ائر کینیڈا کی فلائٹ: مکئی کی روٹی، ساگ، مکھن اور اوم پوری


ابھی سیٹ بیلٹ باندھی ہی تھی کہ پچھلی نشست سے ایک بہت ہی جانی پہچانی سی اور حال ہی میں سنی پاٹ دار آواز دیسی لہجے کی انگریزی میں بات کرتے سنائی دی۔ جھانکا تو واقعی اوم پوری تھے۔ دو ہزار بارہ کی اس دوپہر ائر کینیڈا کی یہ فلائٹ ٹورونٹو سے وینکوؤر جا رہی تھی اس نشست پہ میں افراد خانہ میں سے اکیلا تھا۔ باقی افراد کو دو مختلف جگہ آگے بیٹھنا پڑا تھا۔ چلئے اس سلیبریٹی سے سے چند لفظوں کے تبادلہ کا شرف حاصل ہو جائے۔

کھڑے ہو پیچھے دیکھا۔ پوری صاحب نے مجھے متوجہ دیکھنے کے باوجود نگاہیں پھیر لیں تو ہم بھی سیٹ پہ براجمان ہو گئے۔ مگر ان کی اونچی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔ جہاز اڑان بھر چکا تھا۔ اوم پوری اپنے ساتھ بیٹھے کینیڈین مسافروں سے اپنا تعارف کرا رہے تھے۔ ہندوستانی فلموں کے شہرت یافتہ اداکار ہونے ساتھ وہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے انگریزی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے۔ اب ساتھی دلچسپی لے رہے تھے اور یہ ہالی وڈ اور برطانوی انگریزی فلموں اور اداکار ساتھیوں اور اپنے کردار والے مناظر کا ذکر کرنا شروع تھے۔ میں کبھی کبھار فلم دیکھنے والا۔ ان کی انگریزی فلموں میں اداکاری اور ایوارڈ یافتہ بھی ہونے کا علم پہلی بار ہوا۔

جہاز ہموار ہو چکا تھا اور سیٹ بیلٹس کھولی جا چکی تھیں۔ اچانک ان کی پاٹ دار بلند آواز ٹھیٹھ پنجابی میں دور آگے بیٹھی خاتون سیما کو پکار رہی تھی۔ اور وہ پاس آ کھڑی ہو گئی تھیں اور اوم پوری بہت بھوک لگ جانے اور انہیں کھانا لانے کا کہہ رہے تھے۔ آٹھ دس قطار آگے بیٹھی سیما نے بیگ کھولا تو اس سے نکلتی گٹھڑی کہیں دور لے گئی۔ بالکل ویسی جیسے سات آٹھ دہائیاں قبل پنجاب کی دیہاتی مٹیاریں بید سے بنی رانگلی چنگیر میں رکھے سر پہ اٹھائے اپنے پیاروں کو کھانا پہنچانے کھیتوں کی طرف جاتی نظر آتی تھیں۔

اوم پوری کی نشست تک پہنچتے پہنچتے اس گٹھڑی میں سے دیسی گھی کا تڑکا لگے کسی بہت ہی مزیدار پکے سرسوں کے ساگ سے آتی خوشبو (پنجابیوں کے لئے۔ باقی اقوام کا پتہ نہیں خوشگوار یا نہیں) جہاز میں پھیلنا شروع ہو چکی تھی۔ ہم تو برامپٹن منتقل ہونے والے دن سے اپنی بہن بنی ہمسائی، لدھیانہ کی امر جیت کور سینی کے ہاتھ کے بنے اس مزیدار ساگ کا مزا لیتے آرہے تھے۔ سیما جینز پہنے بظاہر بغیر میک اپ درمیانی عمر کی اپنے لباس کی طرح سادہ لگتی خاتون تھیں۔

قریب پہنچیں تو کھانے کی پوٹلی بھی اسی کھدر کے بنے ہاتھ سے ٹھپے لگا بہت دلکش سرخ رنگ کے ڈیزائین والے دسترخوان کی تھی، جو ہمارے بچپن میں ہمارے گھروں میں ہوتا تھا اور پنڈی بھٹیاں میں جولاہوں کے محلہ میں پرنٹ ہوتا دیکھنا بھی یاد تھا۔ پوٹلی کھلی تو اس میں خوبصورت رانگلی چنگیر کے اوپر ویسے ہی دسترخوان میں لپٹی سوندھی خوشبو دیتی مکئی کی روٹیاں تھیں اور سٹیل کے پیالہ میں سرسوں کا تازہ بنا لگتا ساگ بھبھکیاں نکالتا، خواہ مخواہ بھوک لگا للچانا شروع تھا۔

سیما نے ساگ مکئی کی روٹی کے اوپر چمچ سے نکال رکھا دوسرے ہاتھ میں پکڑی پیالی میں گھر کے بنے تازہ مکھن کا چھوٹا سا پیڑا بنا ساگ کے اوپر رکھ دیا۔ پورے جہاز میں ساگ کی خوشبو تھی اور مسافر مڑ مڑ دیکھ رہے تھے۔ اب اوم پوری اپنے دائیں بائیں بیٹھے گورے مسافروں کا ساگ سے تعارف کراتے مکئی کی روٹی اور مکھن ساگ کے جوڑ کی تعریف کرتے انہیں چکھنے کی دعوت دیتے خود بھی نوالے لینا شروع تھے۔ ایک دو خاتون اور دو تین دوسرے مسافروں نے خواہش کردی تو اب پھر سیما کو آواز دی جا چکی تھی۔ وہ تشریف لائیں اور چھوٹے ٹکڑوں پر ساگ اور مکھن جما سب کو بانٹ اور شکریہ وصول کر رہی تھیں۔ سیما تو بچا کھانا لے اپنی نشست پہ جا خود کھانا شروع کر چکی تھیں اور اوم پوری داد سمیٹتے پکانے کی ترکیب اور اجزاء اور صحت بخشی کی صفات بتا رہے تھے۔

میں ضرورت کے تحت اٹھ کے آگے جاتے چند نشست آگے بیٹھی اپنی بہو کو اوم پوری کی ہمسائیگی کا بتانے لگا تو پتہ لگا اس کی آواز تو سب ہندوستانی مسافروں تک پہنچ چکی تھی۔ بہو کہنے لگی ”مگر انکل یہ جو خاتون سیما ہے، یہ مجھے اوم پوری کی بیوی تو نہیں لگتی۔ اور پھر یہ انڈین اور سکھ مسافروں سے، کہ وینکوؤر بھی ان کا گڑھ ہے، کچھ آنکھ چرا کے گزرتی ہے۔ اور یہ کہ چند روز پہلے ہی کسی ٹی وی ٹاک شو میں اس کی بیوی بیٹھی یہ خاتون نہیں تھی۔ میں نے اوم پوری کا بھی اپنے ہی نہیں تمام ہندوستانی مسافروں سے بے اعتنائی کا بتایا تو اس کا یقین پختہ ہو گیا۔

Om Puri – Nandita Puri

ہم وینکوؤر ائرپورٹ پہ دو گھنٹہ رک آگے پرنس جارج کی فلائٹ پکڑنے کے لئے لاؤنج میں بیٹھے تھے اور بہو موبائل پہ جُتی ہوئی تھیں۔ اچانک سر اٹھاتے فون میری طرف بڑھاتے ایک خاتون کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے بتایا کہ دیکھیں یہ تھی اوم پوری کی بیوی نندیتا کپور، اور اس سے چند برس قبل علیحدگی ہو چکی۔ ظاہر ہے ہم پر اوم پوری کے اتنے پریم سے سیما کو پکارنے اور اتنی چاہت سے سیما کے لذیذ اصلی دیہاتی پنجابی لنچ پیش کرنے کے انداز کے ساتھ یہ بھی اندازے لگانے کا پہلو نکل آیا کہ دونوں کی نشستیں ساتھ ساتھ نہ ہونے کا مقصد شاید الگ الگ بکنگ کرانا ہو۔ کہ ائر پورٹ پہ ہی ”سیما سے ملن ہو گا۔ مل جانے کے دن آئے“ ۔ والا ہی معاملہ ہو اور ہندوستانی مسافروں سے بے رخی رکھنا بھی شاید چپکے چپکے ”ماریں گے نظر سیاں مر جانے کے دن آئے“ اور بادلوں کے پار لے جانے کا معاملہ ظالم سماج کی گھورتی نگاہوں سے بچنے کے لئے ہو۔

زمانہ بیتتا گیا۔ اوم پوری بھی آنجہانی ہو چکے تھے۔ کبھی کبھار سوشل میڈیا کے کسی ٹاک شو پہ یا ٹی وی پہ لگی فلم اوم پوری کا نام سنتا یا وہ اداکاری کرتا نظر آتا تو سیما اور سرسوں کے ساگ سے اٹھتی سوندھی سوندھی خوشبو بھی یاد آجاتی۔ کورونا کا دور آیا اور وقت گزارنا مشکل ہوا ادھر ساتھ ہی تین بہت ہی مہربان فیس بک دوستوں کا میری اپنی یاد داشتوں کے قلم بند کرنے پہ اصرار بڑھا۔ ”ہم سب“ پہ حوصلہ افزائی پہ سلسلہ دراز ہوا تو کئی مرتبہ ائر کینیڈا کی فلائٹ میں سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی، مکھن کا پیڑا، سوندھی سوندھی خوشبو اور سیما نظروں کے سامنے گھوم یہ کہانی بھی لکھنے کی اشتہا پیدا کرتے۔ مگر ساتھ ہی کسی کی نجی زندگی کے متعلق یونہی کچھ افشا کرنا معیوب لگتا اور سیما والی الجھن دبانی پڑتی۔

جولائی کے آخری دن ایک مرتبہ پھر ائر کینیڈا ہی کی فلائٹ پہ ونی پیگ اپنی بیٹی کی طرف آتے ایک اوم پوری کی طرح کی ہی پاٹ دار آواز بالکل ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پچھلی نشست سے آتی محسوس ہوئی تو لگا جیسے اوم پوری آج پھر میرے پیچھے براجمان ہیں۔ اٹھ کے پیچھے دیکھا۔ ویسی ہی پاٹ دار آواز والے ایک ویسٹ انڈین دوست نظر پڑے اور گرم جوشی سے ہیلو ہائے ہو گئی۔ اور ساتھ ہی پھر دیسی گھی کے تڑکے والا سرسوں کا ساگ اور اس کی خوشبو احساس پہ چھا گئی۔

Om Puri with his first wife Seema Kapoor

گھر پہنچ پہلی فرصت میں اب کے میں انٹر نیٹ کی دنیا میں کھو چکا اور اوم پوری کے نام کے ساتھ سیما کا نام ڈھونڈ جوڑ کی تلاش میں تھا۔ آخر اوم پوری کی دو ہزار سولہ میں اچانک، اور بعد میں مشتبہ ہونے کی افواہوں والے ہارٹ اٹیک سے دنیا چھوڑ جانے اور سوگواروں کے پیغاموں تک پہنچ چکا تھا اور سیما کپور نام کی خاتون کا انیس سال کی عمر میں اس سے محبت اور کئی سال چاہت کے زمانہ گزرنے کے بعد انیس سو نوے میں شادی اور انیس سو اکانوے میں اور حیرت ناک طور دوسری عورت نندیتا پوری کی وجہ سے دس ماہ بعد ہی علیحدگی کی کہانی اور اس کے درد بیان کرتے محبت کے زندہ رہنے کی داستان تھی۔

اور چند سال بعد ہی اوم پوری کے تجدید تعلقات کی کوششوں یا پچھتاوے ذکر تھا۔ نندیتا سے دو ہزار چار، پانچ یا اس کے لگ بھگ ساتھ چھوٹنے اور لمبی مقدمہ بازی اور ایک سرجری کے بعد اوم پوری کی بڑھتی شراب خوری اور غم کے زمانہ میں پھر اپنی محبت کے دامن میں آ گرنے اور موت تک اکثر اس کے ساتھ ملاقاتوں اور اس کی سادگی پسندی اور خوشگوار لمحوں کی یادوں کی جگالی تھی۔ سیما کی تصویریں بھی تھیں، بس جس سیما کو میں نے دیکھا تھا وہ اسی سادگی کی مثال تھی جو اس نے اپنے محبوب کی پسند بتائی تھی۔ وہ اوم پوری کی تقریباً ہم عمر اور بھوپال کے اردو سپیکنگ اور اردو ادب و شاعری سے وابستہ راجستھان میں آ بسنے والے خاندان والی سیما نہیں بلکہ مکمل پنجابی الہڑ مٹیار تھی جو اپنی کھوئی محبت کے مشکل دنوں میں اس کے زخموں کا مداوا کرتے کبھی کبھار پرانی یادیں تازہ کرنے اس کا ہاتھ پکڑ کر دو قدم چل لیتی۔

Facebook Comments HS

One thought on “ائر کینیڈا کی فلائٹ: مکئی کی روٹی، ساگ، مکھن اور اوم پوری

  • 10/08/2024 at 3:19 صبح
    Permalink

    خوب ۔
    محبتیں عجیب ہیں

Comments are closed.