افسانہ – نوراں کنجری
مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مذاق نا کریں میاں جی۔ نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگئی تھی۔ ’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا
۔ ,قتل ہو گئی تھی؟’ میں نے اچنبھے سے پوچھا’
جی میاں جی۔ بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے۔ اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو۔ ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی۔ شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے۔ پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے۔ میں مردہ خانے سے اس کی میّت لے کے آیا ۔ خود تدفین کی اس کی۔ ’ غلام شببر کی آواز آنسوؤں میں بھیگ رہی تھی
۔ قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں اب بھی حیرانی کی گرفت میں تھا۔ ’
پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کہ طوائفوں کے قاتل ڈھونڈے۔ اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن۔ ’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا
۔ اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امنڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا’
نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی۔ ’ غلام شببر نے مرے کان میں سرگوشی کی۔ ‘طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے۔ وہ سب ایسے ہی بچے تھے۔ نوراں سب جانتی تھی کہ کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے۔ بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی۔ کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں۔ غریب جتنا بھی کماتی بچوں پرخرچ کر دیتی۔ بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پرجانے کے لئے جمع کر رکھے تھے۔ وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا
یہ بتاؤ غلام شببر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پرحقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے
بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلائے تو بلا لے’۔ مجھ پر تو جانو گھڑوں پانی پڑ گیا۔ تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی۔ ہوا کے دوش پر میری خطائیں اڑرہی تھیں۔ میری آنکھوں میں گناہوں کی دھول پڑ رہی تھی۔
آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو۔ ’ غلام شبّیر نے حیرانی سے میری آنسوؤں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا
کیا کہوں غلام شببر کہ کیوں روتا ہوں۔ وہ ناپاک نہیں تھی۔ ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں۔ نوراں تو الله کی بندی تھی۔ الله نے اپنے گھر بلا لیا۔ ’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شببر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا
ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگیی۔ اترا ہی تھا کہ نوراں کے دروازے پرنظر پڑی۔ ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں۔
‘کیا بات ہے غلام شببر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟’
میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آئے ہیں۔ وہ لوگ ان بچوں کو لے جائیں گے۔ ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے۔ ’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شببر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا
۔ کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شببر نے حیرانی سے پوچھا’
نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں۔ آج سے وہ میرے بچے ہیں۔ اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے۔ آج سے اس کا نام نور مسجد ہو گا


