چنبیلی کے پھول
یہ ساٹھ کی دہائی کا واقعہ ہے مجھے ٹائیفائیڈ ہو گیا۔ چھ یا سات سال کی عمر تھی ویسے تو اس سے قبل میں دو مرتبہ اس موذی بیماری کا شکار ہو چکا تھا مگر اس مرتبہ شدت کچھ زیادہ ہی تھی۔ لگاتار بخار کی باعث غنودگی اور بے ہوشی کا عالم رہتا تھا۔ ہماری امی جان بے شمار ادویات، جھاڑ پھونک، دعا، تعویز گنڈے، ٹونے ٹوٹکے سب آزما چکی تھیں۔ مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی یہاں تک کہ وہ میری زندگی سے مایوس سی ہو گئیں۔ میں نے کئی مرتبہ انہیں اور اماں بچل جو ہماری امی کی منہ بولی ماں تھیں کو چپکے چپکے روتے ہوئے دیکھا اور ساتھ ساتھ عیادت کرنے والوں کا بڑھتا ہوا ہجوم مجھے احساس دلا رہا تھا کہ موت و حیات کی کشمکش میں ہوں۔
ایک صبح مجھے کچھ ہوش آیا تو گھر کے دروازے پر دستک سنائی دی۔ یہ ہمارے علاقے کا واحد مشہور اور تاریخی میراثی چاچا گاموں خان تھا۔ جو مجھے پوچھنے اور عیادت کرنے آیا تھا۔ ہمارے علاقے میں ایک اچھا رواج یہ آج بھی ہے کہ جو عیادت کو آتا ہے وہ چند لمحے مریض کے ساتھ گزارتا اور دعا کر کے خیرات کے نام پر کچھ نہ کچھ رقم ضرور مریض کے تکیے کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ آج گاموں مراثی کے گلے میں ڈھول کی بجائے ہاتھ میں ایک چھابی ( چنگیر ) تھی جو چنبیلی کے پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے پہلے میری بخار سے تپتی پیشانی کو چوما اور آبدیدہ ہو گیا۔ اس نے پھولوں سے بھری چھابی میرے سرہانے رکھ دی اور امی جان سے کہا یہ پھول میرے طرف سے دعا کے لیے ہیں۔ یہ میں پڑھوا کر لایا ہوں۔ انہیں اس کے سرہانے سے ہٹانا نہیں ہے۔ جونہی اس نے چھابی سے رومال ہٹایا پورے کمرے میں چنبیلی کی دھیمی دھیمی بے حد خوشگوار خوشبو پھیل گئی۔ مجھے بے حد سکون محسوس ہوا کیونکہ اس دور میں مریض کو صحت یابی تک کمبل ڈال کر رکھا جاتا تھا تاکہ اسے ہوا نہ لگے اور نہلایا تک نہیں جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے کمرے میں ادویات اور جسم میں ٹائیفائڈ کی ایک ناگوار بو محسوس ہوتی تھی۔
چنبیلی کی خوشبو نے مجھے تازگی اور فرحت سے سرشار کر دیا۔ اب وہ روز صبح آتا اور میرے سرہانے رکھنے کے لیے تازہ چنبیلی کے پھول لاتا۔ چند لمحے بیٹھ کر طبیعت پوچھتا میرا سر دباتا۔ یہ ان پھولوں کی خوشبو کا کمال تھا یا گاموں کی دعاؤں کا اثر کہ دوا نے بھی اثر دکھانا شروع کر دیا اور میں چند دنوں میں بھلا چنگا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ میری امی جان پہلے ہی چنبیلی کے پھولوں سے لگاؤ رکھتی تھیں مگر اس واقعہ کے بعد تو چنبیلی ان کی زندگی کا حصہ بن گئی شاید وہ اس پھول کی جادوئی کرامات سے واقف ہو چکی تھیں۔ گاموں ہر ہفتے پھولوں کا گلدستہ لاتا اور انعام پاتا۔ گھر کی کیاری میں امی نے بھی موتیے کے پودے لگائے روز صبح تازہ چنبیلی اور موتیے کے پھولوں کے گلدستے، ہار اور گجرے بنائے جاتے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ساری عمر سرسوں کے تیل میں چنبیلی کے تیل کو ملا کر استعمال کیا۔ ، چنبیلی کا پوڈر، عطر اور پرفیوم بے حد پسند کرتیں تھیں۔ گویا چنبیلی ہمارے گھر کا لازمی جزو بن گئی۔
جب میں بڑا ہوا تو ایک دن میں نے گاموں سے پوچھا چاچا جی! یہ چنبلی کے پھول کس سے پڑھوائے یا دم کرائے تھے۔ وہ سیدھا سادہ ان پڑھ درویش صفت انسان تھا۔ بے ساختہ مسکرا کر بولا یار! میرے ایک استاد پیر نے کہا تھا جب کوئی دوا اثر نہ کرے تو چنبیلی کی خوشبو آخری علاج ہوتا ہے۔
وہ کہنے لگا کہ میں صبح کی نماز پڑھ کے ہر ہر پھول پر درود شریف پڑھ کر پھونکتا تھا اور وہی پھول تمہارے پاس لاتا تھا۔ کیونکہ درود شریف سے چنبلی کی مہک اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جو انسانی سانسوں کو معطر کر دیتی ہے اور انسان تروتازہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت خوشبو سے علاج کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر اس نے بتایا کہ چنبیلی کے بے شمار طبی فائدے ہیں چنبیلی کی خوشبو یاسیت، ڈپریشن اور تشویش کو کم کر کے ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے۔ اس کے پتوں کے جوشاندے سے کلی کرنے سے دانت کا درد اور منہ کی بو ختم ہو جاتی ہے۔ چنبیلی کی جڑ کا جوشاندہ اور اس کے تیل کی مالش، درد سر، فالج، لقوہ اور اخراج بلغم و گیس کے لیے اکسیر ہے۔ اس کی جڑ کو ابٹن بنا کر چہرے پر لگایا جائے تو چہرے کا رنگ نکھر جاتا ہے۔ چنبیلی کا تیل سر میں لگانے سے دماغ کو تراوٹ اور تقویت ملتی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے مجھے وہ کوئی سنیاسی یا حکیم لگ رہا تھا۔
یہ بعد میں میرے مطالعہ میں آیا کہ چنبیلی کے اس کے علاوہ بے شمار جادوئی فوائد ہیں۔ اس کی خوشبو دنیا کی بہترین خوشبوؤں میں شمار ہوتی ہے۔ جو اپنی دھیمی دھیمی مہک سے پورے ماحول پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ اس لیے چنبیلی کو ملکہ شب کہا جاتا ہے کیونکہ رات میں اس کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ اس کی خوشبو کی وجہ سے سانپ اس کی بیل اور جھاڑی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ پھر پڑھا کہ چنبیلی کی کاشت اور اس کا کاروبار بے حد منافع بخش ہوتا ہے۔ چنبیلی کا تیل بے حد مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں پرفیوم کے لیے اس کی کاشت تجارتی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ مگر مسلمان ملک مصر چنبیلی کے پھولوں کی کاشت کے لیے بہت مشہور ہے۔ جس کی تجارت سے مصر نہ صرف سالانہ ساٹھ لاکھ ڈالر سے زیادہ کماتا ہے بلکہ پچاس ہزار افراد کو روزگار مہیا ہوتا ہے۔ مصری چنبیلی کے پھول دنیا میں بننے والی پرفیوم کی نصف پیداوار میں استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا یہ قومی پھول ہونے کے باوجود آج تک ہماری تجارت کا حصہ نہ بن سکا نہ اس کی کاشت ہمارا روزگار ہی بن سکی۔ ہر گلی محلے اور گھر میں اس کے پودے موجود ہیں۔ مگر ہم اس کی تجارتی اہمیت، خوبیوں اور افادیت سے قطعی واقفیت نہیں رکھتے ہیں بلکہ اس کا استعمال صرف ہاروں، گجروں اور گل دستوں تک ہی محدود رکھتے ہیں۔
دنیا کے ہر ملک میں کچھ نشانیوں کو، پرندوں، درختوں، پھولوں پھلوں۔ مشروب، جانوروں، کھیلوں، لباس اور مقامات کو قومی علامت قرار دیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف ان کی اہمیت کو اُجاگر کیا جا سکے بلکہ ان کے تحفظ کا بھی خیال رکھا جائے اسی طرح صوبائی اور علاقائی سطح پر بھی کچھ چیزوں کو وہاں کی نشانیاں اور علامت قرار دیا جاتا ہے جو ان سے محبت اور لگاؤ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ میرے والد بتایا کرتے تھے کہ چنبیلی ہمارا قومی پھول ہے اور قومی پھول سے محبت ہم پر فرض ہے اس کی چار پنکھڑیاں ہمارے صوبوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور اس کی سبز پتیاں اسلامی تشخص کو اجاگر کرتی ہیں۔ اس پوری دنیا میں یہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ برادر مسلم ملک انڈونیشیا کا بھی قومی پھول ہے۔ اس پھول کو پاکستان کے قومی پھول کا اعزاز اس لیے بخشا گیا کیونکہ یہ ملک کے ہر علاقے میں پیدا ہوتا ہے اور ملک میں موجود مختلف ثقافتوں اور زبانوں کی ہم آہنگی سے آپس میں جڑے رہنے کو ظاہر کرتا ہے اور ملک بھر کے باشندے اس پھول سے مساوی طور پر جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ چونکہ چنبیلی کا پھول سفید رنگ کا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ موجود سبز پتوں کی وجہ سے پاکستان کے قومی پرچم جیسا نظر آتا ہے اس لیے اسے پاکستان کا قومی پھول قراردیا گیا تھا۔ ہمارا پرچم اور ہمارا قومی پھول دونوں ہی ہمارے لیے مقدس اور محترم ہیں۔ آئیں اس یوم آزادی پر عہد کریں کہ اس پودے کو پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔
آج بھی چنبیلی کے پھول میری کمزوری ہیں مجھے ان میں اپنی مرحومہ ماں کی محبت اور جھلک نظر آتی ہے۔ مائیں تو ہوتی ہی چنبیلی کی طرح ہیں ان کی موجودگی میں ان کی خوشبو اور ان کے بعد ان کی مہک انسانی زندگی کا احاطہ کر لیتی ہیں۔ میرے ہر گھر میں چنبیلی کے سبز پودے اور سفید پھول اس بات کی علامت ہیں کہ ہم انہیں نہیں بھولے وہ ہماری یادوں اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں اور یہ ہماری زندگی ان کی دعاؤں کے طفیل ہی تو زندگی ہے۔ چاچا گاموں کے چنبیلی کے ہار، گلدستے اور گجرے میری زندگی میں ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں ان میں سے اس کی محبت کی مہک آتی ہے۔
میری خواہش ہے کہ نئی نسل اس کی منافع بخش کاشت پر توجہ دے اور اس کی خوشبو اور تیل کی اہمیت اور افادیت کو سمجھے تو یہ گھر گھر کاشت قومی پھول، زراعت کا حصہ اور ہماری برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے اور برادر اسلامی ملک مصر کی طرح اس کی جدید خطوط پر زرعی اور تجارتی کاشت بے شمار لوگوں کو روزگار اور مالی فوائد پہنچا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ پھول خوشبو، دوا، طبی فوائد اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔

