برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
آخر آج اتنے زیادہ دنگوں، فسادات اور مسجد پر حملے جیسی کارروائیوں کے بعد برطانوی عدالت نے مجرم کا نام بتا ہی دیا ہے۔ مورخہ 29 جولائی کو برطانیہ کے ساحلی شہر ساؤتھ پورٹ میں بچوں کے ایک ڈانس سکول اور یوگا کلب میں ایک سانحہ ہوا ہے۔ جہاں ایک 17 سالہ نوجوان چاقو لے کر داخل ہوا اور وہاں پر موجود بچیوں پر حملہ کر دیا۔ اس سنٹر میں یوگا اور ڈانس کلاس میں جانے والے بچوں کی عمریں صرف 7 سے 11 سال کی ہوتی ہیں۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر چاقو سے نہ صرف بچوں کو بلکہ ان کی ٹیچر کو بھی شدید زخمی کر دیا۔ جس کے نتیجے میں تین ننھی معصوم کلیاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جن کی عمریں صرف 6 سال، 7 سال اور 9 سال تھیں۔ اس کے علاوہ آٹھ مزید بچوں سمیت دس افراد زخمی ہوئے۔ یہ خبر اتنی ہولناک تھی کہ اس کی دہشت اور صدمے سے نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر کا میڈیا لرز اٹھا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار تو کر لیا لیکن نوجوان کی اپنی بھی عمر چونکہ 17 سال تھی اس لئے برطانوی قانون کے مطابق اس کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری جانب عوام میں غم و غصہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ اس پر دائیں بازو کی پارٹیوں اور فیک نیوز نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور سوشل میڈیا پر شر پسندوں کی جانب سے یہ مشہور کر دیا گیا کہ نوجوان ایک پناہ گزین ہے اور مسلمان ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے یورپ اور برطانیہ میں ملزم کو مسلمان ظاہر کرنے والی افواہ بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔ ابھی پچھلے مہینے ہی برطانیہ کے شہر لیڈز میں خانہ بدوش رومن کمیونٹی اور برطانوی پولیس میں بچوں کی تحویل کے معاملے میں جھڑپیں ہوئی تھیں تو اس واقعہ کو بھی شروع میں مسلمانوں کے کھاتے میں ہی ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بقول شاعر برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر ۔ لیڈز والے واقعہ میں تو شر پسندوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا تو انہوں نے ساؤتھ پورٹ والے واقعے میں کسر نکال لی اور وہ لیورپول، لندن اور ساؤتھ پورٹ میں عوام کا مشتعل ہجوم باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے
ساؤتھ پورٹ کی ایک مقامی مسجد پر تو باقاعدہ دھاوا بول دیا گیا۔ مسجد ایک باقاعدہ جنگ کا نقشہ پیش کر رہی تھی جہاں برطانوی پولیس لوگوں کو روک رہی تھی لیکن ہجوم فیک نیوز اور سوشل میڈیا کے منحوس پروپیگنڈے کے باعث ورغلایا جا چکا تھا۔ ان فسادات میں 53 پولیس افسران زخمی ہوئے جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ہجوم نے اینٹوں، بوتلوں اور پتھروں سے حملہ کیا۔ ایک شہری کے پاس سے چاقو بھی برآمد ہوا۔ برطانیہ بھر میں حالات بے قابو ہوتے رہے۔ حکومت اپنے شہریوں کو بار بار یہ یقین دلاتی رہی کہ حملہ آور کا تعلق مسلمانوں سے نہیں ہے۔ لیکن سوشل میڈیا اور فیک نیوز کا جن اب ایسا بے قابو ہو چکا ہے کہ اسے دوبارہ بوتل میں لانا ممکن نہیں ہے
آخر وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کو ذاتی دلچسپی لینا پڑی اور انہوں نے پولیس کو کھلے اختیارات دیے جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد فسادیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ نفرت کے ان سوداگروں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹیں گے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ نفرت پھیلانا بھی باقاعدہ ایک جرم ہے انہوں نے پولیس چیف کے ساتھ خصوصی ملاقات کی ہے اور بیان دیا ہے کہ وہ مسلمان کمیونٹی کو بچانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
اتنے فسادات اور ہنگاموں کے بعد آج برطانوی جج نے ملزم کا نام ظاہر کر دیا ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ یہ خصوصی اقدام ملک میں جاری افواہوں اور فسادات کا قلع قمع کرنے کے لئے ہے۔ ویسے بھی ملزم کی عمر اگلے ہفتے اٹھارہ سال ہونے والی ہے۔ ملزم کا نام ہے ایکسل موگوانہ رادوکبانا جو کہ برطانیہ کے شہر کارڈیف میں پیدا ہوا اور یہاں ہی پلا بڑھا ہے۔ اس کے والدین کا تعلق مسیحی مذہب سے ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی حالت وہ ہو چکی ہے کہ ایک گاؤں میں ایک چوری کا واقعہ ہوا۔ چودھریوں کے ڈیرے پر اکٹھ تھا کہ ایک غریب مزارع اٹھ کر نلکے کی طرف جانے لگا تو لوگوں نے پوچھا کدھر جا رہے ہو۔ وہ بولا میں وضو کر آؤں کیونکہ آخر میں قسم تو آپ نے صرف مجھ ہی سے اٹھوانی ہے۔


