پُر امن انقلاب؟


سری لنکا اور مالدیپ کے بعد سارک ممالک میں ایک اور ملک میں انقلاب برپا ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ظلم و بربریت سے تنگ آ کر نوجوانوں نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔ جس کے نتیجے میں 350 سے زائد اموات ہوئیں۔ بالآخر فوج نے شیخ حسینہ واجد کو محفوظ راستہ دیتے ہوئے ملک سے فرار کروا دیا۔ تادم تحریر طلبہ تحریک کے مطالبے پر نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کو عبوری حکومت کا مشیر اعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں جو ہوا وہ اُس ظلم کا نتیجہ ہے جو حسینہ واجد نے برپا کیا ہوا تھا۔ مگر مجھے ذاتی طور پر انتہائی افسوس ہو رہا ہے جو وہاں کی عوام نے شیخ مجیب الرحمن کے مجسموں کے ساتھ کیا۔ گو کہ اسلام میں مجسمہ سازی کی ممانعت ہے مگر ایک ہیرو تھا، بنگلہ دیش کا بانی تھا۔ جس نے بنگلہ دیش کی آزادی میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان کا باغی نہیں تھا اُسے باغی بنایا گیا تھا۔ بنگالیوں کو اگر اُن کے حقوق دے دیے جاتے، 1971 کے انتخابات میں اکثریت کو تسلیم کر لیا جاتا تو بنگلہ دیش کی نوبت ہی نہیں آتی۔ مگر افسوس اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسرے کے گلے میں غداری کا پھندا ڈال دیا۔ اور آج کی نسل اس بات کو جانتے ہوئے بھی ہذیان میں مبتلا ہے۔

پاکستان میں یہ انقلاب 2014 میں معرضِ وجود میں آ جاتا، جب سانحہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ رونما ہوا تھا۔ اگر اس وقت سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی مفادات کا خیال رکھا جاتا تو آج پاکستان کسی اچھے مقام پر موجود ہوتا۔

دانشورانِ ملت اور عوامی نمائندوں کا خیال ہے کہ پُرامن انقلاب پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے۔ میں ان لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ دنیا عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب کبھی بھی پُرامن طریقے سے رونما نہیں ہوا ہے۔ جہاں جہاں بھی، اور جس جس وقت بھی انقلاب وقوع پذیر ہوا ہے اُس میں انسانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا ہے ۔ حالیہ تاریخ میں انقلاب فرانس، روس، تیونس، مراکش، لیبیا، سری لنکا، مالدیپ اور اَب بنگلہ دیش، سب جگہ وہاں کی عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار بھارت پاکستانی خفیہ ایجنسی کو ٹھہرا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔ جس کا بدلہ لیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس انقلاب کا سہرا جماعت اسلامی (بنگلہ دیش اور پاکستان) کو جاتا ہے۔ ہم لوگ بڑے سادہ لوح ہے۔ ہر کسی کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ چاہے وہ مبالغہ آرائی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہمیں ہذیان کا مرض بھی لاحق ہے۔ ہر بات کو بہت جلدی بھول جاتے ہیں۔ مگر تاریخ کبھی بھی کسی چیز کو نہیں بھولتی۔ تاریخ بہت کڑوی ہوتی ہے جسے ہضم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

یہ تو ایک الگ کہانی ہے۔ اب آتے ہیں وطن عزیز کی جانب۔

پاکستانی عوام بے حس، بے ضمیر، غیر سنجیدہ، اپنے حقوق اور وطن کی خوشحالی اور ترقی سے عاری قوم ہو چکی ہے۔ بدقسمتی سے ہم دوسروں کی کامیابیوں پر تو خوش ہوتے ہیں، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے پر اُن کی پُرزور حمایت بھی کرتے ہیں۔ دعائیں بھی کرتے ہیں۔ مگر جب باری اپنے پر آتی ہے تو ڈر کر گھر میں چھپ جاتے ہیں۔ اس وقت وطن عزیز میں حالات بنگلہ دیش، مالدیپ اور سری لنکا سے مختلف نہیں ہیں۔ مگر کیا کریں صاحب، یہاں ایک قوم نہیں بلکہ جتھے ہیں جن کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔

اور مفادات کا ٹکراؤ کسی صورت برداشت نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر بیٹھا ہے اور اسی میں خوش ہے۔ جب تک ایک قوم ہو کر اپنے حقوق کے لیے نہیں نکلا جائے گا، اپنے خون سے اس وطن عزیز کو سیراب نہیں کیا جائے گا۔ یہ خون چوسنے والی جونکیں ہمیشہ ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا خون چوستی رہے گی۔

ظلم و بربریت کا جو بازار پاکستان میں گرم ہے وہی حالات سابقہ ممالک میں بھی تھے۔ آزادی اظہار رائے پر پابندی، حقوق کی سلبی، اقربا پروری، کرپشن، لوٹ مار، لاقانونیت اور سب سے بڑھ کر الیکشن میں دھاندلی۔ فرق صرف یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مقتدرہ کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

آئی پی پیز کا معاملہ اس حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ اس کا فوری حل نہ نکالنا شہباز شریف کو لے ڈوبے گا۔ اس بارے میں میں نے پچھلے کالم میں وضاحت کردی تھی۔ مگر ابھی تک شہباز حکومت اس معاملے کو طول دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ سے پنگا لینے کی کوشش کی ہے۔ الیکشن ایکٹ میں آئینی ترمیم، سپریم کورٹ کے فیصلے سے مخالف ہے۔ گو کہ یہ آئینی ترمیم پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے لیے کی گئی ہے۔ جس پر یقیناً سپریم کورٹ ایکشن لے گی۔ پھر کیا ہو گا؟ ایک طرف آئی پی پیز کا معاملہ، دوسری طرف سپریم کورٹ سے مخاصمت اور اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کا ملک گیر دھرنا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات، ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات، فوج مخالف سمت میں جا رہے ہیں۔ گو کہ دونوں صوبوں کے حالات پہلے بھی بدتر ہوتے گئے ہیں، مگر اس وقت صورتحال کچھ مختلف ہے۔ جس کو سنبھالنے کی کوشش تو کی جا رہی ہے مگر سیدھی لکڑی سے نہیں بلکہ ٹیڑھی لکڑی سے۔

میں پھر وہی بات دہراؤں گا جب آپ کسی کے حقوق سلب کرو گے تو پھر آوازیں تو بلند ہوں گی۔ ہمیں اسباب پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان جو دہائیوں سے محرومیوں کا شکار ہے، آوازوں کو زورِ بازو سے دبانا کوئی اچھا اقدام نہیں ہے۔ ان عوامل کو ختم کرنا چاہیے جس سے یہ محرومیاں بڑھ رہی ہیں اور بغاوتیں اُمڈ رہی ہیں۔ رہی بات خیبرپختونخوا کی تو اُس کے مضافاتی علاقے یعنی وزیرستان سائیڈ، ہمیشہ سے ہی خانہ جنگی کا شکار رہی ہے۔

پہلے طالبان نے اُس علاقے کو برباد کر دیا اور اب دوسرے عوامل اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایپکس کمیٹی کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان عوامل کا اُن کی اُمنگوں کے مطابق سدباب کرنا ضروری ہے نہ کہ فوجی کارروائی۔ جنگ اس وقت ضروری ہوتی ہے جب بات سالمیت پر آ جائے، یہاں پر بات حقوق کی فراہمی کی ہے۔ ایک اور سقوطِ ڈھاکہ سے گُریز کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS