کتاب خوشی کی راہ اور زندگی
انسان کی زندگی میں کیا چیز سب سے ضروری ہے؟
کامیابی اور خوشی کا باہمی تعلق کیا ہے؟
خوشی کا حصول اپنی ساخت میں ایک انفرادی عمل ہے یا اجتماعی؟
خوشی بنیادی طور پر کن چیزوں سے عبارت ہے؟
کیا خوش رہنا ممکن ہے؟
انسان کی زندگی کا بنیادی اصول ”بقا“ جاری رکھنا ہے اور ”بقا“ کے بہتر حصول کا تعلق ”خوشی“ سے ہے۔
زندگی میں ہمارا سب سے اہم مسئلہ ”خوشی“ ہے۔
ممکن ہے آج کی دنیا ایک پرمسرت دنیا کے طور پر ترتیب دی گئی ہو، یا نہیں ترتیب دی گئی ہو۔ ہو سکتا ہے اس دنیا میں آپ کے لیے خوش رہنا ممکن ہو یا ہو سکتا ہے کہ نہ ہو۔ پھر بھی ہم میں تقریباً سب لوگ زندگانی کے بارے میں خوش اور شادمان ہونے کا مقصد رکھتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات جو میں نے پڑھی اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے بھی پڑھی ہو۔ بہت سارے فلسفیوں نے اسے بارہا کہا ہے ”حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام خوشیاں جنہیں آپ کبھی بھی حاصل کر پائیں گے وہ آپ ہی کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
ایسا کیا ہے کہ جب بہت چھوٹی عمر میں آپ دنیا کو دیکھتے تھے تو وہ بہت پرلطف اور زندگی امید سے بھرپور تھی اور اب جب آپ بڑے ہیں تو وہی دنیا آپ کے لیے خوشگوار نہیں۔ تو کیا بدل گیا ہے؟ وہی دنیا ہے مگر اب آپ کے اس دنیا کو دیکھنے کا انداز اور آپ کا رویہ بدل گیا ہے۔ زندگی اتنی نہیں بدلتی جتنا آپ بدلتے ہیں۔ زندگی سے متعلق ایک شخص کا رویہ اس کی زندگی میں ہر ممکنہ فرق پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ اصول یا کلیہ ہے جس پر ایک شخص کی خوشی کا انحصار ہے۔
زندگی میں کامیابی اور ناکامی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر سامنا کرنے کا انداز اور اس بارے میں آپ کا رویہ فرق متعین کرتا ہے۔ اگر آپ کامیابی کا سامنا کر سکتے ہیں تو آپ اسے برقرار رکھ سکتے ہیں اور اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے اجزائے ترکیبی کیا ہے تو آپ خوشی کو حاصل کر سکتے ہی۔ اسی طرح اگر آپ ایک تجزیاتی نقطہ نظر اور خوشدلی سے ناکامی کا سامنا کر سکتے ہیں اور ناکامی کے پیچھے اسباب کو پہچان سکتے ہیں اور ان کا سدباب کر سکتے ہیں تو آپ خوشی کو حاصل، برقرار اور جاری رکھ سکتے ہیں۔
ایک عام آدمی کس طرح اس فلسفے کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ بذات خود ایک اہم ترین سوال ہے اور اس کا بہت سادہ، بامعنی اور قابل عمل جواب ہر معاشرے کی ایک لازمی ضرورت ہے۔
مشہور انسان دوست فلسفی، ماہر تعلیم، اسکالر، مصنف اور دانش ور ایل رون ہبرڈ کی تحریر کردہ ایک سادہ زبان، قابل عمل کتاب ”خوشی کی راہ“ پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ یہ کتاب نہ صرف سادہ، بامعنی اور قابل عمل جوابات پر مشتمل ہے جسے کسی بھی معاشرے، ادارے، ثقافت، تہذیب، پیشے، نقطہ نظر، سلسلہ سوچ و فکر، زبان، رنگ و نسل، مذہب اور قوم سے تعلق رکھنے والے فرد اور افراد کے لئے لکھا گیا ہے۔ جس کا دنیا بھر کی سو ( 100 ) سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں اس کتاب دی وے ٹو ہیپی نیس (خوشی کی راہ) کی تقسیم اور اس کتاب ”خوشی کی راہ“ پر مبنی سیمینارز، ورکشاپس سے لوگوں کی زندگی میں خوشی کے معیار کو بہتر کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے بعد ان کی زندگی میں عملی طور پر بہتری، کامیابی اور خوشی کی شرح میں قابل ذکر اضافہ مشاہدے میں آیا ہے۔ کتاب ”خوشی کی راہ“ جس کا انگلش نام ”دی وے ٹو ہیپی نیس“ ہے پر مبنی آگاہی کے مختلف سماجی پروگرامز، مختلف فلاحی، معاشرتی اور سماجی اداروں، مشہور اشخاص اور مختلف سرکاری، کاروباری اور نجی اداروں کے اشتراک و تعاون سے جاری ہیں۔ جس کی ذمہ داری پوری دنیا میں نان پرافٹ ایبل عالمی ادارے دی وے ٹو ہیپی نیس فاؤنڈیشن کے سر ہے۔
.
دی وے ٹو ہیپی نیس فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ www.twth.org پر موجود اس کتاب ”خوشی کی راہ“ کے مختلف ابواب پر مبنی وڈیوز کو دیکھ کر اسے زندگی میں استعمال کرنے کے لیے سادہ طور پر اور آسانی سے سمجھنا اور بھی ممکن ہو گیا ہے۔ ایک بہت ہی ضروری، اہم بات یہ سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ ہمارے اطراف میں موجود تمام لوگ ہماری ”بقا“ اور ”خوشی“ کے لیے کیوں بہت زیادہ اہم ہیں؟
اور یہ کہ ہمارے ہر اک عمل سے ایک اثر ( impact ) مرتب ہوتا ہے جو دوسروں پر اثر کرتا ہے۔ کتاب خوشی کی راہ میں بیان کی گئی بہت سی سادہ مگر اہم باتیں جو جاننے کی حد تک بہت سارے لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں مگر زندگی میں ان کے استعمال اور ان کی مدد سے اپنی اور دوسروں کی زندگی میں بہتری اور خوشی کا حصول وہ کسوٹی ہے جس کے ذریعے سننے اور عمل کے فرق کو دیکھا، سمجھا اور عملی طور پر کرنے کے لیے صحیح طور پر جانا جا سکتا ہے۔
انسان کی زندگی میں خوشیاں اس کے رویہ سے براہ راست منسلک ہیں اور اس کا تعلق اس کی روزمرہ زندگی کے مختلف کیے جانے والے کاموں اور فہم سے ہے۔
کتاب کے اولین ابواب اک سادہ سے اصول ذاتی صفائی، خود کا خیال رکھنا، صاف کپڑے پہننے سے شروع ہو کر
مزید ابواب
”چوری نہ کریں“ ،
”بچوں سے محبت اور ان کی مدد کریں“ ،
”والدین کی عزت اور مدد کریں“ ،
بھروسے کے قابل بنیں ”،
”قتل نہ کریں“ ،
” اچھی مثال قائم کریں“ ،
” غیر قانونی کام نہ کریں“ ،
” سچ کے ساتھ زندہ رہیں“ ،
” نیک نیت لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں“ ،
” قابل بنیں“ ،
”دوسروں کے ساتھ وہ سلوک کریں جس کی آپ اپنے لیے دوسروں سے توقع کرتے ہیں“ ،
” خوش رہیں اور پھلیں پھولیں“
اور دیگر خوشی کی راہ کے کتابچہ میں بیان کردہ سادہ مگر بہت کارگر اکیس اصولوں کو ایک سائنسی طور پر منظم ترتیب میں عملی زندگی کی مثالوں کے ساتھ سمجھتے ہوئے ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جس راستے پر سفر کرنے سے زندگی اور ماحول میں خوشی کی سطح یا شرح میں مزید اضافہ کر کے قائم رکھا جانا عین ممکن ہے۔
موجودہ وقت میں ہمارے معاشرے میں بہت شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر معاشرے میں بہتری اور خوشی کے فروغ کی ذمہ داری لی جائے اور معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے لئے اک خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کیا جائے تاکہ مثبت اخلاقی اقدار، خوشی اور بہتری کے پھیلاؤ کے لیے سادہ اور قابل عمل طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنے کی بھی بہت ضرورت ہے کہ کیا ہم یہ ذمہ داری کامیابی سے پوری کر پائیں گے؟ ،
خود سے پوچھا جانے والا ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ آخر یہ ذمہ داری کیوں اتنی اہم ہے؟ ، اور کیا دنیا کے دوسرے تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے ممالک، شہروں اور خطوں کی طرح ہم اس عمل میں کامیاب ہو سکیں گے؟ کیا ہم اپنے اطراف، علاقے، شہر، معاشرے اور ملک میں ”خوشی کی راہ“ کو سب کے لیے قابل حصول بنا سکیں گے؟
سوال آپ کا ؟ ،
سوال آپ سے؟


