عمر خضر


"یار اک کَم کر “
”ہاں جی، دَسو“
”میرے پرس وچوں پیسے لے جا تے کِتیوں مَوت خرید لیا“
میں ہنس پڑا
”یار تیری اینی واقفیت اے، کِتیوں تے لَبھ ای جائے گی“
ذرا دیر کا سکوت، اگلا جملہ

”اب میں نہ زندوں میں ہوں نہ مُردوں میں۔ کسی ایک طرف ہونا چاہیے۔ زندوں میں بہت رہ لیا، اب اپنی اماں بابے کے پاس جانا چاہتا ہوں“

کم و بیش چوہتر برس ہوتے ہیں، اللہ نے ابا جی کو دینے والا ہاتھ عطا کر رکھا ہے سو کبھی ان کا پرس خالی نہیں ہوا۔ پتہ نہیں کیوں انہوں نے مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا حالانکہ وہ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ پرس میں پیسے ہوں تب بھی موت اور زندگی خریدی نہیں جا سکتی۔ ملک المَوت کسی قسم کی مالی پیش کش کو درخورِ اعتنا نہیں گردانتا۔

انیس صد اکیاون کا سال تھا جب چک نمبر ایک سو تیرہ دس آر کے حاجی قادر بخش نے اپنے دوسرے نمبر والے بیٹے سے کہا ”میری سکت تمہیں میٹرک تک تعلیم دلانے کی تھی، اب کھیتی باڑی سنبھالو“ حاجی قادر بخش کا یہ بیٹا بعد کو ہمارے ابا جی ہوئے۔ یہ الٹی میٹم سن کر ابا جی ملتان آ گئے۔ چھاؤنی میں ائر فورس کی بھرتیاں ہو رہی تھیں۔ بتایا کرتے ہیں ”میں ائر مین بھرتی کی لائن میں لگ گیا۔ ساتھ والی عمارت میں کمیشنڈ افسر کے لیے بھرتیاں ہو رہی تھیں، اس میں اپلائی کرنے کے لئے بھی میٹرک ہی تعلیم تھی مگر مجھ پینڈو کو پتہ ہی نہ تھا کہ کمیشن کیا ہوتا ہے۔ سو جہاں مجھے اپنے جیسے دیہاتی نظر آئے، وہاں بھرتی کے لئے کھڑا ہو گیا“

سن اکیاون سے اٹھاون تک نوکری کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ پڑھتے رہے اور ایس ایم لا کالج کراچی سے ایل ایل بی کر لیا۔ سن انسٹھ میں وکالت شروع کی۔

اب ایک برس سے اوپر ہوتا ہے ابا جی کو پلنگ تک محدود ہوئے۔ ساٹھ برس تک ملتان کچہری کے راستوں، روشوں پر رواں دواں رہنے والی اور گھنٹوں عدالت کے روسٹرم پر بحث کے دوران کھڑا رکھنے والی ٹانگیں اب اس درجہ گستاخ ہو گئی ہیں کہ ابا جی کا بوجھ اٹھانے سے انکاری ہیں۔ تیس سے زائد کتابیں تصنیف کرنے والا دماغ کسی بچے کی سی معصومیت، لاعلمی اور بھولپن کو لَوٹا دیا گیا ہے۔ یہ دماغ اب عجیب منظر دکھاتا ہے اور ہوا میں غیر مرئی مخاطب تراشتا ہے جن سے ابا جی خطاب کرنے لگتے ہیں۔

یہ جو جولائی کا مہینہ شروع ہوا ہے تو ابا جی کی بیماری کا شدید تر دورانیہ لےکر۔ پہلی ہی جولائی کو انہیں ہسپتال داخل کروانا پڑا جہاں چار روز رہنے کے بعد گھر تو آ گئے مگر ایک مستقل اضمحلال کے ساتھ۔ ان کی بات چیت، حرکات و سکنات حتیٰ کی سوچنے کا عمل بھی گویا سلو موشن میں انجام پا رہا ہے۔ لفظوں کو ٹھہر ٹھہر کر اور خوب کھول کر بولا جائے تو سمجھتے ہیں۔ ذرا سی روانی میں کی گئی بات نہیں سمجھ پاتے۔ ان کا کمرہ کوئی سینما ہال ہے جہاں مختلف منظر ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کو دیکھ صرف ابا جی سکتے ہیں۔ ایک دن اپنے عین سامنے کی دیوار کو گھورتے ہوئے مجھے کہنے لگے ”کوئی فنکشن ہے؟“ میں نے کہا ”کہاں“ بولے وہ سامنے لوگ سٹیج لگا رہے ہیں ”پوچھا“ شروع ہو گیا فنکشن؟ ”بولے“ نہیں، شام کو ہو گا ابھی تو انتظامات ہو رہے ہیں ”میں نے کہا“ چلیں اچھا ہے آپ کی شام اچھی گزر جائے گی، مزے سے لیٹے لیٹے فنکشن انجوائے کیجئے گا ”۔

