11 اگست 1947 کی قائد اعظم کی تاریخی اور شہرہ آفاق تقریر
بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی 11 اگست 1947 ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی تاریخی اور شہرہ آفاق تقریر پاکستان کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا مکمل متن اردو اور انگریزی زبانوں میں محفوظ کر لیا گیا ہے۔
قائد اعظمؒ، 7 اگست کو بمبئی سے کراچی تشریف لائے تھے۔ 10 اگست کو پاکستان دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہوا تھا۔ 11 اگست کو جہاں پاکستان کا نیا پرچم متعارف کروایا گیا تھا وہاں قائد اعظمؒ محمد علی جناح بلا مقابلہ دستور ساز اسمبلی کے قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان، کرن شنکر رائے، محمد ایوب کھوڑو اور ابوالقاسم کے علاوہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ممبر اسمبلی جوگندر ناتھ منڈل نے بھی تہنیتی تقاریر کی تھیں جو عارضی طور پر 10 اگست 1947 ء کو صدر اسمبلی مقرر ہوئے تھے۔ قائد اعظمؒ نے اس موقع پر جو تاریخی تقریر کی تھی، اس کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے۔
جناب صدر (جوگندرناتھ منڈل) اور خواتین و حضرات!
مجھے اپنا پہلا صدر منتخب کر کے آپ نے جس اعزاز سے نوازا ہے، اس کے لیے تہہ دل اور پورے خلوص کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں۔
یہ وہ عظیم اعزاز ہے جس سے یہ خود مختار مجلس کسی کو نواز سکتی ہے۔ میں ان رہنماؤں کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اپنی تقاریر میں میری خدمات کو سراہا اور میرے بارے میں ذاتی حوالے دیے۔ مجھے امید واثق ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ہم اس اسمبلی کو دنیا کے لیے ایک مثال بنا دیں گے۔
مجلس دستور ساز کو دو بڑے فریضے سر انجام دینے ہیں :
پہلا فرض تو بڑا کٹھن اور ذمہ داری کا کام ہے یعنی پاکستان کا مستقل دستور مرتب کرنا۔ ہمیں اپنی بہترین مساعی اس امر کے لیے صرف کرنا ہوں گی کہ ہم وفاقی مجلس قانون ساز پاکستان کے لیے ایک عبوری آئین تیار کریں۔
دوسرا ایک کامل خود مختار اور پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کا کردار ادا کرنا۔
پاکستان کا قیام، ایک پرامن جدوجہد
آپ جانتے ہیں کہ جس بے مثل طوفانی انقلاب کے ذریعہ اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار مملکتیں معرض وجود میں آئیں۔ اس پر نہ صرف ہم حیرت زدہ ہیں بلکہ ساری دنیا متحیر ہے۔ فی الواقع یہ صورت حال منفرد ہے اور تاریخ عالم میں بھی اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ملتی۔ اس عظیم برصغیر میں کہ جس میں ہر قسم کے لوگ آباد ہیں، ایک ایسا منصوبہ لایا گیا ہے کہ جو انتہائی نایاب و بے مثل ہے اور اس ضمن میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ پر امن طریقے سے اور عظیم تر تدریجی ارتقاء سے حاصل کیا ہے۔
اس مجلس کے پہلے فریضہ کے بارے میں اس وقت کسی سوچی سمجھی بات کا تو اعلان نہیں کر سکتا لیکن ایک دو چیزیں جو میرے ذہن میں آئیں گی، وہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ پہلی اور سب سے زیادہ اہم بات جو میں زور دے کر کہوں گا وہ یہ ہے کہ یاد رکھیے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو جملہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی آپ فیصلے کس طرح کرتے ہیں۔
پہلا فرض : امن و امان
پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا، وہ یہ ہے اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
سب سے بڑا مسئلہ : بد عنوانی
دوسری بات جو اس وقت میرے ذہن میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس سلسلہ میں مناسب اقدامات کریں گے، جتنی جلد اس اسمبلی کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو۔
دوسرا مسئلہ : چور بازاری یا ذخیرہ اندوزی
چور بازاری (یا ذخیرہ اندوزی) دوسری لعنت ہے۔ مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ عدالتیں ان کے لیے قید کی سزائیں تجویز کرتی ہیں یا بعض اوقات ان پر صرف جرمانے ہی عائد کیے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس لعنت کا بھی خاتمہ کرنا ہو گا۔ موجودہ تکلیف دہ حالات میں جب ہمیں مسلسل خوراک کی قلت یا دیگر ضروری اشیائے صرف کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چور بازاری، معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے لوگ باخبر، ذہین اور عام طور سے ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انہیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ خوراک اور دیگر ضروری اشیائے صرف کی باقاعدہ تقسیم کے نظام کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں اور اس طرح فاقہ کشی، احتیاج اور موت تک کا باعث بن جاتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ : اقربا پروری
ایک بات جو فوری طور پر میرے سامنے آتی ہے، وہ ہے اقربا پروری اور احباب نوازی، یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی ہے اور بہت سی اچھی بری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصہ میں آئی۔ اس برائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہو گا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا نوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ہی کسی اثر و رسوخ کو جو مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، قبول کروں گا۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقہ کار رائج ہے خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ سطح پر یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔
تقسیم ہند ناگزیر تھی
مجھے علم ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہند کی تقسیم اور پنجاب اور بنگال کے بٹوارے سے اتفاق نہیں۔ تقسیم کے خلاف بہت کچھ کہا جا چکا ہے لیکن اب جب کہ اسے تسلیم کیا جا چکا ہے، ہم سب کا فرض ہے کہ ہم سب اس کی پابندی کریں۔ عزت مندانہ طریقے سے اس پر عملدرآمد کریں کیوں کہ سمجھوتے کے مطابق اب یہ تقسیم قطعی ہے اور اس کا سب پر اطلاق ہو گا۔ لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے اور جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ جو زبردست انقلاب رونما ہوا ہے اس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ جہاں کہیں بھی ایک فرقہ اکثریت میں ہے اور دوسرا اقلیت میں ان دونوں کے مابین جذبات اور محسوسات میں افہام و تفہیم موجود ہوتی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ کیا گیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور اقدام ممکن اور قابل عمل تھا؟
تقسیم عمل میں آ چکی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب، ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو اس سے اتفاق نہ کریں اور اسے پسند نہ کریں لیکن میری رائے میں اس مسئلہ کا اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ تاریخ اس کے حق میں فیصلہ صادر کرے گی۔ مزید برآں، جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، تجربے سے یہ بات ثابت ہوتی جائے گی کہ ہند کے دستوری مسئلہ کا صرف یہی واحد حل تھا۔ متحدہ ہند کا تخیل قابل عمل نہیں تھا اور میری رائے میں یہ ہمیں خوفناک تباہی کے دہانے پر لے جاتا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ رائے درست ہو اور یہ بھی کہ درست نہ ہو لیکن اس کا فیصلہ بھی وقت ہی کرے گا۔ بایں ہمہ، اس تقسیم میں کسی ایک مملکت میں یا دوسری مملکت میں اقلیتوں کا وجود ناگزیر تھا۔ اس سے مفر نہیں تھا۔ اس کا بھی کوئی اور حل نہیں تھا۔
اب ہمیں کیا کرنا ہے؟
اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کر دینی چاہیے۔ بالخصوص عامتہ الناس کی اور غریبوں کی جانب، اگر آپ ماضی اور باہمی تنازعات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقیناً آپ کے قدم چومے گی۔ اگر آپ اپنا رویہ تبدیل کر لیں اور مل جل کر اس جذبہ سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ وہ اس ملک کا پہلا شہری ہے یا دوسرا یا آخری سب کے حقوق و مراعات اور فرائض مساوی ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ کس کا کس فرقہ سے تعلق ہے اور ماضی میں اس کے آپ کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات تھے اور اس کا رنگ و نسل یا عقیدہ کیا ہے تو آپ جس قدر ترقی کریں گے اس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔
میں اس بات پر بہت زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبہ کے ساتھ کام شروع کر دینا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت، ہندو فرقہ اور مسلمان فرقہ کے یہ چند در چند زاویے معدوم ہوجائیں گے۔ کیوں کہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان میں بھی تو پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی وغیرہ موجود ہیں اس طرح ہندوؤں میں بھی برہمن، ویش، کھتری ہیں اور بنگالی اور مدراسی ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہی چیزیں ہندوستان کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھیں۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہو گئے ہوتے۔ کوئی طاقت دوسری قوم کو اپنا غلام نہیں بنا سکتی بالخصوص اس قوم کو جو چالیس کروڑ انسانوں پر مشتمل ہو۔ اگر یہ کمزوری نہ ہوتی کوئی اس کو زیر نہیں کر سکتا تھا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کوئی آپ پر طویل عرصہ تک حکمرانی نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے!
جیسا کہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے یہ علم ہو گا کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی زیادہ ابتر تھے جیسے کہ آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر ظلم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کر رہے ہیں جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔
دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کر رہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔ انگلستان کے باشندوں کو وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے حقائق کا احساس کرنا پڑا اور ان ذمہ داریوں اور اس بار گراں سے سبکدوش ہونا پڑا جو ان کی حکومت نے ان پر ڈال دیا تھا اور وہ آگ کے اس مرحلے سے بتدریج گزر گئے۔ آپ بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہاں رومن کیتھولک ہیں نہ پروٹسٹنٹ۔ اب جو چیز موجود ہے وہ یہ کہ ہر فرد ایک شہری ہے اور سب برطانیہ عظمیٰ کے یکساں شہری ہیں۔ سب کے سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں۔
مذہب، ذاتی مسئلہ ہے!
میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اس بات کو ایک نصب العین کے طور پر اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو، ہندو رہے گا، نہ مسلمان، مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے۔ پس حضرات میں آپ کا مزید وقت لینا نہیں چاہتا اور ایک بار پھر اس اعزاز کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے آپ نے مجھے نوازا۔ میں ہمیشہ عدل اور انصاف کو مشعل راہ بناؤں گا اور جیسا کہ سیاسی زبان میں کہا جاتا ہے تعصب یا بدنیتی دوسرے لفظوں میں جانبداری اور اقربا پروری کو راہ نہ پانے دوں گا۔ عدل اور مکمل غیر جانبداری میرے رہنما اصول ہوں گے اور میں یقیناً آپ کی حمایت اور تعاون سے دنیا کی عظیم قوموں کی صف میں پاکستان کو دیکھنے کی امید کر سکتا ہوں۔
میں، آپ کو مجلس دستور ساز پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ایک پیغام پہنچانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ مجھے یہ پیغام ابھی ابھی وزیر خارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے موصول ہوا ہے :
”مجلس دستور ساز پاکستان کے پہلے اجلاس کے موقع پر میں آپ کی اور مجلس کے اراکین کی خدمت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت اور اس کے عوام کی جانب سے کار عظیم کی کامیابی کے ساتھ تکمیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں جس کا آپ آغاز کرنے والے ہیں۔“
قائد اعظم کی 11 اگست 1947 کی اس تقریر کے متعلق بہت بحث و مباحثے ہوتے ہیں جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک لادینی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ وہ صرف اسی ایک تقریر کو مد نظر رکھتے ہیں، جب کہ وہ قائد کے ان تمام ارشادات سے صرف نظر کر جاتے ہیں جو اسلامی نظریہ حیات، قرآنی دستور اور اسوہ حسنہ کی پیروی سے متعلق ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قائد کی اس تقریر کی پاکستان میں نفی ہو رہی ہے اور اس تقریر کے متن کے چند اجزاء کو آئین پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔
اب آئیے تقریر کے اس شہرہ آفاق حصے کی جانب جسے بنیاد بنا کر بے سر و پا باتیں کی جاتی ہیں اور نظریہ پاکستان کو قائد کی تقریر کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
”پاکستان میں اب آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادتِ گاہ میں، آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مذہب ذاتی مسئلہ ہے۔ جیسے جیسے زمانہ گزرے گا ہندو، ہندو نہ رہے گا نہ مسلمان، مسلمان رہے گا، مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائد ہیں، بلکہ سیاسی اعتبار سے۔
پاکستان میں کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہے، وہ اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے میں آزاد ہیں، بدھ ہوں، ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی یا احمدی ہوں، سب اپنے اپنے عقائد کی رو سے آزاد ہیں، کسی پر جبر یا دھونس نہیں کہ وہ اپنا مذہب یا عقیدہ چھوڑے، مملکت اور آئین کی نظر میں سب پاکستانی ہیں اور آئین پاکستان کے مطابق انہیں تمام انسانی، قانونی اور مذہبی حقوق یکساں طور پر حاصل ہیں۔ قائد اعظم کی اسی 11 اگست کی تقریر کے مناسبت سے پاکستان میں اقلیتوں کا دن 11 اگست قرار دیا گیا ہے اور قائد اعظم کی یہ تقریر اتنی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں بیان کردہ رہنما اصولوں کو بطور ایک دیباچہ آئین پاکستان میں شامل کر دینا چاہیے۔

