خطے میں اسلامی عسکریت پسندی کا بیج


جنگِ عظیم دوئم کے خاتمے پر عظیم برطانوی ماہرِ معیشت جان مینارڈ کینز اپنے ملک کی معاشی حالتِ زار پر بے اختیار بولے، ’ہم ایک غریب قوم ہیں‘ ۔ چند عشروں پہلے تک تاریخ کی سب سے بڑی استعماری طاقت کہ سورج جس کی سلطنت پر کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، امریکی امداد کی محتاج بن چکی تھی۔ بدلے میں امریکی اپنے حلیف پر کالونیوں، بالخصوص ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے مسلسل دباؤ بڑھا رہے تھے۔ شمال مشرق سے ابھرتی سرخ آندھی کے زیرِ اثر علاقوں اور اشتراکیت کی جانب جھکاؤ رکھنے والے نہرو کے ہندوستان کے بیچ ایک بفر سٹیٹ کے قیام کے مبینہ برطانوی منصوبے میں امریکہ شامل نہیں تھا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ تو مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی کسی ریاست کے ’متروک تصور‘ سے ہی بیزار تھا۔ مجوزہ مملکت کی قیادت مگر امریکہ کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے لئے پُرجوش تھی۔ جون 1947 ء میں قائدِ اعظم نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکیوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان سے اتحاد، پاکستانیوں سے بڑھ کر خود امریکیوں کے لئے سودمند ہو گا۔ قائد کی وفات کے بعد اگرچہ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان امریکہ سے تعلقات بڑھانے کے خواہشمند تھے، تاہم ممتاز اسکالر پروفیسر فتح محمد ملک کے مطابق وہ ’سوشلزم‘ یا ’کیپٹلزم‘ میں سے کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے ریاست کی فکری اساس ’اسلامک سوشلزم‘ پر استوار کرنے کی پالیسی پر کاربند رہے۔

پروفیسر صاحب تو اپنی کتاب ’اسلام ورسز اسلام‘ میں لیاقت علی خان کے عدم تعاون کی بنا پر ان کے قتل کی ذمہ داری بھی دستیاب امریکی دستاویز کی روشنی میں امریکہ پر ہی عائد کرتے ہیں۔ پہلے وزیرِ اعظم کی شہادت کے بعد سیاسی قیادت باہم دست و گریبان رہنے لگی تو سویلین بیوروکریسی نے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ پروفیسر صاحب دو بڑے بیوروکریٹس غلام محمد اور سکندر مرزا کو پاکستان کی امریکی کیمپ میں شمولیت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

تاہم سال 1951 ء میں پاکستان آرمی کے پہلے مقامی کمانڈر اِن چیف مقرر ہونے کے بعد ایوب خان بھی اس باب میں سویلین بیوروکریسی کے فطری اتحادی بن چکے تھے۔ ممتاز مؤرخ ڈاکٹر عائشہ جلال کا خیال ہے کہ متعدد اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی محرکات کے باہم امتزاج نے ہی جمہوریت کے ٹمٹماتے چراغ کو بجھانے اور بالآخر سال 1958 ء کے اندر پہلی عسکری آمریت کی راہ ہموار کی۔ سردجنگ کے دَور میں امریکی اثر و نفوذ کے زیرِ اثر متعدد معاہدوں میں شامل ہونے کے فیصلوں پر جو تنقید کی جاتی ہے وہ یقیناً بے سروپا نہیں۔

تاہم تاریخ کے ہمہ جہت جائزے کے لئے ضروری ہے کہ اس دور کے فیصلہ سازوں کے شخصی اور گروہی مفادات کے ساتھ ساتھ اُنہیں اُس وقت درپیش معاشی اور سلامتی کی صورتحال کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد کا جائزہ لیتے ہوئے ہم اکثر یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ یہی وہ دور تھا جب نو تشکیل شدہ سی آئی اے نے کئی مسلم ممالک میں عوام کے مذہبی جذبات کے استحصال کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ’عسکری نظریات‘ کے فروغ اور انہی نظریات پر کارفرما کئی مذہبی تنظیموں کی پشت پناہی کا آغاز کیا۔

انہی تنظیموں کی مدد سے خطے میں اشتراکیت پسند حکومتوں کے تختے اُلٹے گئے۔ ہمارے ہاں کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت کا ’پولیٹکل اسلام‘ بھی اُس دور کے انہی اشتراکیت مخالف امریکی عالمی اہداف سے میل کھانے لگا تھا۔ تاہم ’ملا۔ ملٹری گٹھ جوڑ‘ کا نظریہ پیش کرنے والے حسین حقانی یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مذہبی سیاسی جماعت کے ممتاز عالمِ دین سربراہ کو سیکولر رجحانات رکھنے والے فوجی آمر کے دور میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ گٹھ جوڑ بہت بعد کی بات ہے۔

سرد جنگ کے دور میں ہمارے ہاں اقتدار فوج کے ہاتھ میں آنے کے بعد ’امداد اور سلامتی پالیسی کے ملاپ‘ کے معروف استعماری ہتھیار کے ذریعے امریکیوں کے لئے ہمارے ساتھ معاملات طے کرنا آسان ہو گیا۔ امریکی امداد کے نتیجے میں جہاں پاکستانی افواج مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے لگیں تو وہیں امریکی تعاون کی شرائط میں یہ بات شامل تھی کہ پاکستان کو دیا جانے والا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان بھارت کے خلاف نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی اشتراکی جارحیت کے خلاف استعمال ہو گا۔

دوسری طرف پاکستان اپنے اتحادی سے امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہ بھارت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف لے کر آئے گا۔ کہا جاتا ہے کہ 1962 ء کی ہند چینی جنگ میں پاکستان اگر کشمیر کا محاذ کھول دیتا تو بھارت کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔ امریکہ نے مگر نا صرف یہ کہ اِس جنگ میں کمیونسٹ چین کے مقابلے میں بھارت کی خود بھرپور مدد کی، بلکہ صدر ایوب کو بھی اس اُمید پر کہ امریکہ جنگ کے خاتمے پر بھارت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے مجبور کرے گا، بھارت کے خلاف کسی مہم جوئی سے باز رکھا۔

اس امریکی طرزِ عمل اور بعد ازاں کشمیر کے حل میں مدد سے متعلق عہد شکنی نے پاکستانی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دوسری طرف امریکہ میں کینیڈی حکومت کی سوچ میں بھارت سے متعلق تبدیلی جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لئے جانے کا احساس پیدا ہونے لگا۔ بدلتی صورتحال سے مضطرب بھٹو کے ایما پر کی جانے والی کشمیری مہم جوئی، 6 ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں بدلی تو امریکہ نے دونوں ملکوں کی امداد پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اِن پابندیوں کا فطری متاثرہ فریق صرف پاکستان تھا۔ جنگ ختم ہوئی تو سرد جنگ کے اتحادیوں کے تعلقات میں سرد مہری صاف نظر آنے لگی۔

اس امر کے ثبوت موجود ہیں کہ مارچ 1971 ء کے بعد امریکہ درونِ خانہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنے کے لئے زور دیتا رہا۔ تاہم سوویت یونین کے ساتھ کش مکش کے تناظر میں چین کے ساتھ خفیہ سفارت کاری کی حساسیت اور اس باب میں پاکستانی کردار کی اہمیت کے پیشِ نظر امریکہ داخلی رائے عامہ کے برعکس جمہوری حقوق کو کچلنے پر آمادہ فوجی آمر کی پشت پر کھڑا رہا۔ پہلی منتخب جمہوری حکومت قائم ہوئی تو پاپولسٹ وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو استعماری بلاک کا حصہ بننے کی بجائے ’پین اسلام ازم‘ کی راہ پر چل نکلے۔

یہی وہ دور تھا جب عائشہ جلال کے مطابق ’عرب اسرائیل جنگ، تیل کی سپلائی پر پابندیوں اور (امریکی سرپرستی کے نتیجے میں )‘ عالمی اسلامائیزیشن ’خطے میں جڑیں پکڑ رہی تھی۔ اسی دوران جبکہ تیسری دنیا کے عظیم داعی ذوالفقار علی بھٹو بظاہر امریکی استعمار کے خلاف برسرِپیکار تھے، تو اپنی ہی کتاب‘ اِف آئی ایم اسیسینیٹڈ ’کے مطابق وہ افغانستان میں‘ عسکری اسلام ’کی بنیاد رکھنے میں بھی مصروف تھے۔ ستر کی دہائی کے وسط میں پاکستان اور سی آئی اے کی مشترکہ سرپرستی میں کابل یونیورسٹی میں گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود جیسے نوجوان، اشتراکیوں کے خلاف مسلح دھڑے بندی میں مصروف تھے۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS