سالٹ رینج کی عورت، اسپِ تاریخ اور علم کے نخلستان
لاہور موٹر وے پہ سفر کرتے مارگلہ ہلز آپ کے دائیں ہاتھ پہ ہوں ساون کی تپش بھری دھوپ اور ٹھنڈی چھاؤں ہو تو سرگودھا کے نواح میں سُرخ نوکیلی رتڑیاں نظر آنے تک آپ کوہِ نمک کے سبز رنگ میدانوں میں سفر کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ آج کا سفر محترم ملک مشتاق صاحب (سابق وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین پیمرا) کے شفقت آمیز حکم پہ ملک سعید احمد صاحب کی سواری میں درپیش ہے۔ ہر دو ملک صاحبان خطے ( ضلع تلہ گنگ) می تعلیم کے فروغ کا قصد عظیم رکھتے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم میں طویل عرصہ سے خصوصی شغف ہے اور اب اعوان فاؤنڈیشن کے علم تلے سُنت رسول کی پیروی خاص میں مصروف عمل ہیں۔ فاؤنڈیشن کے تحت اس وقت نصف درجن گرلز اسکول اچھی کارکردگی کی بنیاد پہ مصروف عمل ہیں
یہ خطہ ہمیشہ سے وسط ایشیا سے آنے والے اسپ سواروں کی محبوب گزر گاہ رہا۔ سکندر اعظم نے پورس کو جہلم کے آس پاس مغلوب کیا بعد میں آنے والوں کو گھکھڑ سرداروں سے نبُرد آزما ہونا پڑا۔ پھر تو چل سو چل!
لاہور مغل حملہ آوروں کو سمرقند اور بخارا کی یاد دلاتا رہا۔ سکھوں کی مسلیں گوجرانوالہ اور حالیہ پنڈی بھٹیاں کے نواح میں دندناتی پھریں۔
اور ان سب میں سب سے پُرکار ”معاشی عرق ریز انگریز سرکار“ نے یہاں ”جنگجو نسل“ کا ڈھونگ رچا کر خطے کے جوانوں کو دو بڑی جنگوں کا ایندھن بنا ڈالا۔
اجنبی زمینوں پہ ولایتی مال اور نو آبادیاتی تسلط کی خاطر لڑتے ہوئے لاتعداد ماؤں کے لعل رزق خاک ہوئے رونے کے واسطے جسدِ بے جاں اور قبر کے نشان بھی مہیا نہ تھے!
لاہور سے کابل تک پھیلے پنج آب میں انگریزی سرکار سرحد پار افغان سرداروں کے خوف سے مقامی بڑوں سے ہر قسم کے الائنس کا ڈول ڈالتی پھری۔
اس دور پُرفتن میں کوہ نمک کے اطراف کی عورتوں کے لئے میدان عمل تقریباً خالی اور مشکل تر رہا۔ بڑے پیمانے پہ ریکروٹمنٹ نے زرعی مشقت تن تنہا عورتوں پہ ڈال دی۔ بچوں کی دیکھ بھال سے لے کر فصلوں کی بیجائی اور کٹائی بھی نصف بہتر کے حصے میں آئ! بیسویں صدی کے پہلے نصف عشروں میں سرکاری ملازمت نے مردوں سے تقریباً خالی گاؤں کے گاؤں نے لاشعوری طور پہ سالٹ رینج کی عورت کو ایمپاور کر دیا۔ تقسیم کے بعد خطے میں سڑکوں اور تعلیم کی نسبتاً بہتر صورت حال نے بچیوں کی تعلیم میں باقاعدگی اور تسلسل کو جنم دیا۔ یوں یہاں کی عورتوں کی پہلی دو نسلیں نہ صرف گھریلو تعلیم و تربیت سے آراستہ تھیں بلکہ اُن کی خطیر تعداد مقامی سرکاری اسکولوں میں مصروف تدریس رہی۔ اسی اور نوے کی دہائیاں، موٹروے کی تعمیر اور دارالحکومت کی قُربت کی بدولت عورتوں کی ترقی اور جدید تکنیکی مہارتوں کی تعلیم کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اولاً ضلع جہلم اور 1985 میں ضلع چکوال کا حصہ بننے کے باوجود یہ تحصیل وسائل میں کمزور مگر بچیوں کی شرح خواندگی میں مضبوط رہی۔
اعوان فاؤنڈیشن مرحوم ملک ظہور نواز اعوان کا خواب پیہم تھا۔ اس کی شاخیں دور و نزدیک کی مختصر آبادیوں تک علم کی روشنی بکھیر رہی ہیں۔ آج کی میٹنگ بھی فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن کی تکنیکی ٹیم ڈاکٹر فیاض اور فاطمہ شاہ کی قیادت میں تکمیل پذیر ہوئی۔ فاؤنڈیشن کی ہونہار اساتذہ کو جدید تعلیمی ماڈل، والدین اور اساتذہ کی مشترکہ کوششوں اور گلوبل اہداف کی تربیت دی گئی۔
ازل سے کوہِ نمک کے میدانوں کی تاریخ یہاں کے عجز و انکساری سے مزین کاشتکار مرد و زن کی ”تعلیم کے ذریعے ترقی“ کے اٹل ارادوں سے لکھی گئی۔ اگرچہ حملہ آوروں کے گھوڑوں کی ٹاپ ہر اہم سنگ میل پہ سُنائی دیتی رہے گی مگر جو قومیں خواندہ ماؤں کی گود میں تربیت حاصل کرتی ہیں وہ جہالت کے اندھے صحراؤں کو علم کے لہلہاتے نخلستان میں تبدیل کر دیتی ہیں! سالٹ رینج کی ماؤں کو سلام جنہوں نے اس خطے میں ملک مشتاق، ملک فتح خان، ملک شہریار، جاوید ملک، سہیل اعوان اور ڈاکٹر ارشد جیسے بیٹے جنم دیے۔ جو عورت کی تعلیم کو اس ملک کے سماجی اور معاشی مسائل کے تدارک میں اہم گردانتے ہیں اور اس کے لئے پیہم کوشاں ہیں۔
چکوال میں جنرل یونیورسٹی کے قیام کے بعد اُمید واثق ہے کہ صوبے کی خاتون وزیر اعلیٰ نئے ضلع میں ہایئر ایجوکیشن کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گی!
بقول محترم اظہارالحق صاحب!
میں خاک کے فرش پر ہوں دست دعا اُٹھائے
جو فیصلے ہیں آسمانی، بدل رہا ہوں


