افسانہ – نوراں کنجری


 عجیب طوفان بدتمیز تھا۔ مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو۔ اس سے پہلے کہ میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شببر کو جو "مولوی صاحب، مولوی صاحب” کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا۔ پتہ چلا کہ مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا۔ بھائی طبیعت خوش ہوگئی اس سے مل کے۔ دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد۔ لمبی سفید داڑھی۔ صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پر چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا۔ پیشانی پر محراب کا نشان، سر پر سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں۔ سادہ اور نیک آدمی اور منہ پر شکایت کا ایک لفظ نہیں۔ بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا

سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے۔ گھر کیا تھا۔ دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل۔ ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن۔ بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا۔ بہت تھا ہمارے لئے۔ بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی۔ دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا۔ گھر ٹھیک کرنے میں غلام شببر نے بہت ہاتھ بٹایا۔ صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک۔ تھوڑا کریدنے پر پتا چلا کہ یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیر گھر کا کام بھی کرتا تھا۔ بس تنخواہ کے نام پرغریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا۔ یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی

ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی۔ سو ایک دن غلام شببر سے پوچھ ہی لیا

‘میاں یہ بتاؤ کہ پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟’

وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کہ بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے

میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی۔ محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے۔ بس دل آ گیا ایک لڑکی پر۔ لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو۔ پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی۔ پھر ڈرایا دھمکایا۔ لیکن مولانا نہیں مانے۔ ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی۔ بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے۔ ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کہ مولانا جان سے گئے’۔ غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی

پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا’

غلام شبّیر ہنسنے لگا۔ ‘کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی۔ پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے۔ بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب۔ اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے

لاحول ولا قوۃ۔۔۔۔ کہاں اس جہنم میں پھنس گئے۔ ’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا’

آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھائیں۔ دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے۔ ان کو قران پڑھا دیں۔ باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں۔ بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں۔ ’ غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آی

انہی شروع کے ایام میں ایک واقعہ ہوا۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پرکسی نے دستک دی۔ غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا۔ میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا

‘نوراں نے کھانا بھجوایا ہے۔ پڑوس میں رہتی ہے’

میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا۔ سوچا ہوگی کوئی الله کی بندی۔ اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے۔ بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر جتائے احسان کیے جا رہی ہے۔ عشا کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا

 ‘میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کر آئے’

غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر۔ ‘ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں۔

میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پر

‘ میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں۔ پیشہ کرتی ہے جی’

‘پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ’

غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر۔ تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا:

میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کا نہیں کھاییں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں

یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا۔ ‘ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایئں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھاییں گے

میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سےنوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6