جنرل فیض گرفتاری کے بعد ۔ خدشات و امکانات
فوج کے ہاتھوں جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی گرفتاری اور کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کرنے کے بعد زیادہ امکان تو یہی ہے کہ موجودہ فوجی قیادت نے گھر سے صفائی کی ابتدا کردی ہے۔ یہ گرفتاری دراصل نہ صرف فوج میں موجود جنرل فیض کے ساتھیوں کے لئے جو ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ ان تمام سیاسی قوتوں کے لئے بھی جو جنرل فیض اور ادارے میں موجود ان کے ساتھیوں کی سہولت کاری سے اب تک مستفید ہوتے رہے ہیں۔ جنرل فیض کی گرفتاری باقی تمام غیر قانونی کام کرنے والوں کے لئے ایک کھلا پیغام ہے کہ بس بہت ہو چکا۔ اب پاکستان کے خلاف کام کرنے والے ہاتھ توڑ دیے جائیں گے خواہ اس میں اپنی مشہور زمانہ محب وطن ایجنسی کے کرتا دھرتا ہی شامل کیوں نہ ہو۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ جو جنرل فیض کے ذاتی کردار یعنی مفادات کے حصول کے لئے اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن پر مشتمل ہے۔ اس کو بیان کر کے اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ لنک کیا گیا ہے۔ لیکن میری نظر میں اس پریس ریلیز کا سب سے اہم دوسرا حصہ ہے۔ جس میں ریٹائر منٹ کے بعد آرمی ایکٹ کے خلاف ان کی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نو مئی کے واقعات سمیت عمران خان اور ان کے ساتھیوں سے ملاقاتوں مشوروں اور ہدایات سے متعلق ہے۔
بعض لوگ اس گرفتاری کے بعد بھی مطمئن نہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ گرفتاری دراصل ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے سیاسی عزائم اور ذاتی مفادات پر گرفت تک محدود ہے۔ اصل غیر آئینی و غیر قانونی کام تو جنرل فیض حمید نے اپنے دوران ملازمت اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں کی ہے۔ جس میں 2014 پی ٹی آئی دھرنا اور اس کے بعد فیض آباد دھرنا سمیت عدلیہ کو منیج کر کے نواز حکومت گرانے عمران خان کو لانے اور پھر تین سال تک اس کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے تمام غیر آئینی اقدامات شامل ہیں۔
افغانستان پر طالبان قبضے کے بعد دورہ کابل اور پاکستانی طالبان سے ناکام مذاکرات کے باوجود ہزاروں کو پاکستان لانے اور سینکڑوں کو جیلوں سے نکالنے سمیت کئی ایسے کام شامل ہیں جس کا خمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہی ہے۔ مگر اس پر دو وجوہات کی وجہ سے گرفت نہیں کی جاتی ہے ایک یہ کہ وہ اقدامات دراصل بطور ادارہ اس وقت کے کئی افسران نے مل کر پالیسی کے طور پر کیے ہیں۔ اور پاکستان جیسے کمزور ممالک میں ریاستی ادارے اس طرح کی پالیسی اقدام پر سزا دینے کی بجائے اس کو تبدیل کر دیتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اگر اس دور کے اقدامات پر سزا دینے کا عمل شروع کیا تو پھر گرفتاری صرف فیض حمید تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس عمل میں جنرل باجوہ اور ثاقب نثار سمیت درجنوں اعلی افسران ججز اور ان کے معاونین شامل ہوسکتے ہیں۔ جو ظاہر ہے کہ پاکستان جیسے کمزور جمہوری ڈھانچے اور عدم استحکام کے شکار ملک کے لئے ابھی شاید ممکن نہ ہو۔ مگر جنرل عاصم منیر کی موجودگی میں یہ سب خارج از امکان بھی نہیں اگر فیض حمید جیسے انتہائی با اثر اور فوج میں لمبی جڑیں رکھنے والے جرنیل پر ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے تو اس ملک کو سدھارنے کے لئے دس پندرہ اور افسران کو نشان عبرت بنانا بھی ناممکن نہیں۔
مگر جس طرح پشتو میں ایک کہاوت ہے ( چی تندر دہ یتیم پہ سر لوئے گی) یعنی آسمانی بجلی اکثر یتیم کے سر پر گرتی ہے۔ اس لئے خدشہ یہ ہے کہ باقی افسران اور ججز کی باری آئے یا نہ آئے اس گرفتاری کے بعد عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے بڑوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ پارٹی میں مزید توڑ پھوڑ، فارورڈ بلاک اور بہت کچھ اس لئے ہو گا کہ اب سیاست اور انتشار کے درمیان خط امتیاز کھینچی جا رہی ہے۔ اس لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جنرل فیض کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی مشترکہ اور مضبوط موقف اور ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پختونخوا حکومت کی مشکلات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اب محترم گنڈاپور بھی دو کشتیوں کی سواری نہیں کر سکے گا۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی گرفتاری کے بعد ریاست اور فوج مخالف پروپیگنڈے میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ اس سلسلے کو مزید دراز کرنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔


