندیوں سے بچنے کیلئے اسماعیل ہنیہ ترکیے اور قطر میں رہتے تھے۔

Facebook Comments HS