درویش کی کٹیا کے نئے مہمان۔ نعیم اشرف


ڈاکٹر خالد سہیل

درویش کی کٹیا میں جو درویش نئے مہمان بن کر آئے ان کا اسم گرامی نعیم اشرف ہے۔ نعیم اشرف نے دل کی باتیں سنیں بھی اور سنائیں بھی۔ انہوں نے جب مجھ سے ایک غزل سننے کی فرمائش کی تو میں نے عرض کیا

ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں
کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں
ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے
یہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں
بظاہر جو بہت ہی کم سخن تھے
کتابوں میں مگر جوہر کھلے ہیں
جو بالوں میں سفیدی آ گئی ہے
تو پھر جا کر کہیں خود پر کھلے ہیں

میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ادیب، دانشور اور مترجم نعیم اشرف سے ایک دوستانہ ادبی مکالمہ کئی برسوں سے چل رہا ہے۔

نعیم اشرف سے میرا تعارف رابعہ الربا نے یہ کہہ کر کروایا تھا کہ نعیم اشرف نے ایلن شفق کے ناول
FORTY RULES OF LOVE

کا ترجمہ اردو میں اور اردو کے ایک سو سے زیادہ افسانوں کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہے۔ یہ سن کر میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی کاوش

درویشوں کے ڈیرے
کا ترجمہ انگریزی میں کریں۔ نعیم اشرف نے میری درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور ہماری کتاب کا ترجمہ
DARVESH’S INN
کے نام سے کیا۔

اس کے بعد نعیم اشرف کا اور میرا ایک طویل تحریری ادبی مکالمہ ہوا جس میں ہم نے بہت سے ناولوں کا ادبی اور ناول نگاروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کیا۔ ادبی محبت ناموں کی وہ کتاب

LITERARY LOVE LETTERS
کے نام سے چھپی۔

پھر میں نے نعیم اشرف کا تعارف اپنے بچپن کے دوست سہیل زبیری سے کروایا جن کے ساتھ میں نے خطوط کا تبادلہ کیا تھا اور پھر اس کتاب کو

RELIGION, SCIENCE AND PSYCHOLOGY
کا نام دیا تھا۔ نعیم اشرف نے ان سائنسی اور نفسیاتی خطوط کے مجموعے کو
مذہب، سائنس اور نفسیات
کے نام سے چھپوایا جسے پاکستان کے عوام و خواص کو بہت پسند کیا۔
اس دفعہ نعیم اشرف درویش کی کٹیا میں تشریف لائے تو اپنے ساتھ میری چار سو صفحات کی کتاب
CREATIVE MINORITY
کا اردو ترجمہ لے کر آئے۔

میں نے نعیم اشرف کو اپنے شہر وھٹبی کی سیر کروائی اور انہیں بتایا کہ جب میں 1984 میں وھٹبی آیا تھا تو اس کی آبادی صرف تیس ہزار تھی۔ چار دہائیوں میں اس کی آبادی چار گنا بڑھ گئی ہے۔ یہ شہر پرسکون ہے۔ اس میں ٹریفک کا زیادہ شور نہیں ہے۔ اس شہر میں درویش کی کٹیا ہے جہاں میں ایک پرسکون زندگی گزارتا ہوں

عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں

میں نعیم اشرف کو وھٹبی سے بیس کلومیٹر دور جھیل سکوکاگ دکھانے لے گیا۔ جھیل کی کنارے کائروپریکٹر طریقہ علاج کے بانی جوزف پامر کے پارک میں ایک بینچ پر بیٹھے ہم نے آئس کریم بھی کھائی اور تراجم کے حوالے سے گفتگو بھی کی۔ میں نے نعیم اشرف سے کہا کہ ایک وہ دور تھا جب عالمی ادب کا ترجمہ کرنے والے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے کیونکہ وہ دو ملکوں، دو زبانوں اور دو ثقافتوں کے درمیان پل کا کام کرتے تھے لیکن اردو ادب میں ان کے ساتھ سوتیلے بچوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں ترجمے کی صنف کو وہ معتبر مقام نہیں ملا جو غزل، نظم، افسانے اور ناول کو ملا ہے۔

میں نے نعیم اشرف سے یہ اعتراف کیا کہ میں ترجمہ کرنے والوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر مترجم نہ ہوتے تو نہ تو میرا تعارف

سگمنڈ فرائڈ سے ہوتا نہ کارل ینگ سے
نہ کارل مارکس سے ہوتا اور نہ ہی ماؤ زے تنگ سے
نہ جلال الدین رومی سے ہوتا اور نہ پابلو نرودا سے
نہ خلیل جبران سے ہوتا اور نہ ہی محمود درویش سے
یہ عالمی ادب کا ترجمہ کرنے والوں کا کمال ہے کہ اب ہم سب ایک عالمی گاؤں کے شہری بن چکے ہیں۔

جھیل سکوگاگ کی سیر سے جب ہم لوٹے تو میں نعیم اشرف کو ایک افغانی ریسٹورنٹ لے گیا جہاں ہم نے نان، چپلی کباب اور بینگن کا بھرتہ کھایا۔ ریستوران کے مالک نے ہمیں سوپ تحفے کے طور پر پیش کیا۔ میں نے نعیم اشرف کو بتایا کہ چھوٹے سے شہر میں رہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اب مجھے مختلف ریستورانوں کے مالک اور ویٹر جانتے اور پہچانتے ہیں اور میرا اور میرے مہمانوں کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ وہ اب میری پسند و ناپسند سے واقف ہو چکے ہیں۔

