افسانہ – نوراں کنجری
جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کہ اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ بس ٹبی مسجد کے نام سے مشہور تھی۔ ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کے “میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟” وہ ہنس کر بولا،
“میاں جی الله کے گھر کا کیا نام رکھنا؟”
پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا۔ سب مسجدوں کا ہوتا ہے۔ ” میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا’
بس میاں جی بہت نام رکھے۔ جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے۔ آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں۔ ” وہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
میں سوچ میں پڑ گیا۔ گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ “کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا۔ گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی۔ ” دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند پر داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگاے میری منتظر تھی
اب بات ہوجائے قرآن پڑھنے والے بچوں کی۔ تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے۔ ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے۔ تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے۔ نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے۔ دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے۔ کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا۔ لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا۔ قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا۔ یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی۔ لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا۔ تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا۔ بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا۔ میں بھی درگزر سے کام لیتا کہ چلو بچہ ہے۔ لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا۔ غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھائیں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا۔ درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا۔ نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا۔ کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو۔ جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گئیں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری۔ میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی
خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی۔ وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا۔ خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی۔ مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے۔ خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پرپہنچا ہی تھا کہ چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ عورت دہلیز پر کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی
چالیس پینتالیس کا سن ہوگا۔ معمولی شکل و صورت۔ سانولا رنگ اور چہرے پر چیچک کے گہرے داغ۔ آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما۔ زیور کے نام پرکانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ۔ چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپپل
۔ کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟” میں نے حیرانی سے اس سے پوچھا’
۔ میں نوراں ہوں مولوی صاحب۔ ” اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا’
نوراں؟ نوراں کنجری؟” میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی۔ میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غایب تھا
جی۔ نوراں کنجری!” اس نے نظریں جھکاے اپنے نام کا اقرار کیا۔ مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والے اس گالی جیسے لفظ پرشرمدگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کہ وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی ذمہ دار۔ شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں۔ پھر اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا
باہر نکل کے کھڑی ہو۔ مسجد کو گندا نا کر بی بی”، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


