چکوال کی بائیس سالہ پروین جسے کوئی پناہ نہ دے سکا!
اس کی ایک آنکھ چھری کے وار سے نکال دی گئی تھی۔ ایک پستان کاٹ دیا گیا تھا۔ پیٹ پہ چھری کے چھ سات وار تھے اور انتڑیاں باہر لٹک رہی تھیں۔ دل کے مقام پر بھی چھری بھونکی گئی تھی۔
پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے ”میں نے اپنی زندگی میں ان گنت پوسٹ مارٹم کیے ہیں مگر اس عورت کی لاش جیسی بربریت پہلے کبھی نہیں دیکھی“ (روزنامہ ڈان ؛ چار اگست )
”ہمارا باپ مر گیا، سسرال والوں نے اسے جنازے پر بھی نہیں آنے دیا۔ وہ ہماری بہن کو ہم سے ملنے نہیں دیتے تھے۔
اس کا شوہر بے روزگار تھا۔ جب کبھی پیسوں کی ضرورت ہوتی اسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیتے، پھر ہم کوئی نہ کوئی جانور بیچ کر رقم فراہم کرتے اور وہ واپس جاتی۔
وہ بھاگ کر واپس بھی آئی مگر ہمارے چچا نے کہا کہ بچے اس شخص کے ہیں، واپس چھوڑ کر آؤ۔ بچے ہم نہیں رکھیں گے۔ وہ بچوں کی خاطر واپس چلی گئی۔
کچھ عرصہ پہلے اس تشدد سے تنگ آ کر چھوٹی بچی کے ساتھ گھر سے چلی گئی۔ اور لاہور، سیالکوٹ اور شیخوپورہ کے دارالامان میں رہی۔ اس کے شوہر نے اس کا سراغ لگا کر اسے واپس لے آیا ” (مقتولہ کے بھائی کا بیان )
گھر واپس لا کر شوہر نے گاؤں کے ایک لڑکے کے خلاف پروین کو اغوا کرنے اور زنا کا مقدمہ درج کروا دیا اور پروین کو مسلسل مجبور کرتا رہا کہ لڑکے کے خلاف بیان دے۔ لیکن پروین نہیں مانی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ شوہر کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر دار الامان پناہ لینے گئی تھی۔ (رپورٹ )
چھبیس جولائی کی دوپہر اسے شوہر نے ڈنڈوں سے بُری طرح مارا۔ وہ جان بچانے کے لیے ہمسایوں کے گھر بھاگ گئی، اس کا سر بری طرح سوجا ہوا تھا، شوہر اسے پکڑ کر واپس لایا۔ (رپورٹ )
شوہر کے رشتے داروں کو کئی روز پہلے سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ ہماری غیرت کا معاملہ ہے۔ ہم پروین کو نہیں چھوڑیں گے۔ ( رپورٹ )
میں ستائیس جولائی کی صبح سو کر اُٹھا تو میری بیوی اپنے بستر پہ نہیں تھی۔ میں اس کی تلاش میں نکلا لیکن وہ نہیں ملی۔ میں دوسرے گاؤں میں اپنے رشتے داروں کے گھر بیٹھا تھا جب میرے بھائی نے مجھے اطلاع دی کہ گاؤں کے ڈیم سے ایک لاش ملی ہے۔ جا کر دیکھا تو وہ میری بیوی تھی۔ پھر میں نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے نام کٹوائی۔ ( مقتولہ کا شوہر )
شوہر نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے فصل کاٹنے والی درانتی سے بیوی کو قتل کیا۔
(ڈی پی او؛ چکوال)
اس واقعے میں ہمیں ایک کم سن لڑکی پروین نظر آئی اور بہت سے مرد۔ کچھ مزید لکھنے سے پہلے اس لڑکی کی زندگی کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
پروین کی شادی سترہ برس کی عمر میں بارہ پندرہ برس بڑے ایک مرد سے کر دی گئی۔ وہ مرد ویسا ہی تھا جیسے ہمارے معاشرے کی اکثریت ہوتی ہے۔ بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھ کر ٹھکائی لگانے والا۔ بیوی بھی گھر کے ڈھور ڈنگر کی طرح کا ایک مال ہے جس سے جیسا چاہے سلوک کرو۔
مرے پہ سو درے۔ شوہر کمائی کے لحاظ سے بھی نکھٹو سو گھر میں زیادہ تر فاقہ کشی رہتی۔ شوہر کو جب کہیں سے کچھ ہاتھ نہ آتا، بیوی کو دو چار لگا کر میکے روانہ کر دیتا۔ میکے میں بھی غربت کا راج تھا لیکن پروین کو واپس بھیجنے کی خاطر کبھی بکری بیچی جاتی اور کبھی کچھ اور۔ پانچ دس ہزار روپے ہاتھ میں دیے جاتے کہ اس کا شوہر اسے گھر میں گھسنے کی اجازت دے دے۔
پروین دو بچوں کی ماں بن گئی اور یونہی تشدد کا شکار بنتے، میکے اور سسرال کے بیچ خوار ہوتے اس نے میکے سے التجا کی کہ اسے واپس جانے پہ مجبور نہ کیا جائے۔
ایسے میں ایک اور مرد نظر آتا ہے جس نے پروین کو اس شرط پہ واپس آنے کی اجازت دی کہ چونکہ بچے باپ کی ملکیت ہوتے ہیں سو اسے بچوں کو چھوڑ کر آنا ہو گا۔ ڈھائی برس کے بیٹے اور کچھ ماہ کی بیٹی کو متشدد باپ کے پاس چھوڑ کر جانا پروین کو گوارا نہ ہوا۔
پروین اپنی زندگی سے تھک چکی تھی سو اس نے کسی حکومتی ادارے میں پناہ لینے کا سوچا۔ چھوٹی بچی کے ساتھ نہ جانے کس طرح وہ لاہور اور شیخوپورہ کے دارالامان پہنچی اور وہاں کچھ عرصہ رہی۔ یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہاں کی انتظامیہ نے اس کی مدد کیوں نہیں کی؟ کیوں پھر سے اسے اس کے شوہر کے حوالے کیا؟
گھریلو تشدد کو خانگی معاملہ کہہ کر جان چھڑانے والوں کی بھی کمی نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہاں پہنچانے میں اس کی مدد گاؤں کے ایک لڑکے نے کی جس کی خبر پروین کے شوہر کو ہو گئی۔ دیہی علاقوں میں بیوی کا قتل اس قدر معیوب نہیں سمجھا جاتا جس قدر بیوی کا چھوڑ کر چلے جانا۔ ملکیت آقا کو چھوڑنے کا فیصلہ کرے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ غیرت پہ ضرب وغیرہ وغیرہ۔
شوہر نے پہلے تو اس لڑکے کے خلاف اغوا اور زنا کا پرچہ کروایا اور پھر پروین کو بہلا پھسلا کر گھر واپس لایا۔ محترم شوہر کی کھوئی ہوئی عزت ( جو بے روزگاری، تشدد اور سسرال سے پیسے لینے سے ہر گز مجروح نہیں ہوتی تھی، مگر بیوی کے گھر سے چلے جانے پہ اس پہ داغ لگ گیا تھا) اسی صورت میں واپس آ سکتی تھی کہ پروین عدالت میں یہ بیان دے کہ اس لڑکے نے اسے اغوا کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر لڑکے نے اغوا کرنا ہوتا تو دارالامان میں پروین کیسے پہنچتی بمع شیر خوار بچی۔ پروین احسان فراموش نہیں تھی سو یہ بیان دینے سے انکار کرتے ہوئے اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔
اب شوہر دوسرے مردوں کے سامنے سر تبھی اٹھا سکتا تھا جب اس کی بھاگی ہوئی ملکیت کو سزا دی جاتی اور سزا بھی ایسی کہ دوسری عورتوں کو کان ہو جائیں۔
ایک دن پہلے ڈنڈوں سے مارا گیا اور اسی رات اسی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ قتل کرتے ہوئے شوہر کو بالکل یاد نہیں رہا کہ یہ عورت اس کے بچوں کی ماں ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قتل کے بعد جی دار شوہر جھوٹ بولنے کی بجائے تھانے پہنچ کر خود اقرار کرتا لیکن مرد کی وحشت عموماً عورت کا خون پی کر بزدلی کا نقاب اوڑھ لیتی ہے۔
لاش پانی میں پھینک کر محترم اگلے دن بیوی کو ڈھونڈنے کی اداکاری کرتے رہے۔ ایک جیتے جاگتے انسان کو اپنی وحشت کی بھینٹ چڑھا کر اس قدر سکون؟
پروین جب زندہ تھی تب اسے باپ کے انتقال پہ میکے نہیں آنے دیا گیا۔ اسے گھر سے بھاگنے کی سزا دی جا رہی تھی۔ پروین کے بھائیوں میں سے ایک نشئی ہے اور دوسرا دیہاڑی مزدور سو پروین کی مدد کون کرتا؟
آس پاس کے مردوں نے اس لڑکے کا حشر دیکھ کیا تھا جس نے پروین کی مدد کی تھی اور اب اسی کے اغوا کی ایف آئی آر کٹ چکی تھی۔
علاقے کی پولیس میں کام کرنے والے مردوں کو بھی عورت کی بے بسی کی بجائے اپنے ہم مشرب بھائیوں کی بھاشا زیادہ سمجھ آئی۔ پہلے تو اغوا اور زناکاری کا پرچہ فوراً کاٹا گیا اور بعد میں جب پروین قتل ہو گئی تب اس کے قتل کو سرسری انداز میں رپورٹ کیا گیا۔ دوسری طرف پروین کا بھائی جب مدعی بننے تھانے پہنچا تو کہا گیا کہ تم مدعی نہیں بن سکتے چونکہ پروین شادی شدہ تھی اور شادی شدہ عورت کا وارث شوہر ہوتا ہے سو وہی مدعی بنے گا۔ لیجیے قاتل ہی مدعی بھی؟
یہ ہیں ملک عزیز کی پچھتر فیصد دیہی آبادی کے حالات جہاں عورت پیدائش کے دن سے ان چاہی مخلوق بن کر زندگی گزارتی ہے۔ والدین بلوغت کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنا بوجھ ایک اور مرد پر ڈالا جا سکے۔ وہ مرد جو پیٹ میں روٹی اور سر پہ چھت کے بدلے میں جو چاہے کرے، بیٹی کے ماں باپ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
بیٹی قتل ہو جائے، رو دھو کر صبر آ جائے گا لیکن بیٹی میکے واپس آ جائے؟ ناقابل قبول۔
ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی قتل ہوتی ہے۔ کسی کی خبر ملتی ہے، کسی کی وہ بھی نہیں ملتی۔ کاروبار دنیا چلتا رہتا ہے۔ عورت کے مرنے پہ زیادہ واویلا بھی نہیں مچتا۔ بے وقعت چیز۔ مر گئی۔ جان چھوٹی۔
یہ ہے وہ تانا بانا جہاں ہر دوسرے گھر میں عورت کسی نہ کسی روپ میں تشدد کا شکار ہے اور متشدد مرد اس پہ شرمندہ۔ نہیں، ہر گز نہیں!
عورت انسان تو ہے نہیں جسے درد اور تکلیف ہو۔

