ارشد ندیم کون ہے؟


جہاں پاکستان انتہائی نازک ترین دور سے گزر رہا ہے وہیں ارشد ندیم پاکستانیوں کے لئے ایک امید سحر بن کر ابھرا ہے۔ اتنے مشکل حالات میں بھی پاکستانی عوام ارشد ندیم کے گولڈ میڈل جیتنے پر اپنی تمام تکلیفیں بھول کراس کی خوشی میں شامل ہو گئے۔

سب کے ذہنوں میں آج ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ ارشد ندیم کون ہے؟ یہ چمکتا دمکتا ستارہ کہاں سے نکل کر اچانک سے پوری دنیا میں چھا گیا اور سب کے دلوں میں گھر کر گیا۔

ارشد ندیم 2 جنوری 1997 کو میاں چنوں پنجاب، پاکستان میں سکھیرا قبیلے کے ایک پنجابی راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ آٹھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ارشد اپنے ابتدائی تعلیمی سالوں سے ہی ایک غیر معمولی ورسٹائل ایتھلیٹ تھا۔ اگرچہ اس نے اپنے اسکول میں پیش کردہ تمام کھیلوں کرکٹ، بیڈمنٹن، فٹ بال اور ایتھلیٹکس میں حصہ لیا لیکن اس کا جنون کرکٹ تھا اور جلد ہی اس نے خود کو ضلعی سطح کے ٹیپ بال ٹورنامنٹس میں کھیلتے ہوئے پایا۔

اسکول میں ساتویں جماعت میں داخل ہونے کے بعد ، ارشد نے ایتھلیٹکس مقابلے کے دوران رشید احمد ساقی کی نظر پکڑ لی۔ جیولین تھرو پر اکتفا کرنے سے پہلے ارشد نے شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو کا بھی تعاقب کیا۔ لگاتار پنجاب یوتھ فیسٹیولز میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیتا اور ایک انٹر بورڈ میٹنگ نے انہیں قومی اسٹیج پر پہنچایا، جس میں تمام سرکردہ ڈومیسٹک ایتھلیٹکس ٹیموں بشمول آرمی، ائر فورس اور واپڈا کی جانب سے پیشکشیں آئیں۔ یہ ان کے والد محمد اشرف ہی تھے جنہوں نے انہیں برچھی پھینکنے کے کھیل کو شروع کرنے پر آمادہ کیا۔

ارشد ندیم نے 2015 میں جیولین تھرو کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ 2016 میں، اس نے ورلڈ ایتھلیٹکس سے اسکالرشپ حاصل کی جس کی وجہ سے ماریشس میں IAAF ہائی پرفارمنس ٹریننگ سینٹر میں تربیت کرنے کا اہل بنا۔

فروری 2016 میں ندیم نے گوہاٹی انڈیا، مئی 2017 میں باکو، اگست 2018 جکارتہ، انڈونیشیا میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ جون 2016 میں 17 ویں ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ 2018 کے کامن ویلتھ گیمز کے اختتام کے بعد ندیم ارشد کمر کی چوٹ میں مبتلا ہو گئے۔

دوحہ، قطر میں 2019 کی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں واحد پاکستانی نیا قومی ریکارڈ بنایا۔ 81.52 m کھلاڑی کے طور پر،

نومبر 2019 میں، ندیم نے ایک قومی ریکارڈ قائم کیا جب اس نے پشاور میں 33 ویں نیشنل گیمز میں واپڈا کے لیے 83.65 میٹر تھرو کا طلائی تمغہ جیتا۔ دسمبر 2019 میں، اس نے نیپال میں 13 ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں 86.29 میٹر گیمز کے ریکارڈ تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔

ارشد ندیم نے 2020 کے سمر اولمپکس، جو 2021 میں منعقد ہوئے تھے، میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اولمپکس میں اپنی پہلی شرکت کی۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بن گئے۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک مقابلہ جیتتے گئے اور کامیابیاں سمیٹتے رہے۔

4 اگست 2021 کو، اس نے ٹوکیو اولمپکس کے مردوں کے جیولین تھرو ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

جولائی 2022 میں، ندیم نے یوجین، اوریگون، امریکہ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں پاکستان کے واحد نمائندے کے طور پر شرکت کی اور پانچویں نمبر پر رہے۔

اگست 2022 کو، کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا۔ انجری کے باوجود، ندیم نے اپنی پانچویں کوشش میں 90.18 کی تھرو کے ساتھ ریکارڈ بنایا یوں وہ نوے میٹر کا ہندسہ عبور کرنے والے جنوبی ایشیائی بن گئے۔ یہ 1962 کے بعد کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا پہلا ایتھلیٹکس گولڈ میڈل تھا۔

پانچ دن بعد 12 اگست 2022 کو، اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں پاکستان کے لیے ایک اور گولڈ میڈل جیتا۔

نومبر 2022 میں، ندیم نے لاہور میں ہونے والی 50 ویں قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولین تھرو ایونٹ میں 81.21 میٹر کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا۔ یوں ارشد ندیم ایک کے بعد ایک اپنے ہی ریکارڈ توڑتے چلے گئے۔

پیرس میں 2024 کے سمر اولمپکس میں، ندیم نے مردوں کے جیولین میں انفرادی اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی بن کر تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے 92.97 میٹر کا نیا اولمپک ریکارڈ قائم کیا۔ پچھلا اولمپک ریکارڈ ہولڈر نارویجن اینڈریاس تھورکلڈسن تھا، جس نے بیجنگ اولمپکس میں 90.57 میٹر کا فاصلہ حاصل کیا تھا۔ اس کا تھرو اب تک کا چھٹا سب سے طویل تھرو تھا۔ اس تمغے کے ساتھ ندیم نے اولمپکس گیمز میں پاکستان کی 32 سالہ تمغوں کی خشکی کا خاتمہ کیا اور راتوں رات آسمان کی بلندیوں کو چھو گئے۔

واضح رہے کہ اولمپکس گیمز میں پاکستان نے آخری مرتبہ 8 اگست 1992 میں کانسی کے تمغے کے ساتھ ہاکی ایونٹ میں حاصل کیا تھا جبکہ آخری گولڈ میڈل بھی ہاکی کی ہی بدولت 1984 میں حاصل ہوا تھا۔

مختلف مقابلوں کے نتیجے میں ارشد ندیم کے پاس اب تک چار گولڈ میڈل، ایک سلور جبکہ چار ہی کانسی کے تمغے موجود ہیں۔

گولڈ میڈل جیتنے پر فخرِ پاکستان کو انعامات سے بھی نوازا گیا جن کی فہرست آپ کے سامنے ہے، سندھ حکومت کی جانب سے 5 کروڑ، وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے 10 کروڑ، گورنر پنجاب نے 20 لاکھ، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے 10 لاکھ، گلوکار علی ظفر کی جانب سے بھی 10 لاکھ روپے دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو تاریخ رقم کرنے پر سونے کے تاج کا اعلان کیا۔ مریم نواز کی جانب سے خصوصی نمبر پلیٹ والی گاڑی تحفے میں دی، تو کسی نے پلاٹ دے کر ارشد ندیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جیولین تھرو اسپیشلسٹ ارشد ندیم اولمپکس میں پاکستان کا نام روشن کرنے کے بعد وطن واپس پہنچنے پران کے طیارے کو واٹر کینن سلیوٹ پیش کر کے خوش آمدید کہا گیا۔ ارشد ندیم کے اہل خانہ اور عزیزو اقارب کے ساتھ آبائی شہر میاں چنوں سے مداحوں کا قافلہ بھی لاہور استقبال کے لیے آیا۔ جبکہ ہزاروں فینز اپنے ہیرو کی ایک جھلک دیکھنے لاہور ائر پورٹ پہنچے۔ لاہور ائرپورٹ پر رات گئے مداحوں نے سما باندھا، بینڈ نے دھنیں بکھیر کر ماحول میں اور جوش پیدا کیا جبکہ عوام نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔

جہاں پاکستانی عوام نے ندیم ارشد کو اتنا پیار دیا وہیں بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کی ماں کی جانب سے بھی ارشد ندیم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ کہ یہ چاندی کا میڈل بھی ہمارے لئے سونے جیسا ہے اور جس نے سونا جیتا ہے وہ بھی ہمارا بیٹا ہے۔

یہ تو کہانی ہو گئی ارشد ندیم کی، اب بات کرتے ہیں کہانی کے دوسرے پہلو کی کہ ارشد ندیم کو یہاں تک پہنچانے والے کون لوگ ہیں؟ ارشد ندیم کی اس کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف تین لوگوں کا ہاتھ ہے جن میں ارشد ندیم، ان کے والدین اور ان کے کوچ شامل ہیں۔ جی ہاں حقیقت یہی ہے کہ ارشد ندیم نے اپنی مدد آپ کے تحت یہاں تک پہنچنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، ساتھ ہی ساتھ ارشد کے والدین نے بھی اپنے بیٹے کا بھرپور ساتھ نبھایا اور ہر موقعے پر اس کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے۔

آخر میں حکومت سے میں یہ اپیل کرنا چاہوں گی کہ ارشد ندیم کی جیت کا سہرا اپنے سر سجانے کے بجائے اسپورٹس کے شعبے پر دھیان دیں، کیونکہ وسائل نا ہونے کی وجہ سے کتنے ہی ارشد ندیم آگے نہیں پہنچ پاتے۔ شہروں میں کھیلنے کے لیے پارکس اور گراؤنڈز بنائے جائیں، مختلف شہروں میں کھیلوں کے مقابلے کروائیں جائیں تاکہ ارشد ندیم جیسے ہونہار محنتی اور شاندار کھیل پیش کرنے والے بچے سامنے آ سکیں اور اس ملک کا نام روشن کر سکیں بے شک ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔

Facebook Comments HS