جنگل، جرنیل اور جناح


دنیا ایک جنگل کی مانند ہے جہاں دوسرے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے مختلف گروہ آباد ہیں۔ ان گروہوں کو آپس کی جبلتی لڑائیوں سے بچانے کے لئے معاشرہ سماجی و اخلاقی قوانین مرتب کرتا ہے۔ ان قوانین کی ابتدا خوف سے ہوئی کیونکہ کائنات کے مظاہر کے بارے میں انسان کا علم محدود تھا اور ماحول نامساعد۔ ایسے مشکل دور میں ہر قبیلے نے فطرتی مظاہر کی پرستش کے ساتھ اساطیری قصوں سے ماخوذ قوانین سے اپنے تحفظ اور بقا کی بنیاد رکھی۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ جب خوف پہ شعور نے قابو پایا تو انسانی گروہوں نے اجتماعی فہم و فکر کے مطابق عمرانی معاہدے یا سوشل کنٹریکٹس تشکیل دیے جو بعد ازاں آئین اور سماجی قوانین کی صورت منتج ہوئے۔ شعوری ارتقا کے یہ مظاہر میگنا کارٹا سے لے کر یورپ کی نشاط ثانیہ اور امریکہ میں غلامی کے خاتمے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

دنیا کے اس جنگل میں شمال مغربی ہند میں واقع ایک جنگل پاکستان کے نام کا بھی ہے جس کے قیام کی ابتدا اگرچہ برصغیر میں محمد بن قاسم کی آمد سے شروع کی جاتی ہے لیکن یہ خطہ پانچ ہزار برس پہلے ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی صورت میں انسانوں کی قدیم ترین اور شاندار تہذیبوں میں سے ایک رہا ہے۔ آکسفورڈ کی پبلک ہیلتھ کی کتاب میں دنیا میں صحت عامہ کے اقدامات کی ابتداء اس خطے کے صفائی کے نظام سے شروع ہوتی ہے۔ راجہ پورس سے لے کر دُلّا بھٹی اور رائے کھرل تک اور سوتی کپڑے کی ابتدا سے لے کر شطرنج تک سب اسی خطے کی پیداوار تھے۔

آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر پہ پھیلے اس جنگل میں کئی اقوام بستی ہیں جن کو انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ایک ایسے عمرانی معاہدہ کی ضرورت تھی جو ان کی سلامتی اور حقوق کا ضامن ہو۔ اس معاہدے کے خد و خال قائداعظم نے گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں بیان کیے اور یہ واضح کر دیا کہ یہ سماجی مساوات اور قانون کی حکمرانی کا عمرانی معاہدہ مذہبی قوانین کے تابع نہیں ہو گا۔ یہ تقریر مابعد نو آبادیاتی نظام کے سول و ملٹری نمائندوں اور جاگیرداروں کے مفادات پہ کاری ضرب تھی چنانچہ جناح کے جانے کے بعد رجعت پسند قوتوں نے گیارہ اگست کی تقریر کو قرارداد مقاصد کے سبز غلاف تلے دفن کر دیا اور خدا کی دی ہوئی انسانی فکر و دانش کو اپنا راہنما بنانے کی بجائے ماضی کے مزاروں کے اسیر بن گئے۔

اس جنگل کے سپہ سالار علماء و مشائخ کانفرنس میں تقریر کرتے جب یہ فرماتے ہیں کہ شریعت اور آئین کو نہ ماننے والوں کو ہم پاکستانی نہیں مانتے اور ملک کے وزیراعظم اس پہ عاجزی سے تالیاں بجاتے ہیں تو آنکھوں کے آگے نہ صرف پوری انسانی تہذیب کا ارتقائی سفر گھوم جاتا ہے بلکہ اس سفر میں انتہا پسندی اور اپنی پسند کی شریعتوں کے ہاتھوں ماری تمام لاشیں شف شف کی دھن پہ رقصاں ہو جاتی ہیں۔ وہ آمر بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے بار بار آئین توڑا اور وہ بھی جنہوں نے مذہب کے نام پہ اس جنگل کے پر امن باسیوں کو انتہا پسندی کے الاؤ میں پھینکا۔ وہ گدھے بھی دکھائی دیتے ہیں جن کی لائنیں دوبئی کی زیبرا کراسنگ پہ اتر گئی ہیں۔

کوئی انہیںں بتائے کہ منزل پہ پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ فقط آئین کی سربلندی اور پاسداری کا ہے۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ جناح کی گیارہ اگست کی تقریر جس میں انہوں نے ریاست پاکستان کی بنیاد، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی اور مساوات جیسے اصولوں پہ رکھی ہے، جب تک اس کو آئین، نصاب اور پاکستانیت کا لازمی حصہ نہیں بنایا جائے گا، شف شف کا وحشیانہ رقص جاری رہے گا۔ آزادی کے ستتر برس بیت جانے کے بعد اس جنگل کے باسیوں کو بنگلہ دیش کی طرح وسائل پہ قابض اشرافیہ سے ایک ایسی آزادی کی ضرورت ہے جو ایک روادار، خوشحال اور پرامن پاکستان بنا سکے، جہاں حقوق کا تحفظ ہو، جہاں عوام کی حکمرانی ہو۔ یہ منزل ممکن کے قریب اور لازم کے قریب تر ہے۔

Facebook Comments HS