تم لڑکے ہو رونا نہیں
چلو آج بات کرتے ہیں ان پر جن پر کبھی بات نہیں ہوئی، جو اپنے لیے کبھی نہیں بولے، آج بات کرتے ہیں ان پر جو دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اپنی خوشی دبا دیتے ہیں۔
لڑکے
ہمارے معاشرے میں لڑکے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پیدا ہوتے ہی اس کے گھر والے یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ ہے جو اب گھر چلائے گا اور اپنے گھر کی ذمے داریوں کو نبھائے گا۔ اسی وقت امیدیں وابستہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
بچپن میں اگر کوئی لڑکا روتا ہے تو اس کی ماں اسے خاموش کروا دیتی ہے اور یہ بولا جاتا ہے کہ تم لڑکی ہو جو رو رہے ہو لڑکے بنو۔ کیوں؟ کیا لڑکے انسان نہیں ہوتے؟ کیا ان کے جذبات نہیں ہوتے؟ کیا وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے؟جھوٹ بولتے ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ لڑکے رو نہیں سکتے بس ان سے کوئی پوچھتا نہیں اور اگر پوچھنے والا مل جائے تو بس وہ اپنے دل کی ہر بات ان سے شیئر کریں لیکن کیا ایسا ہوتا ہے؟ بالکل نہیں۔
موسم کہیں پہ کوئی سا بھی ہو اپنا گھر چلانے کے لیے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ میں بیمار ہوں یا نہیں، اسے صرف یہی نظر آ تا ہے کہ گھر کی ضروریات کو کس طرح پورا کرنا ہے اس صورت میں وہ اپنی ذات کو بھی بھول جاتا ہے۔ تو پھر ہم کیوں نہیں بات کرتے لڑکوں پر؟ کیوں ہم سمجھتے ہیں کہ ہر لڑکا ایک جیسا ہوتا ہے ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے کیا کر رہا ہے، کیوں ہمیں ان کے جذبات نظر نہیں آتے؟ کیوں نہیں ہم یہ سوچتے کہ اسے کیسا لگ رہا ہو گا۔ لڑکوں کو حق ہے کھل کر اپنے جذبات ظاہر کرنے کا۔
کئی ثقافتوں میں لڑکوں کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ وہ غم یا خوف جیسے جذبات کو دبائیں تاکہ وہ مضبوط یا ”مرد“ نظر آئیں۔ اس کے نتیجے میں، لڑکے اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور مدد مانگنے میں مشکل محسوس کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ اپنے جذبات کا اظہار ایسے طریقوں سے کرتے ہیں جو معاشرتی توقعات کے مطابق ہوتے ہیں، جیسے کہ جسمانی سرگرمیوں، مزاح، یا زیادہ خاموشی کے ذریعے۔
ہر فرد مختلف ہوتا ہے، اور ضروری نہیں کہ تمام لڑکے ان عمومی خیالات پر پورا اتریں۔ لڑکوں کو اپنے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے اور صحت مند طریقوں سے اظہار کرنے کے لیے کھلی گفتگو اور جذباتی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
اگر بات ہم غصے کی کریں تو ، غصہ ایک ایسا جذبہ ہے جسے لڑکے زیادہ آسانی سے ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اسے اکثر ”مردانگی“ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ غصے کے ذریعے اپنے اندر کے دبے ہوئے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خوشی کو ظاہر کرنا عموماً آسان ہوتا ہے، اور لڑکے اسے مختلف طریقوں سے ظاہر کرتے ہیں، جیسے کہ دوستوں کے ساتھ مزاح، کھیل کود، یا پسندیدہ سرگرمیوں میں حصہ لے کر اور اگر بات ان کی محبت کی آ جائے تو لڑکوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سے ان کی مردانگی پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ وہ محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں، جیسے کہ دوسروں کی مدد کرنا، تحائف دینا، یا وقت گزارنا۔
معاشرتی دباؤ کے تحت جذبات کو دبانے کی وجہ سے لڑکوں میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے کہ ڈپریشن، اینگزائٹی، اور غصے کے مسائل۔ اگر وہ اپنے جذبات کو کسی سے شیئر نہ کریں، تو یہ ان کے اندرونی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں لڑکوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی ترغیب ملے۔ یہ ہمیں اپنے گھروں سے شروع کرنا ہو گا۔ وہ نہیں کہہ پاتے اپنی تکلیفیں اپنوں کے آگے۔ ہمیں ان کے جذبات سننے ہوں گے کیونکہ جب وہ سب کی تکلیفیں بڑے دھیان سے سنتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟


