ساون ٹیج (تیج) کا تہوار

جنوبی ایشیا کے بڑے ریگستان میں ساون تیج کے تین تہوار منائے جاتے ہیں پہلا ہریالی (سبز) تیج، دوسرا کجاری/کجلی تیج اور تیسرا ہرتلیکا تیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صحرا تھر میں ساون تیج کے دو تہوار مقبول ہیں ایک ساون ماہ کا چاند دیکھنے کے بعد تیسرے دن جس کو چھوٹی تیج یا گجوا تیج کہتے ہیں، دوسرا تہوار پورے چاند کے بعد تیسرے دن ہوتا ہے جو بڑی تیج یا ساون تیج کے نام سے مشہور ہے اور بڑے پیمانے پر صحرائی خواتین کے تہوار کے طور منایا جاتا ہے خواتین کے ہار سنگار، جھولا جھولنا، دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاں مٹھائی، پھل وغیرہ پہنچانا، لوک گیت اور لوک رقص اس دن کی پہچان ہیں۔ اس تہوار کو خیرسگالی اور رومانس کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔
چھوٹی تیج کے تہوار پر برسات اپنے عروج پر ہوتی ہے صحرا میں ہر طرف ہریالی کی چادر سی بچھی ہوئی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اس تہوار کو ہریالی تيج کہا جاتا ہے. ہریالی تيج کا دن بنیادی طور پر ہریالی اور اچھی فصل ہونے کی امید دلاتا ہے۔ ہندو دھرم کی ایک روایات کے مطابق یہ تہوار دیوی پاروتی اور شو کے ملن کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن ماں پاروتی نے مہادیو جی کے لئے کڑی تپسیا اور سخت ورت رکھا تھا۔ ہندو لوگ ماں پاروتی کو ‘تیج ماتا’ بھی کہتے ہیں۔
کجاری تیج / کاجلی تیج بڑی تیج ہے۔ خواتین اس دن کو اپنے گھروں کو خوبصورت جھولوں سے سجا کر اور لوک گیتوں کی دھنوں پر رقص کر کے مناتی ہیں۔ رات کو خواتین گاؤں کے کسی ایک گھر میں اکٹھی ہو کر مہندی سے اپنے ہاتھ سجاتی ہیں ساتھ میں تیج کے اس تہوار کے خصوصی لوک گیتوں کو بھی گاتی ہیں دن میں بہترین سرخ اور سبز رنگ کی ساڑھیوں اور زیورات سے تیار ہو کر دیوی پاروتی اور دیوی نیمدی کی پوجا کرتی ہیں۔ دیوی نیمدی کو نیمدی ماتا بھی کہا جاتا ہے۔
ساون کی تيج میں خواتین ورت رکھتی ہیں اس ورت کو غیر شادی شدہ لڑکیاں قابل شوہر کو پانے کے لئے رکھتی ہیں اور شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کی لمبی عمر اور خاندان کی خوشحالی کے لیے کرتی ہیں. ورت رات کے وقت چاند کو دیکھ کر کھولا جاتا ہے۔
سگائی کی ہوئی لڑکیوں کو تہوار سے ایک روز قبل اپنے ہونے والے سسرال کی جانب سے تحفہ بھجوایا جاتا ہے۔ تحفہ میں مہندی، چوڑیاں، ایک خاص لباس اور مٹھائیاں شامل ہوتی ہیں۔ تیج کی خصوصی مٹھائی چنے کی دال کے آٹے سے بنی ہوئی ساتو مٹھائی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے تحفہ دینے کی رسم کو ساتو بھیجنا کہتے ہیں۔ شادی شدہ بیٹیوں کو ان کی والدہ تحائف ، کپڑے اور مٹھائیاں دیا کرتی ہیں۔تیج کے تہوار میں جو، گندم، چنا اور چاول کے پکوان بنائے جاتے ہیں۔ اس تہوار کے موقع پر شادی کے بعد پہلا ساون آنے پر نئی وواهتا (شادی شدہ) لڑکی کو سسرال سے بلا لیا جاتا ہے۔
ساون کی بارش برسنے سے صحرا میں ہر طرف شادمانی کے مناظر ہوتے ہیں۔ فطرت جھوم اٹھتی ہے. ساون تیج کی آمد پر بڑے درختوں کی ڈال پہ جھولا ڈالا جاتا ہے۔ تیج کے تہوار میں جھولا جھولنا بھی ایک حصہ مانا جاتا ہے گاؤں کی دوشیزائیں درختوں میں لٹکے ہوئے جھولوں پر جھولتے وقت ساون تیج کے گیتوں کو گاتی ہیں۔ ساون تیج کے گیتوں کی بہت سی اقسام ہیں۔ ان گیتوں کے بولوں میں پردیس بیاہی ہوئی لڑکی کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ نوبیاہتا لڑکی اپنی ماں کو ساس کے متعلق شکایتوں سے بھرا ہوا پیغام بھجواتی ہے۔ کسی گیت میں اپنے بھائی کو لینے آنے کو کہتی ہے۔ اور میکے کی طرف تکتے ہوئے خود کلامی کرتی ہے۔ کہیں عورتیں، کنواریاں اور محبوبائیں اپنے شوہروں اور محبوبوں کی جدائی میں برہن بیوگ گایا کرتی ہیں۔
’ساون تیج کے گیت‘ کا کیا سنگیت ہے، کیا ترنم ہے ۔ پہلے ہفتہ بھر جشن رہتا تھا اب خوبصورت تیج تہوار کی ریت رواج اور گیت سب ختم ہوتے جا رہے ہیں. میل ملاپ میں بھی فرق آ گیا ہے۔
جدید سندھی شاعروں میں شیخ ایاز، تاجل بیوس، سروپ چندر شاد نے بھی تیج کے لوک گیت لکھے ہیں۔
پہلے گیت کے بول کا ترجمہ:
میری ہم جولیو! میں نے بھی سن لیا ہے، کہ ساون آ گیا ہے جیٹھ کی بے کراں تپش موجود ہے، برسات کی جھڑی لگ گئی ہے میرے بھائی آؤ میرے آنگن میں بیٹھو، اسی رت میں میرے دل کی بات مت پوچھو برسات کی جھڑی لگ گئی ہے
اے میرے بھائی! میں چکنی مٹی منگواؤں اور چار چولہے تیار کر کے ایک پر لاپسی اور دوسرے پر دال تلواؤں گی، تیسرے چولہے پر کھچڑی اور چوتھے پر چولائی کا ساگ پکواؤں گی، سالا اور بہنوئی ساتھ بیٹھ کر کھا لو
میرے من کی مت پوچھو، برسات کی جھڑی لگ گئی ہے برسات کی جھڑی لگ گئی ہے
تیج کا یہ لوک گیت تھر میں مشہور و مقبول ہے، ہر ایک کو یاد ہے، ساون اور تیج کا نام لینے سے اس لوک گیت کے بول ہونٹوں پر آ جاتے ہیں۔
دوسرے گیت کے بول کا ترجمہ:
اے میرے بھائی تو مجھے بہت جلدی لینے آنا، ساون کی ٹیج آئی ہے بڑے درخت پے رسی ڈال کر جھولا جھولوں اے میرے بھائی تو مجھے بہت جلدی لینے آنا، ساون کی ٹیج آئی ہے
اے بھائی تیری بہن نے ریت کے ٹیلے کے اوپر چڑھ کر دیکھا آبائی گاؤں بہت دور رہ گیا ہے اے میرے بھائی تو مجھے بہت جلدی لینے آنا، ساون کی ٹیج آئی ہے
اے میرے پیارے بھائی میرے ہاتھوں پر مہندی لگائی ہے اور چوڑلے کے اوپر لال مجیٹھ لگایا ہے بھائی تو مجھے بہت جلدی لینے آنا، ساون کی ٹیج آئی ہے
ساون آیا ہے، بھادوں آیا ہے، میگھ ملہار راگ کی تان لگی ہوئی ہے اے میرے بھائی تو مجھے بہت جلدی لینے آنا، ساون کی ٹیج آئی ہے
تیسرے گیت کے بول کا ترجمہ:
ٹیج کے تہوار کا سن کر میرے پریتم جی گھر آئیے گھنگھور گھٹا چھائی ہے، دور کی نوکری چھوڑ کر گھر آئیے
کس سمت میں آپ کی نوکری ہے میرے راجا میں کس طرف میں تیری راہ دیکھتی رہوں تیج کا سن کر گھر آئیے
پورب میں آپ کی نوکری ہے میرے پریتم جی اور میں پچھم میں آپ کی راہ دیکھ رہی ہوں تیج ساون کا سن کر گھر آئیے
پانچ روپیوں کی آپ کی نوکری ہے۔ میرے پریتم جی اور لاکھ اشرفیوں کی یہ ہریالی ٹیج ہے ٹیج کے تہوار کا سن کر میرے پریتم جی گھر آئیے

