بغضِ گولڈ میڈل!
احباب شکوہ کناں ہیں، کہ جی فلاں نے تمغہ جیتا، اسے تو کوئی شہرت نہیں ملی، نہ کسی نے پوسٹ شیئر کی، نہ میڈیا میں شور مچا۔
سوال: یہ سب ہمیں ارشد ندیم کے تمغے کے بعد ہی کیوں یاد آ رہا ہے؟
ذرا دل و دماغ کو ٹٹول کر جواب تو تلاش کریں۔
یہ سوالات اٹھانے والے پہلے کہاں غائب تھے؟
ایک جگہ کسی نے پاور لفٹنگ کے 15 گول میڈلز کا ذکر کیا، بہت اعلی، مگر کیا آپ نے یہ پوسٹ شیئر کی تھی اس وقت، کس وقت؟
جی ہاں یہی وہ ٹٹولنے والا سوال ہے جس کا ذکر اوپر کیا ہے۔ یہ واقعہ کوئی ایک ماہ پرانا ہے اور آپ اس کو آج شیئر فرما کر، شکوہ کناں ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں ہاکی کے زوال کا ذکر کیا وہ بھی بشکریہ منصور احمد (گول کیپر) ، اس پر بھی نوجوان شکوہ کناں ہیں، کہ جی کرکٹ کا کیا قصور؟ محترم، پوری پوسٹ میں کہیں کرکٹ سے شکوہ نہیں کیا، صرف توجہ دلاؤ نوٹس ہے نام نہاد قومی کھیل کی زبوں حالی کے متعلق۔ آپ کیوں اتنے رنجیدہ ہو رہے ہیں۔
اب نوجوان ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے ایسے تمغہ جات سامنے لا رہے ہیں، جن کے متعلق وہ خود بھی کچھ نہیں جانتے۔ نہ کھیل کا پتا نہ کھلاڑی کا، لیکن گولڈ میڈل کا خوب پتا ہے، شکریہ ارشد ندیم، آپ نے نوجوانوں کو اس سے روشناس کرایا۔ اب اس جملہ پر بھی احباب سیخ پا ہوں گے ۔
ویسے خواہ مخواہ کا ایک سوال دماغ میں کُلبلا رہا ہے، اپنے اپنے فیس بک کے روشن صفحات کو ذرا کھولیں اور اچھی طرح کھنگالیں، شاید آپ نے ماضی قریب یا بعید میں کسی بھی کھیل (کرکٹ کے علاوہ) کے متعلق کوئی پوسٹ کی ہو۔ یک دم ارشد ندیم کے گولڈ میڈل نے آپ کو جھنجھوڑ ڈالا ہے اور آپ کو احساس ہوا کہ اوہو، ہم تو دنیا پہ چھائے ہوئے ہیں، یہ تمغہ بھی ہم نے جیتا، وہ بھی جیتا وغیرہ وغیرہ۔
آئیے مثبت سوچتے ہیں،
اچھا ہے، اسی بہانے ان معدوم کھیلوں اور کھلاڑیوں کو کچھ رونمائی نصیب ہو رہی ہے۔ اس گولڈ میڈل نے ہمیں یاد دلایا کہ ہم میں ابھی بھی زندگی کی رمق باقی ہے۔ ہم زندہ و پائندہ ہیں۔ ہمارے کھلاڑی دنیا کے مختلف کونوں میں اس ملک و ملت کا نام بلند کر رہے ہیں۔ لگتا ہے اس نیزے نے قوم کے دماغ کو جھنجھنا کے رکھ دیا ہے۔ ڈائریکٹ نشانے پہ ایسا لگا ہے کہ شاہ دماغوں کی جھنجھناہٹ زوروں پہ ہے۔


