چترال کا شاہی قلعہ اور البیلی ماہ لقا


یہاں برق گرانے والی ایک اور خبر تھی کہ ”شاہی محل کی وہ مہ لقا جسے دیکھنے کی میں آس لیے پھرتی تھی عرصہ سات سال سے زمین کا رزق ہو چکی تھی۔“

مسز تاج کے یہ الفاظ آتش شوق پر تیل اور تیلی گرانے کے مترادف تھے۔ چترال میں اس جیسی حسین اور طرحدار عورت کب دیکھنے میں ملے گی۔ اسے تو گھنٹوں دیکھو اور جی نہ بھرے والی بات تھی۔

اس ڈپریشن کو کم کرنے میں بیچارے قہوے کی شامت جو آئی سو آئی، تاج صاحب سے بھی الجھ پڑی جو بڑی معصومیت سے پرنس اسد کے اس استفسار کا تجزیہ کرنے میں مصروف تھے کہ ”آخر انہوں نے آپ کی عمر کے بارے میں کیوں پوچھا کہ آپ ان سے بڑی ہیں یا چھوٹی۔“

” تاج صاحب آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ ان کے گہرے تفکر پر میری ہنسی چھوٹ گئی تھی کم عمری کی صورت میرے ساتھ بات چیت کو وہ انجوائے کریں گے۔ ان کا وقت اچھا گزرے گا۔ دوسری صورت میں مجھے ٹرخایا جا سکتا ہے۔ ان کے لیے یہ وقت کا ضیاع ہے۔ “

” نہیں نہیں آپ بالکل غلط سمجھیں۔ ہمارا پرنس اس مزاج کا نہیں۔“
” آپ واقعی بہت سیدھے اور بھولے ہیں۔ “ میں نے کوثر کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔

اس روشن صبح بالکونیوں کی بیرونی دیواروں پر ٹنگے مارخوروں اور ہمالیائی آبیکس کے سر پرانی زنگ آلود تلواریں توپیں اور جنگی آلات حرب ایک عہد کی داستان سناتے تھے۔

اندر منقش دیواروں پر کٹور خاندان کے شہزادے راجے مہاراجے ہیروں کے تاجوں سے سجی پیشانیوں کے ساتھ ایک سرے سے دوسرے تک پھیلے ہوئے تاریخ کی کتابوں کے اوراق الٹاتے تھے۔ ان ورقوں میں رئیسہ خاندان کی شکست اور تیمور لنگ کی اس اولاد کے کارنامے رقم تھے۔ امان الملک سے لے کر موجودہ سیف الملک ناصر تک۔ موجودہ شہزادہ تو یوسف ثانی تھا۔

ریاست کے مدغم ہونے کے بعد سے اسلام آباد میں مقیم تھا۔ اس کی جھیل جیسی نیلی آنکھیں اور تابناک چہرہ دیکھتے ہوئے میں سوچتی تھی۔ اسلام آباد کی فیشن ایبل عورتیں تو اسے دیکھ کر اپنے کلیجوں پر ہی ہاتھ دھرتی ہوں گی۔ نشست گاہوں میں بچھے قالین صوفے ہاتھی دانت کی انٹیک میزیں اور تپائیاں۔ ماضی کی عہد ساز شخصیات کی تصویروں سے سجی دیواریں۔ گچ کی ان دیواروں میں دراڑیں تھیں۔ چیزوں پر پرانے پن اور بوسیدگی کی چھاپ تھی پر پھر بھی ان پر پھیلا شاہانہ رعب داب اور شان و شوکت کا پرتو متاثر کرتا تھا۔

محل بھی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار تھا۔ ایک ایک کمرہ نادر چیزوں سے آراستہ ضرور تھا نیل گائے مار خور اور چیتے کے سینگوں سے سجی غلام گردشیں تھیں جہاں گھومتے ہوئے بندہ عروج و زوال کے المناک تصورات کے زیر اثر ہول کھائے چلا جاتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ان محل باڑیوں میں رہنے والے لوگ کہاں گئے۔ اب یہ ڈھنڈار سے کمرے عبرت کا سامان بنے پڑے ہیں۔

میرا دل گھبرانے لگا تھا۔ اونچی اونچی فصیلوں کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے یہاں قید ہو گئے ہوں۔ باہر نکل آئے۔ بلند و بالا فصیلوں سے باہر راجہ فیملی کے باغ باغیچوں کے ساتھ بنی سڑک پر جس کے بائیں ہاتھ نشیب میں پامیران کے ہوٹل کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے چلتے ہوئے ہم پرنس اسد الرحمٰن سے ملنے جا رہے تھے۔ دریائے چترال کے پہلو میں یہ ایک جدید وضع کا خوبصورت گھر تھا۔ ابھی ناشتے کا مرحلہ جاری تھا۔ چائے پیتے ہوئے وہ ہنسے اور بولے۔

آئیے باتیں کرتے ہیں۔ جو آپ کو اپنے مطلب اور کام کی چیز محسوس ہو اسے رکھ لیں باقی کو دفع کر دیں۔

اب ان کے اور حکومت کے درمیان پیدا شدہ جائیداد سے متعلق مختلف معاملات جو عدالتوں میں زیر سماعت تھے دفع کرنے کے قابل ہی تو تھے۔ ڈیڑھ گھنٹے کی اس نشست میں جن حقائق کو میں جاننے کی آرزو مند تھی ان میں سے کوئی بھی موزوں انداز میں زیر بحث نہیں آیا۔ اور اگر کوئی آیا تو وہ قانونی موشگافیوں کی بھول بھلیوں میں الجھا ہوا تھا۔ ریاست کے پاکستان میں مدغم ہونے کی تاریخ بھی ان حقائق سے لگا نہیں کھاتی تھی جو میں نے سر کردہ لوگوں سے سنے تھے۔ خاندانی البم دیکھنے کا معاملہ پھر کسی اور وقت پر اٹھ گیا۔ سیف الرحمٰن کی بیوہ سے شادی کرنے میں اس کے بے پایاں حسن کی کوئی کرشمہ سازی تھی یا ماں بہنوں کا دباؤ تھا کہ اس کی اتنی نوعمری کی بیوگی پر خواص چھوڑ، عوام بھی اشک کناں تھے۔

سچی بات ہے جب میں اٹھی تھی میرے دماغ میں کھولن تھی۔ کوئی چیز واضح نہیں تھی۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا تھا۔ اور میں سخت ڈپریشن میں تھی۔

یہ بھی کیسا عجیب اتفاق تھا کہ شاہی قلعے کی فصیل کے پاس سفید ٹویوٹا میں ایک معزز مرد نے ہمیں قریب پہنچنے پر فراخدلانہ پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا۔

آپ بمبوریت جانا چاہتی ہیں؟

پل بھر کے لیے ہم حیرت زدہ سے ہوئے۔ پر حیرت جلد ہی رفع ہو گئی کہ صاحب کسی سگریٹ کمپنی کی طرف سے ایڈورٹائزنگ کے سلسلے میں چترال آئے تھے۔ ہمشیرہ ساتھ تھیں ان کے پاس خود وقت نہیں تھا۔ ڈرائیور ہمشیرہ کو بمبوریت لے جا رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے بہن کی دوسراتھ کے لیے پیشکش کر دی۔

میں نے تو پل نہیں لگایا۔ ہنستے ہوئے یہ کہتے ہوئے ”ارے اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے“ ۔ گاڑی میں گلہری کی طرح پھدک کر بیٹھ گئی۔

پر شیشیوں میں سے میں نے دیکھا تاج صاحب حواس باختہ سے گم سم پریشان کھڑے تھے غالباً سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس عورت کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یقیناً اگر کہیں اس وقت میری ماں موجود ہوتی تو تاج صاحب کے شانے پر محبت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی۔ چھڈ پتر۔ یہ تو ہے ہی سارے زمانے کی اواگون اس کا تو وہ حال ہے۔ جنے لایا گلیں اودے نال اٹھ چلی۔ جب گاڑی چلی میں نے بیگ سے بسکٹ کا ڈبہ نکالا۔ خود لیا۔ کوثر کو دیا۔ مسز زہرہ ممتاز کو چاہت کے ساتھ پیش کیا۔ ڈرائیور کو بھی اس منہ ماری میں شامل کیا۔

چلو بمبوریت میں پوڑ کا کچھ پتہ تو چلے گا۔ میں نے طمانیت سے سوچا۔
پر جونہی جیپ نے آیون کے لیے عمودی اترائی پر قدم دھرا میرے ذہن نے قلابازی کھائی۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS