افسانہ – نوراں کنجری


اس نے کچھ اس حیرانی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو۔ ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی ان کہی فریاد کی لو بھڑکی۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی۔ میں نے بھی نا روکا کہ پتا نہیں کس ارادے سے آئی تھی۔ اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پہنچ گیا

۔ کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟” غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا’

نوراں کنجری تھی۔ پتا نہیں کیوں آئی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کہ آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی۔ ” میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے

وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آی تھی میاں جی۔ نبیل کی ماں ہے ۔ بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی۔ اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا۔ ” غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا

تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے۔ ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی۔ جیسی ماں ویسا بیٹا”۔ میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی۔ ایک لمحے کو خیال بھی آیا کہ بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی۔ مگر پھر اپنے استاد ہونےکا خیال آیا تو سوچا کہ بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے۔ کیا ہوا۔ اور پھر ایک طوائف کو کیا حق کہ مسجد کے امام سے شکایت کر سکے۔

۔ کتنے بچے ہیں نوراں کے؟” میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی’

مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی۔ اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے۔ بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے۔ باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں۔ ” غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی۔ میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی۔ خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی۔ ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی۔ اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا۔ گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آئی گئی ہو گئی۔

نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دن بعد کا ذکر ہے۔ عشا پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگئی۔ مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی۔ بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی۔ پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا۔ اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی۔ وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی۔ آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا۔ گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پراونچا جوڑا، جوڑے میں پروۓ موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت۔

 لاحول ولا قوۃ۔۔۔” میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا۔ آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا’

چھوڑیے میاں جی۔ عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم۔ ” اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی۔ مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا

یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی…؟” میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا

میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں۔ دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے۔ ” غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا

استغفراللہ! استغفراللہ!”۔ میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کہ مجھے احساس ہو چکا تھا کہ غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا۔

اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت الله کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا۔ اس غریب کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اور میں الله اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں۔ میرا بھی من تھا کہ کسی بہانے سے مکہ مدینہ کی زیارت ہوجائے۔ نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں۔ زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا۔ اس کی وساطت سے درخواست قبول ہونے کی کامل امید تھی۔ کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کہ غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھائے پہنچ گیا

۔ میاں جی………ایک کام تھا آپ سے۔ اجازت دیں تو عرض کروں۔ ” اس نے ہچکچاتے کہا’

ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں۔ کیا بات ہے؟” میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا

میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے۔ ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں۔ ” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے

دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آے؟” میں نے کچھ برہمی سے پوچھا

۔ نہیں نہیں میاں جی۔ آپ غلط سمجھے۔ یہ میری درخواست نہیں ہے۔ نوراں کی ہے۔ ” اس نے سہم کر کہا’

کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ۔ ” میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گیی یہ واہیات بات سن کر

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6