کچھ لوگ ہیں جو ان کے کمرے کے باسی بنے ہوئے ہیں۔ ان کا سرغنہ کوئی بدشکل سا آدمی ہے جو گندے بالوں والی وگ لگا کے ابا جی کو گھورتا رہتا ہے۔ بولتا کچھ نہیں بس گھورے جاتا ہے۔ باقی لوگ یہاں وہاں بیٹھے رہتے ہیں، کوئی چادر اوڑھ کے سویا رہتا ہے۔ ابا جی کہتے ہیں ”تم لوگ آتے ہو تو وہ بھاگ جاتے ہیں وگرنہ میرے کمرے پر قابض رہتے ہیں۔

ایک دن میں نے کہا ”ابا جی گپ شپ لایا کرو اوہناں نال، تہاڈا ویلا چنگا لنگھ جائے گا“ ابا جی نے بتایا کہ کم بخت یہاں وہاں پڑے رہتے ہیں بولتے نہیں، میں نے کئی دفعہ بات کی ان سے، جواب نہیں دیتے۔

ان غیر مرئی لوگوں نے اب مصروفیات بھی ڈھونڈ لی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے دوپہر کو وہ صوفے سے لے کے ابا جی کے پلنگ تک کئی سو میٹر طویل سڑک کھود کر پھر سے تعمیر کر رہے تھے اور انہوں نے خوب دھول اڑائی ہوئی تھی۔ آپی آئی ہوئی تھیں ابا جی سے ملنے انہیں کہنے لگے ”اندر چلی جا ایتھے مٹی گھٹے اچ کیوں بیٹھی ایں“

اگلے روز مجھ سے مشورہ کیا کہ ”یار وہ پوچھتے ہیں یہاں ہسپتال بنائیں یا پلے گراؤنڈ۔ میں نے کہا یہاں ہسپتال رہنے دو گراؤنڈ نہ بناؤ۔ اب دیکھو ڈاکٹر آپریشن کر رہا ہو اور کوئی لڑکا بال کو ہٹ مارے اور گیند ڈاکٹر کے پاس آن پڑے، ڈاکٹر آپریشن چھوڑ کر گیند کے پیچھے بھاگ پڑے گا۔ مریض کا کیا بنے گا“ ۔ ایک دوپہر مجھے کہا ”تیرے سر تے درخت کیوں اُگیا ہویا اے؟“ میں نے کہا ”چنگی گل اے جی چھاں روے گی سر تے“ ۔

کبھی بحث کر رہے ہوتے ہیں لیٹے لیٹے۔ ایک دن مجھے کہا ”یار توں دعا کر میرے واسطے“ میں نے کہا جی ہر وقت کرتے ہیں دعا۔ کہنے لگے ”نئیں دعا کر اللہ میرے کیس دا فیصلہ کر دوے ہن بس“

ایک ابا جی کے بڑے بھائی بھی ہیں، ہمارے تایا اور ابا جی کے لالہ غلام حسین۔ ابا جی سے تین برس بڑے۔ وہ وہیں تیرہ چک میں ہی ہوتے ہیں۔ ابا جی سے سال ڈیڑھ سال پہلے کا انہوں نے بھی بستر پکڑا ہوا ہے۔ وہ کبھی کہا کرتے ہیں ”اللہ نے خورے سارے پنڈ دی عمر مینوں لا دتی اے، مُکدی نہیں پئی“

زندگی کا مقصد سمجھنے کو لوگ عقل و شعور کو بروئے کار لا کر کیا کیا قیافے لگاتے ہیں لیکن حتمی جواب ابھی کسی کے پاس نہیں کہ ہم یہاں کیوں ہیں۔ پھر بھی یہ زندگی بڑی عزیز متاع ہے، اسے کھونا کوئی نہیں چاہتا مگر بیمار اور ضعیف۔ وہ ضعیف جس کے قوائے جسمانی نافرمانی پر اتر آتے ہیں، دماغ میں دوڑتے پھرتے نیورانز کا کہنا ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ تب ابنِ انشا کی مشہور نظم ”جب عمر کی نقدی ختم ہوئی“ کی یہ دو لائنیں انسان پر بیتنے لگتی ہیں

جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے

Facebook Comments HS