میڈ اِن پاکستان
جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوتا میرا چھوٹا بیٹا علی مجھ سے پہلا سوال یہ کرتا ”بابا میری سائیکل لائے ہو؟“ میں نوکری کی مصروفیات سے تھکا ٹوٹا انسان اس سوال پہ اور زیادہ بجھ سا جاتا اور کہتا کہ بیٹا سائیکل والی دکانیں کافی دور ہیں ہیں لہٰذا کسی چھٹی والے دن جاکر سائیکل ضرور لے آئیں گے۔ علی میرے جواب سے ذرا بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا اور منہ بسور لیتا تھا۔
ایک دن میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دوست نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ اس کے کزن کی شیخو پورہ میں بچوں کے سائیکل بنانے والی فیکٹری ہے، وہ بڑے پیمانے پر چھوٹی سائیکلیں تیار کر کے مارکیٹ میں سپلائی کرتے ہیں۔ میرے ذہن میں فوراً اپنے بیٹے علی کی سائیکل کا خیال آیا اور میں نے دوست سے پوچھا کہ کیا وہ ایک آدھ سائیکل بھی دے دیں گے۔ ”کیوں نہیں بھائی ضرور دے دیں گے۔“ دوست نے جواب دیا۔
تقریباً ایک ہفتے کے بعد ہم دو سائیکلیں لینے کے لیے شیخوپورہ روانہ ہو گئے، کیونکہ دفتر کے ایک اور کولیگ کو بھی سائیکل کی ضرورت تھی۔ ہم راستہ پوچھتے اور موبائل فون پر لوکیشن ٹریک کرتے ہوئے منزل پہ پہنچے تو دیکھا کہ فیکٹری کا مالک جسے ہمارے دوست نے ہماری آمد کے بارے میں پیشگی اطلاع کر دی تھی، ہمیں خوش آمدید کہنے کے لیے خود وہاں موجود تھا جو منحنی سی طبیعت کا مالک تھا۔ چائے پانی کے بعد اس نے ہمیں فیکٹری کا وزٹ کروایا۔ یہ ایک چھوٹی سی فیکٹری تھی جس میں پندرہ بیس افراد اپنے کام میں مشغول تھے، کوئی پائپ کاٹ کر فریم بنا رہا تھا، کوئی فریم پینٹ کر رہا تھا، کوئی ہینڈل جوڑ رہا تھا، کوئی آخر میں سائیکل کو مکمل کر رہا تھا۔ سارا کا سارا ماحول دیسی ٹائپ کا تھا۔
تھوڑی بہت گپ شپ کے بعد ہم نے مطلب کی بات کی کہ ہمیں اپنے بچوں کے لیے دو عدد سائیکلیں درکار تھیں۔ انھوں نے ملازم کو آواز دے کر کہا ”اوئے ادریس جلدی سے جاکر دو بہترین میٹیریل والی سائیکلیں نکال کر لا“ یہ سن کر ادریس تو چلا گیا اور ہم دل ہی دل میں خوش ہونے لگے کہ ہمیں بہترین کوالٹی والی سائیکلیں ملیں گی۔ تھوڑی دیر میں ادریس مختلف رنگوں کی دو چھوٹی سائیکلیں لے آیا جن کے پچھلے پہیے کے ساتھ دونوں اطراف میں بچے کو گرنے سے بچانے والے چھوٹے چھوٹے سپورٹنگ ٹائرز لگے ہوئے تھے۔ سائیکلوں کو دوست کی کار کی ڈگی میں رکھا اور فیکٹری مالک سے قیمت کا پوچھا تو وہ بھلے مانس مسکراتے ہوئے کہنے لگا ”بھائی صاحب آپ ہمارے کزن کے ریفرنس سے آئے ہیں، آپ سے بھاؤ تاؤ کرنے کا پاپ ہم کیسے کر سکتے ہیں، آپ پیسے رہنے دیجئے۔“ تعلق داری کی بنیاد پر اس طرح مفت بری ہمیں چنداں گوارا نہ تھی سو اسے سائیکلوں کی قیمت ادا کی جسے تھوڑی سی پس و پیش کے بعد اس نے رکھ لیا اور ہم نے گھروں کا رخ کیا۔
سائیکل دیکھ کر علی خوشی سے نہال ہو گیا۔ بچے کی خوشی دیکھ کر میں بھی مطمئن ہو رہا کہ علی کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔ علی اسے سارے گھر میں گھمائے پھر رہا تھا اور ہم سب اسے دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔ اگلے ہی روز میں اپنے آفس سے گھر آیا تو علی نے پہلی خبر یہ دی کہ بابا جی سائیکل کا ایک ٹائر ٹوٹ گیا ہے۔ میں حیرانی اور پریشانی کے عالم میں سوچنے لگا کہ ابھی کل ہی تو سائیکل آئی ہے اور آج اس کا ٹائر بھی ٹوٹ گیا۔ خیر سائیکل کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سپورٹنگ ٹائرز انتہائی ناقص مٹیریل سے تیار شدہ تھے جو ذرا سا بھی بوجھ برداشت نہ کر سکے اور ترچھے ہو گئے، میں نے پلاس کی مدد سے مڑے ہوئے سپورٹنگ ٹائرز کو کچھ سیدھا تو کر دیا مگر وہ علی کی ایک رائڈ سے پھر مڑ گئے۔ میں نے علی کو تسلی دی کہ ہم اسے کسی سائیکل مکینک کے پاس لے جا کر ٹھیک کروائیں گے۔ کئی دن مجھے ٹائم نہ مل پایا اور ہم سائیکل ٹھیک کروا نے نہ جا سکے۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ علی نے سائیکل کی گدی بھی علیحدہ کر ڈالی ہے، تب میں نے سوچا اس طرح تو اس نئی سائیکل کا کباڑا ہو جائے گا اور ہم باپ بیٹا اسے ٹھیک کروانے کے لیے بازار لے گئے۔ سائیکل ٹھیک کروانے کا مجھے کوئی خاص تجربہ نہیں تھا کہ زمانہ طالبعلمی کے بعد کبھی سائیکل چلانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا تھا مگر مجھے یاد آیا کہ میں جس دکان سے سبزی لیتا ہوں اس کے عین بغل میں ایک بوڑھا سا شخص سائیکل ٹھیک کرتا، پنکچر وغیرہ لگاتا دکھائی دیتا تھا۔ ہم سیدھا اسی دکان پہ جا پہنچے۔ بابا جی نے سائیکل کا معائنہ کیا اور کہا کہ اس کو رکھ جاؤ، کل تک ٹھیک ہوگی اس لیے کہ اس کے سپورٹنگ ٹائر نئے منگوا کے لگوانے پڑیں گے۔
میں اگلے دن بابا جی کی دکان پہ گیا تو سائیکل جوں کی توں خراب حالت میں ایک کونے میں پڑی تھی۔ میں نے کہا بابا جی اس کو ابھی تک ٹھیک کیوں نہیں کیا۔ بابا جی نے بتایا کہ اس کے سپورٹنگ ٹائر باوجود کوشش کے نہیں مل پائے، کوشش جاری ہے، آپ ایک ادھ دن انتظار کریں۔ دو تین دن کے بعد میں میں پھر بابا جی کی دکان پہ گیا تو بابا جی نے سائیکل ٹھیک کر دی تھی۔ نئے سپورٹنگ ٹائر لگے ہوئے تھے جو بظاہر کچھ مضبوط دکھائی دے رہے تھے اور گدی بھی ٹھیک کَس دی تھی۔ بابا جی نے میرے اندازے سے دگنے پیسے مانگے جو مجھے دینا پڑے کہ چلو یہ ٹھیک تو ہوئی۔ علی اور میں دونوں سائیکل ٹھیک ہو جانے سے خوش تھے۔
دو دن گزرے تھے کہ میں جیسے ہی دفتر سے واپس لوٹا علی نے خبر بریک کی کہ بابا جی سائیکل پھر خراب ہو گئی ہے۔ میں نے سائیکل کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ اس کے سپورٹنگ ٹائر پھر مڑ تڑ گئے ہیں۔ ہم دونوں باپ بیٹا ایک بار پھر بابا جی کی دکان پہ پہنچے اور بتایا کہ بزرگو! آپ کے اعلیٰ کوالٹی کے ٹائر دو دن بھی نہیں نکال پائے۔ بابا جی نے پھر وہی بات کی کہ اسے رکھ جاؤ۔ ہم بابا جی کو اس کی جلدی مرمت کرنے کی تاکید کر کے گھر لوٹنے لگے تو احتیاطاً بابا جی کا فون نمبر لے لیا کہ فون کر کے پوچھ لیں گے کہ ٹھیک ہوئی یا نہیں۔ اگلے دن بابا جی کو متعدد بار فون کیا مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ آخر کار ہم باپ بیٹا سائیکل لینے بابا جی کی دکان پہ خود جا پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دکان بند ہے اور دکان کے باہر خراب سائیکلوں کو ترپال سے ڈھک دیا گیا ہے۔ میں نے سبزی والے سے بابا جی کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتلایا کہ بابا جی کے کوئی عزیز فوت ہو گئے ہیں وہ گاؤں چلے گئے ہیں۔
کوئی ہفتہ دس کے بعد میں ایک بار پھر بابا سائیکل والے کی دکان پہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک فوتیدگی کا سوگ منا رہے ہیں اور دکان تاحال بند ہے۔ میں نے سبزی والے کو معاملہ بتایا تو اس نے کہا ”صاحب جی اچھے بھلے سمجھدار آدمی ہو، اس بابے کے پاس کیوں پھنس گئے ہو، یہ کاریگر نہیں ٹھگ ہے، صرف پیسے ٹھگتا ہے کسی کا کام کر کے نہیں دیتا“ ۔ اس نے ترپال کی رسی کھولی اور کہا کہ آپ اپنا سائیکل نکال لیں، میں بابا کو بتا دوں گا۔ میں نے ٹوٹے پھوٹے، غبار میں اٹے ہوئے سائیکلوں کے ہجوم میں سے کھینچ کھانچ کے اپنا سائیکل نکالا اور کسی اور کاریگر کی تلاش میں رواں دواں ہونے لگے تو سبزی والے نے رہنمائی کی کہ مین روڈ پہ ایک کاریگر بیٹھا ہے اس کے پاس چلے جائیں، وہ اچھا کاریگر ہے۔
جب ہم اس اچھے کاریگر کے پاس پہنچے تو اس نے سائیکل کو آنکھ اٹھا کے دیکھے بنا ہی جواب دیا کہ ٹھیک نہیں ہوگی۔ ہم نے پوچھا کہ آخر اس کو ایسا کون سا مہلک مرض لاحق ہو گیا جو اس کے ٹھیک ہونے کے امکانات اس حد تک معدوم ہو گئے ہیں۔ کافی پس و پیش کے بعد اس نے سائیکل اس شرط پہ ٹھیک کرنے کی حامی بھری کہ جلدی نہ کیجیے گا جب وقت لگے گا ٹھیک کر دوں گا۔ میں نے اس کی شرط جھٹ سے قبول کر لی کہ سائیکل کے بکھرے اعضا کو کہاں اٹھائے پھرتا۔
کوئی ہفتہ بھر کے بعد میں اس کی دکان پہ گیا تو دیکھا کہ سائیکل ایک کونے میں جوں کی توں خراب حالت میں پڑی ہے۔ میں نے پوچھا کہ میاں اسے ابھی تک ٹھیک کیوں نہیں کیا؟ اس نے کہا بھائی میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ آئیں گے تو میں آپ کے سامنے ٹھیک کروں گا۔ میں نے کہا ”بھائی آپ نے یہ کب کہا تھا، خیر اب میں آ گیا ہوں، اب کردو اس کو ٹھیک۔“
اس نے چھوٹے کو حکم دیا کہ وہ سائیکل اٹھا کر لائے۔ سائیکل لائی گئی تو اس نے ایک نظر سائیکل کی طرف دیکھ کر مجھ سے پوچھا کہ بھائی جی اتنی اچھی سائیکل کہاں سے لی ہے؟
میں نے کہا چھوڑو اس کہانی کو آپ اسے ٹھیک کر دو ۔ اس نے کوئی آدھا گھنٹہ لگا کر اس کے ٹائر درست کر دیے، چین کسنے کے بعد اسے کالے تیل میں خوب نہلا دیا، کسی پرانی سائیکل کی گدی اتار کر اس پہ ایڈجسٹ کر دی، وہ پرانی گدی اچھی دکھائی نہ دی تو پرانے دور کی بڑی سائیکلوں کی گدی پہ چڑھائے جانے والے کپڑے کا کشن چڑھا کے اس کو ڈھک دیا۔ خیر اس نے اچھا بل لے کر سائیکل کے ساتھ ہمیں بھی چلتا کر دیا۔
اگلے دن میں گھر آیا تو دیکھا کہ میرے دونوں بیٹوں کے ہاتھ کالے سیاہ ہو رہےہیں۔ پوچھنے پہ بتلایا کہ سائیکل کی چین ہر ایک منٹ کے بعد اتر جاتی ہے، جسے بار بار چڑھانا پڑتا ہے اس لیے ہاتھ کالے ہو گئے ہیں۔ میں نے سائیکل کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ چین اتر کر زمین کے ساتھ گھسٹ رہی ہے، اس کے ہینڈل کا رخ مشرق کی طرف ہے تو اگلے ٹائر کا رخ مغرب کی طرف، گدی کا کشن اتر چکا ہے اور نیچے سے پرانی گدی نکل کر منہ چڑا رہی ہے اور میرے دونوں بیٹے بے بسی سے ایک دوسرے کو تک رہے ہیں۔ علی نے پوچھا بابا اب اس سائیکل کا کیا کریں؟ میں نے کہا بیٹا! اس کا اب ایک ہی حل رہ گیا ہے وہ یہ کہ اسے کسی اچھے سے کباڑیے کو دکھاتے ہیں۔


