سروج دیوی اور رضیہ پروین: کاش خارجہ پالیسی آپ کے ہاتھ میں ہوتی
آپ میں سے اکثریت شاید یہ کالم/ بلاگ پڑھنے کی ہی زحمت نہ کرے کیوں کہ عنوان میں کوئی سنسنی خیزی نہیں ہے۔ ان قابل صد احترام خواتین کے نام سے آپ واقف نہیں ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ سطر نظر سے گزار چکے ہیں تو آپ نے بھانپ لیا ہے کہ یہ خواتین گمنام نہیں ہیں اور نہ ہی عام ہیں۔ سروج دیوی ماتا جی ہیں چندی گڑھ ’ہریانہ بھارت کے عالمی شہرت یافتہ مایہ ناز جولین تھرو کے کھلاڑی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کی۔ اور رضیہ پروین والدہ ہیں پاکستانی تاریخ ساز اولمپیئن ارشد ندیم کی۔ ارشد ندیم جو میاں چنوں ( جس کا نام ہی کافی ماڈرن لوگوں کو ہنساتا ہے اور برگر کلاس نے تو شاید کبھی گوگل سے بھی اس کے بارے میں نہ جانا ہو کہ اس کی تو سڑک بھی کچی ہے ) پنجاب کے سپوت ہیں۔
یہ جملے ہمارے ہیرو بلکہ ہمارے نئے قومی ہیرو ارشد ندیم کی اَنْ تَھک محنت ’لازوال ہمّت اور تلخی حالات کے باوجود اپنے آپ کو باوقار رکھ کر ایک عجیب سی دلاویز مسکراہٹ اور سکون کے ساتھ ( جس کو صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو غربت کی گود میں پلے ہوں اور جنھوں نے انٹائٹلمنٹ والوں کی ہر بے اصولی سہی ہو) کی مدح سرائی نہیں ہیں۔ یہ تو ارشد کے حصّے میں مسلسل آ رہی ہیں۔ عوام تو دل سے خوش ہیں مگر گرگٹ بھی نظر آرہے ہیں۔ یہی دنیا ہے۔
چیمپئن سمجھدار ہیں امید ہے اپنے آپ کا استحصال کروانے سے بچ جائیں گے ’چالاک اور خود غرض میڈیا سے گریز کریں گے اور پیشگی ادائیگی کے بغیر کوئی کمرشل نہیں کریں گے۔ امید ہے وہ کئی سابقہ کھلاڑیوں کے عبرت ناک انجام سے آشنا ہوں گے جو سادہ لوح تھے جو اپنے آپ کو مارکیٹ نہیں کرسکے جو غیر ملکی شہریت نہیں لے سکے اور جو گورنمنٹ کے وعدوں پر رہ گئے۔ اللہ میرے پیارے بیٹے کا نگہبان ہے۔
آج کی تحریر تو دو عظیم کھلاڑیوں کی ماؤں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے دل سے سیاست اور عسکریت میں حریف ملکوں کے ’گیم میں حریف دو عظیم کھلاڑیوں کو ”ہمارا لڑکا“ ”ہمارا بیٹا“ کہہ کر ڈھیروں ڈھیر آشیر باد دے دیا‘ دعاؤں کی ایک سادہ سی لسٹ اوپر والے کے حوالے کر دی۔ اب مودی جی بھی پریشان ہیں کہ ان دو پنجابی ماؤں کو کیا کہیں؟ ماؤں کے بیان فارن آفس کی اندوہناک یا چالاک سٹیٹمنٹ نہیں ہوتی۔ نیرج اور ارشد کے جیسی ماؤں کو شطرنج نہیں کھیلنی آتی۔
کاش ہم اس سچائی کو قبول کر سکتے کہ کھیل جنگ نہیں ہے یہ تو بے سرو سامان لوگوں کو شادمانی دیتا ہے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے کا آسرا دیتا ہے یہ یقین دلاتا ہے کہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔ یہ جو راستے ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے۔ اور جنگ بھی کھیل نہیں ہے اور ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کو تباہ حال کر دینا یا رکھنا ”پارٹ آف دی گیم“ نہیں ہوتا بلکہ اس کو جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کا درجہ دینا ہو گا۔
محبّت کی سرحد نہیں ہوتی اور اس کی یادداشت کی ہارڈ ڈسک میں ماضی کی لرزہ خیز داستانیں اور خوں رنگ کہانیاں سیو ہی نہیں ہوتیں۔ کاش یہ سانجھی مائیں ہماری خارجہ پالیسی اور بجٹ کی ذمہ داری سنبھال رہی ہوتیں تو نہ کسان خود کشی کرتے ’نہ برین ڈرین ہوتا‘ نہ متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی۔ سب کو بھات ’کھاٹ‘ چھت اور صحت ’قلم‘ کتاب ’کمپیوٹر‘ کھیل کے میدان اور سامان بطور حق نا کہ احسان ’سبز باغ یا کھوکھلا انتخابی وعدہ نصیب ہوتے۔
جن کو میری یہ بات جذباتی یا نان پریکٹیکل لگ رہی ہے تو ان کے لیے عرض ہے کہ میں نے پریکٹیکل زندگی گزاری ہے اور یہ صلاح میرے تجربات کا نچوڑ ہے۔ رہی بات انگریزی اور ٹیکنیکل پیرس بنانے کی تو اس کے لئے بے حساب گڈ لوکنگ آئی وی لیگ کی درسگاہوں سے فارغ شدہ ”لوگ“ ہیں۔ جب تک غریب کی نمائندگی غریب نہیں کریں گے اور وہ غریب جو حالات کی تبدیلی سے اپنا ماضی نہیں بھولتے اور اپنے اوپر ظلم کرنے والے ظالم سے زیادہ ظالم نہیں بنتے ( یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے اور حقیقت ہے ) غیر منصفانہ نظام قائم رہے گا۔
غریبوں کا تقاضا ہے نظام زندگی بدلو
امیروں کی سخاوت سے تو ناداری نہیں جاتی
(نظیر صدیقی )
اور یہ نظام صرف رضیہ پرویز اور سروج دیوی جیسی سادی عورتیں ہی تبدیل کر سکتی ہیں جو کسی پیس فیلو شپ کی اہل نہیں ہیں جو کسی کرنٹ افیئرز شو میں انڈیا۔ پاکستان کے ”تعلقات“ پر رائے دینے کی اہل نہیں ہیں جو یو این اسمبلی کے پروٹوکولز سے باخبر نہیں ہیں جن کا ایکس پر اکاؤنٹ نہیں ہے۔ جی ہاں ایسی ہی خواتین دنیا بدل سکتی ہیں نہ کہ مراعات یافتہ طبقات کے لوگ یا اشرافیہ یا لابنگ یا ایجنڈے کے تحت دیے جانے والے نوبل یا دوسرے عالمی اعزازات۔
ڈاکٹر رخشندہ پروین نے اپنی نو عمری میں صحافت کا آغاز انگریزی اخبار ”دی مسلم“ سے کیا تھا۔ وہ اردو اور انگریزی زبانوں میں کالم/بلاگز اور کتابیں لکھتی ہیں مشکل موضوعات پر وکھری باتیں کرتی ہیں ’لبرل ہیں‘ فیمنسٹ ہیں اور پاکستان سے غیر مشروط محبّت کرتی ہیں۔ کبھی شاعری بھی کرتی تھیں۔ مختلف جامعات میں پبلک ہیلتھ ’تولیدی صحت‘ میڈیا اور فیمنسزم پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ وہ پی ٹی وی پر صبح کی لائیو نشریات اور حالات حاضرہ کے شو کی پہلی سولو خاتون اینکر ہونے کا بھی اعزاز رکھتی ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر اور پبلک ہیلتھ سائنٹسٹ ہیں اور صنفی امتیاز کے حوالے سے ان کے کئی ٹی وی اور کمیونٹی پروجیکٹس نمایاں ہیں۔ گزشتہ دس بارہ برسوں سے بنگلہ دیش میں پاکستانی بہاری محصورین کے حوالے سے آگاہی بھی بیدار کر رہی ہیں۔




