افسانہ – نوراں کنجری


میاں جی۔ طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے۔ اور وہ تو الله کا گھر ہے۔ وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے۔ اس کے لئے سب ایک برابر”۔ اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی

اچھا؟ الله جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ۔ تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا الله تعالیٰ کو ہی بھیج دے”۔ میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا

زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور الله کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گئی۔ ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے۔ الله کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے۔ احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے۔ الله کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا۔ فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا۔ بہت رش تھا۔ ہزاروں لاکھوں لوگ۔ ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر۔ گرمی بھی بہت تھی۔ میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا۔ زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی۔ اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کہ میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ھوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا۔ عجب حالات تھے۔ کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا۔ ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا۔ میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا۔ میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا۔ ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری۔ موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی۔ میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بںد کی ہی تھیں کہ کسی الله کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا

 میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی۔ مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ‘یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گیی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب۔ ایک آہنی گرفت تھی۔ میں نہیں چھڑا سکا۔ وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گیی۔ اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی۔ اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی۔ ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گیی۔ میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے

۔ کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہو جاتا تو؟’ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے’

بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں۔ جانے کون سی نیکی کام آ گئی۔ میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی۔ ’ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا

۔ نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گئی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا’۔ اس نے حیرانی سے کہا’

ارے نہیں۔ نوراں ہی تھی’۔ میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی۔ بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمع غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے

خدا خدا کر کے حج پورا ھوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے۔ لاہور ائیرپورٹ پر غلام شببر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا

بہت مبارک باجی۔ بہت مبارک میاں جی۔ بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا۔ ’ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گیی۔ میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پرتھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا

ٹیکسی میں بیٹھے۔ میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا۔

۔ میاں غلام شببر، نوراں کی سناؤ’۔ میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا’

۔ اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانی سے میری جانب دیکھا’

۔ بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں۔ ’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا’

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6