نائب صدارت کے نامزد امیدوار امریکی "ہاتو” کا نوحہ

ہاتو کی اصطلاح عام طور پر کشمیر کے پہاڑوں میں بسنے والے ایسے لوگوں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے جو انتہائی غربت میں پیدا ہوئے ہوں۔ جن کو بچپن ہی سے احساس ہوتا ہے کہ سوائے بار برداری کے ان کی قسمت میں کچھ اور نہیں لکھا۔ وہ روزگار کمانے کا اور کوئی ہنر نہیں جانتے۔ ہر سال گرمیوں کے شروع میں میدانوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور پیٹھ پر دنیا کا بوجھ اٹھا کر ، محنت مزدوری کر کے دو چار پیسے بچا کر واپس پہاڑوں میں سردیاں گزارنے چلے جاتے ہیں۔
امریکہ اگرچہ دنیا کا سب سے دولت مند ملک ہے لیکن اس کے باوجود اپالیشین پہاڑی سلسلے میں کچھ ایسی آبادیاں ہیں جہاں کے باسی آج بھی غربت میں کسی کشمیری ہاتو سے کم نہیں۔ یہاں کے رہنے والے اپنے انداز کے ہاتو ہیں اور ہلبلی کہلاتے ہیں۔ کشمیری ہاتو غربت، بے کسی، بے بسی اور بے چارگی کے شکار تو ہیں، لیکن فساد، جرائم، تحقیر اور تضحیک کے عناصر ان میں نمایاں نہیں۔ اس کے بر عکس سفید فام امریکی ہاتو یعنی ہلبلی خود بھی تعصب سے بھرے ہیں اور ان کو باقی معاشرہ انتہائی تضحیک و تحقیر سے دیکھتا ہے۔ کٹّر متعصب لوگ ذلت سے انہیں سفید کچرا کہتے ہیں۔
کنٹکی ریاست کے شہر جیکسن کے نزدیک ایک ٹوٹا پھوٹا گھر ہے جہاں کافی ساری چھت ابھی بھی ترپال سے ڈھکی ہوئی ہے اور پورچ کوڑے کرکٹ سے اٹا ہوا ہے۔ یہ گھر تیس سال پہلے ایک ایسے بچے کی پناہ گاہ تھی جہاں وہ اوہائیو ریاست کی دکھی زندگی سے فرار ہو کر اپنی نانی کے پاس بھاگ آتا تھا۔
یہ وہی بچہ تھا جو آج نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کی نائب صدارت کا نامزد امیدوار ہے۔ جے ڈی وانس کا تعلق اسی پس ماندہ قبیلے سے ہے۔ جے ڈی ان چند لوگوں میں شامل ہیں جو افلاس کی اس دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ کہانی کا اتنا حصہ قابل تعریف ہے۔ لیکن امریکہ میں ایک ضرب المثل خاصی مقبول ہے۔ وہ یہ کہ آپ لڑکی کو تو دیہات سے نکال سکتے ہیں لیکن دیہات کو لڑکی سے نہیں نکال سکتے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان اپنی فطرت نہیں بدل سکتا۔ تعلیمی اور معاشی طور پر تو جے ڈی وانس نے بے انتہا مشکل حالات کے باوجود ایک شاندار کامیابی حاصل کی لیکن اپنی ذہنیت کو بدلنے میں ناکام رہے اور ہلبلی یعنی امریکی ہاتو کے ہاتو ہی رہے۔ وہ دائیں بازو کے انتہا پسند سیاست دان ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی ان کے خیالات عورتوں کے بارے میں ذلت آمیز ہیں۔ مصلحت پرستی اور ابن الوقتی کی ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔
جے۔ ڈ ی۔ و انس نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے ہلبلی کا نوحہ (Hillbilly Elegy)۔ اس کتاب میں وانس نے اپنی غربت، خاندان میں منشیات کے استعمال اور جرائم زدہ حالات کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے نہایت ہنر مندی اور چالاکی سے استعمال کیا ہے۔
سیاست دان اپنا پہلا فرض یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں الیکشن جیتنا ہے۔ اور اگر ان کی راہ میں بے لوثی، ایمانداری یا اخلاقیات کی قسم کی تکلیف دہ رکاوٹیں حائل ہوں تو ان پر قابو پانا ہے۔ یہ صرف پاکستانی سیاست دانوں کی ہی اجارہ داری نہیں کہ طاقت کے حصول کے لئے تسبیح گھمانے، جمعہ کی چھٹی، شراب نوشی پر پابندی، ریاست مدینہ کے خواب، کرپشن کے الزام میں حزب مخالف کی گرفتاریاں اور پھر خود چوری میں پکڑے جانے سے لے کر ہر منافقانہ بے اصولی اور غیر اخلاقی حرکت کے مرتکب ہوں۔ دنیا کے امیر ترین، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں اولین اور ملٹری میں سب سے طاقتور ملک امریکہ میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ جے ڈی وانس کے آبا و اجداد اسی ہلبلی ماحول سے آئے تھے جہاں اپنے خود غرضانہ مقاصد کی تکمیل کے لئے سب کچھ چلتا ہے۔
آٹھ سال پہلے لکھی گئی کتاب میں اپنے خاندان کے بارے میں خود مصنف نے بہت سی ہولناک باتوں کا انکشاف کیا ہے۔ جیکسن کی غربت سے تنگ آ کر جے ڈی وانس کے نانا اور نانی نے اوہائیو کے شہر مڈل ٹاؤن میں منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ نانا سترہ سال کے اور نانی صرف چودہ سال کی تھی اور دوران سفر حاملہ تھی جس کا مڈل ٹاؤن پہنچنے پر اسقاط ہو گیا۔
اس کسمپرسی کے عالم کے باوجود جے ڈی وانس کے نانا کو شراب نوشی کی لت پڑ گئی تھی۔ ایک دن اس کی بیوی نے اسے الٹی میٹم دیا کہ اگر وہ اب شراب پی کر گھر آیا تو وہ اس کو جان سے مار ڈالے گی۔ رات گئے وہ نشے میں دھت گھر لوٹا اور آتے ہی بستر پر گر کر خراٹے لینے شروع کر دیے۔ اس کی بیوی نے پٹرول سے بھرا کنستر اٹھایا، میاں پر اس کا چھڑکاؤ کیا۔ ماچس جلائی اور اسے نذر آتش کر دیا۔ جے ڈی کی خالہ نے جو خود بہت کم عمر تھی بڑی مشکل سے آگ پر قابو پایا۔
جے ڈی وانس جو اب صرف انتالیس سال کا ہے اسی مڈل ٹاؤن میں پیدا ہوا۔ اس کی کتاب ماں کے شرمناک اور ظالمانہ کرتوتوں سے بھری پڑی ہے۔ اس نے وہ واقعہ بیان کیا ہے جو اس کی زندگی کی ڈگر بدلنے کا موجب بنا۔ ایک دن جب ماں بیٹا کار میں کہیں جا رہے تھے، ماں کو جے ڈی پر اس قدر غصہ آیا کہ اس نے گاڑی روکی اور کہا کہ وہ وہیں پر اس کی چمڑی ادھیڑ دے گی۔ جے ڈی بڑی مشکل سے کار سے فرار ہوا اور ایک ہمسائے کے گھر پناہ لی جس نے پولیس کو بلا کر بچے کی جان بچائی لیکن بقول جے ڈی جب کیس عدالت تک پہنچا تو اس نے جھوٹ بولا اور یہ کہہ کر ماں کو بری کرا لیا کہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا۔
ماں کے اس وحشیانہ سلوک سے تنگ آ کر جے ڈی وانس اپنی نانی کے پاس رہنے لگا۔ اس نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ غربت کے اس چکر سے ہر حال میں باہر نکلے گا۔ مقامی سکولوں میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جے ڈی فوج میں بھرتی ہو گیا اور تین سال کے بعد اوہائیو سٹیٹ سے گریجویشن کرنے کے بعد ییل لاء سکول سے قانون کا امتحان پاس کیا۔ وہیں پر اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک ادبی اور تعلیمی حلقہ اس لئے قائم کیا کہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس جیسے سفید نسل کے لوگ ایک مرتبہ پسماندگی کے چنگل میں پھنس جائیں تو اس سے نکلنے کی ایسی جدوجہد کیوں نہیں کرتے جیسے اس نے کی ہے۔ یہیں پر اس کی ملاقات اوشا نامی ایک ہندوستانی لڑکی سے ہوئی جو اب اس کی بیوی ہے۔
اگرچہ ڈونالڈ ٹرمپ اور رپبلکن پارٹی کے لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے لیکن جے ڈی وانس کی سفید فام نسل پرستی کے آثار اسی وقت ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے۔ قومی سطح پر جے۔ ڈی۔ و انس اس وقت نمایاں ہوا جب اس نے اپنے کالج کے ساتھیوں سے سفید فام نسل کی پسماندگی کے بحث مباحثے کی کارروائیوں کو قلم بند کیا، انہیں اپنی زندگی کے تجربات سے جوڑا اور کتاب کا نام رکھا، Hillbilly Elegy یعنی پہاڑی علاقے کے پسماندہ لوگوں کا نوحہ۔ اس کتاب میں ہر وہ بات تھی جو امریکہ کا ایک عام قاری چاہتا ہے۔ مار پیٹ بھی تھی۔ سنڈریلا کی کہانی بھی۔ ٹاٹ سے مخمل تک کا سفر بھی تھا۔ سیاست بھی اور قتل و غارت بھی۔ کتاب نہ صرف مقبول عام ہوئی بلکہ اس پر ایک فلم بھی بن گئی جس کا نام بھی وہی تھا جو کتاب کا ۔
اب جے ڈی وانس امریکہ کے عوام میں ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کی نظروں میں بھی آ گیا تھا جن کو عرف عام میں بادشاہ گر کہتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹرمپ نیا نیا صدر منتخب ہوا تھا۔ وانس کو ٹرمپ کا ترجمان کہا جانے لگا حالانکہ اس سے پہلے وانس ٹرمپ کے بہت خلاف تھا۔ وہ ٹرمپ کو بے وقوف، قابل مذمت اور امریکہ کا ہٹلر کہتا اور ٹرمپ کو کسی حال میں صدارت کے عہدے کے لائق نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن بے ضمیری کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ کامیابی سے سینٹ کا الیکشن لڑنے اور جیتنے کے بعد جب اس کا نام پہچانا جانے لگا اور بادشاہ گروں نے اس کے سیاسی کیریئر میں دلچسپی کا اظہار کیا تو اس نے بھی قلا بازی لگائی اور ٹرمپ کی عظمت کے گیت گانے شروع کر دیے۔
حال ہی میں منعقدہ رپبلکن کنونشن میں جے ڈی وانس نے ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر خرابی کا ذمہ دار بائیڈن کو قرار دیا۔ اسلحہ کے کلچر کو تقدیس دی۔ ٹرمپ کے لئے اس کی تحقیر اب مکمل طور پر چاپلوسی میں بدل گئی تھی۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اس کی ماں بھی کنونشن میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اب وہ پچھلے دس سال سے نشے کی لت کو چھوڑ چکی ہے۔
کنونشن کے تیسرے دن جب بائیڈن نے صدارت کی امیدواری سے دستبرداری کا اعلان کیا تو رپبلکن پارٹی کو احساس ہوا کہ ایک ناتجربہ کار خوشامدی کو نائب صدارت کی امیدواری پر نامزد کر کے شاید انہوں نے غلطی کی ہے۔
جس سرعت کے ساتھ نومبر میں ہونے والے انتخابات کی صورت حال بدل رہی ہے، کوئی بعید نہیں کہ جب تک آپ یہ مضمون پڑھیں ٹرمپ نے جے ڈی وانس کو فائر کر کے فارغ کر دیا ہو۔
جے۔ ڈی کی کہانی سے ایک سبق آشکارا ہے وہ یہ کہ حالات کتنے بھی نامساعد ہوں لازم نہیں کہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں۔ وہ ہاتو یا ہلبلی جو سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ مفلسی کے ماحول میں پیدا ہوئے ہیں اس لئے اب افلاس ہی ان کا مقدر ہے، غلط فہمی کا شکار ہیں۔ قوت ارادی کے ساتھ مشقت اور مقدر سے ان کی زندگی بھی بدل سکتی ہے۔ جب تک انسان میں زندگی کی ایک رمق بھی باقی ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر جے ڈی کی قسمت ایسے بدل سکتی ہے تو انہیں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