ڈنر اور ڈائلاگ کے دوران جب میں نے نعیم اشرف سے پوچھا کہ آپ کسی ایسے ادیب کا نام بتائیں جن کی تخلیقات نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو تو کہنے لگے

خوشونت سنگھ
اور پھر انہوں نے مجھے ان کی سوانح عمری
TRUTH, LOVE AND A LITTLE MALICE
ان کے مشہور و مقبول ناول
TRAIN TO PAKISTAN
اور متنازعہ فیہہ ناول
THE COMPANY OF WOMEN
کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
میں نے نعیم اشرف کو بتایا کہ مجھے ارجنٹینا کے ادیب BORGES
بہت پسند ہیں۔ بورخیز کہا کرتے تھے کہ ان کا جنت کا تصور باغ نہیں بلکہ ایک لائبریری ہے۔

بورخیز ارجنٹینا کے دارالحکومت بونا زائرس کی ایسی لائبریری کے لائبریرین تھے جس میں ایک لاکھ سے زیادہ کتابیں ہوا کرتی تھیں۔

بدقسمتی سے بورخیز چالیس برس کی عمر میں نابینا ہو گئے لیکن ان کی بصارت کی کمی نے ان کی بصیرت کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھاوا دیا۔ نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے ساری دنیا کا سفر کیا اور لیکچرز دیے ان لیکچرز میں سے ایک لیکچر بدھا اور بدھ ازم کے حوالے سے تھا جو بہت ہی عالمانہ تھا۔

میں نے نعیم اشرف کو بورخیز کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ایک دفعہ انگلستان کے ایک ادیب پول تھیرو سیر کرتے اور سفرنامے لکھتے ارجنٹینا پہنچ گئے اور بورخیز سے ملنے چلے گئے۔ بورخیز نے انہیں اپنے پسندیدہ ریستوران میں ڈنر کی دعوت دی۔ پول تھیرو لکھتے ہیں کہ بورخیز اپنی گلی میں چھڑی پکڑے آگے آگے جا رہے تھے اور میں ایک نابینا ادیب کے نقش قدم پر چلتے ان کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ جب بورخیز اپنے پسندیدہ ریستوران میں داخل ہوئے تو سب حاضرین نہ صرف ان کے اعزاز میں کھڑے ہو گئے بلکہ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ اپنی پسندیدہ میز پر جا کر کرسی پر بیٹھ نہیں گئے۔

پول تھیرو لکھتے ہیں کہ انہوں نے اتنی عزت کسی ملک کے صدر یا وزیر اعظم کے لیے بھی نہ دیکھی تھی۔ بورخیز کے اعزاز میں کھڑے ان کے پرستار جانتے تھے کہ وہ نابینا ہیں اور انہیں دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کھڑے ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کی چاہت، محبت اور عقیدت میں کھڑے تھے۔

میں نے نعیم اشرف کو بتایا کہ بورخیز جب ساری دنیا گھومتے تھے تو ان کے ساتھ ان کی پسندیدہ دوست ایک نوجوان خاتون ہوتی تھیں جو ان کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ وہ خاتون عمر میں بورخیز سے بہت چھوٹی تھیں۔ جب بورخیز اسی برس کے ہوئے تو انہوں نے اس نوجوان خاتون کے اصرار پر ان سے شادی کر لی لیکن شادی کے چھ ہفتے کے بعد وہ اس دختر خوش گل کی گود میں سر رکھ کر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔

نعیم اشرف کو ٹورانٹو کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں نے بہت عزت دی۔ ان کے لئے عشائیے اور ڈنر کا اہتمام کیا۔ ہم نے اپنے فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمینار میں انہیں ہیڈ ٹیبل پر امیر حسین جعفری اور ان کی بیگم صائمہ جاوید کے ساتھ بٹھایا۔

میں نے نعیم اشرف سے کہا کہ اگر ہم یورپ کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کئی ممالک میں ادیبوں اور فنکاروں، شاعروں اور دانشوروں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ دانشوروں نے اس وقت اپنی قدر کھو دی جب وہ دانائی اور سچ کی بجائے دولت اور شہرت کے پجاری بن گئے۔

دانشور درویش ہی رہے تو بہتر ہے۔

نعیم اشرف کو ٹورانٹو اتنا پسند آیا کہ جب وہ کیلگری لوٹے تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ان کا جسم واپس چلا گیا ہے لیکن دل ٹورانٹو میں ہی رہ گیا ہو۔

نعیم اشرف دنیا میں کسی بھی شہر کسی بھی ملک کسی بھی معاشرے میں رہیں ہم تو انہیں اپنے قبیلہ قلب اپنی فیمیلی آف دی ہارٹ کا اہم فرد ہی سمجھتے رہیں گے۔ یہ وہ قبیلہ ہے جو اب ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اب ہمارے چاہنے والے جغرافیائی فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے کے دل کے قریب بستے ہیں۔ وہ سب دوستی اور محبت کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔

وہ ایک دوسرے کے لیے اپنے گھر اور دل کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail