فیض حمید کی گرفتاری اور عمران خان کی حکمت عملی


نہ تاج اچھالے گئے تھے
اور نہ ہی تخت گرائے گئے تھے،
اپنی حیرانی بے شک معمول پہ لانے کی لاکھ کوشش کی ہو مگر چشم حیراں کی یہ حیرانی پہلی دفعہ تھی۔

نہ سی ون تھرٹی، نہ ٹرپل اے برگیڈ کی کوئی غیر معمولی ہلچل، نہ سڑک پہ تیر والی گاڑیاں، نہ منتخب قائد کی اقتدار سے معزولی، نہ پارلیمنٹ پہ خطرے کا سائرن۔

پتہ نہیں اسٹاک ایکسچینج میں اچانک کوئی واضح کمی ہوئی یا شیئرز کے ریٹ ایک دم سے بڑھ گئے یا اسٹاک ایکسچینج جوں کا توں چلتا رہا۔

بظاہر ایسی کوئی تبدیلی سیاسی ریڈار پہ نظر نہ آنے کے باوجود بہت کچھ ہو چکا تھا۔
ایک ایسی ان ہونی جس کا زمانوں سے اس قوم کو انتظار تھا وہ اچانک سے ہو گئی۔
ٹرپل اے برگیڈ کا غیر متوقع تحرک، سی ون تھرٹی کی اڑان۔ ایسا کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا
مگر پھر بھی جو کچھ ہوا اس سے ملک کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔

نئی تاریخ کے ذکر سے جو خواتین و حضرات کسی تاریخی انقلاب کے منتظر تھے ان کو تو سخت مایوسی ہوئی ہوگی۔ یہ عمل ان لوگوں کے لیے بھی یہ ایک مایوس کن عمل تھا، جو ابھی بیرک سے بغاوت کی خبر سننے کے لیے بے تاب تھے۔

دوسری دنیاؤں میں ممکن ہے کہ یہ انتہائی نارمل بات ہو مگر ہمارے ملک میں یہ ان ہونی ہو گئی تھی کہ فوج کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا۔

کسی سابق فوجی جنرل؛ جس کی پروفیشنل سی وی میں کوئی ناکامی جیسا یا ایوریج جیسا لفظ شامل نہ ہو اس کی ریٹائرمنٹ کو زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا ہو اور وہ اسی ادارے کی طرف سے تحویل میں لیے جائیں جس ادارے کو اس نے اپنی آدھی زندگی دی ہو۔ پاکستان میں یہ ان ہونی ہو گئی تھی۔ جنرل فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیے جانے والا بیان آ چکا۔

بیان میں مختصراً اس پہ چارج شیٹ لگا دی گئی۔ جس میں ہاؤسنگ اسکیم کے سکینڈل میں اپنے عہدے اور اختیار کا ناجائز استعمال اور سیاست میں مداخلت جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔

جس ادارے نے چارج لگائی ہے اس کے پاس ثبوت ہوں گے نہیں ہوں گے قطع نظر اس کے یہ عیاں ہے کہ فی الوقت بیرک کی بغاوت کا سر کچل دیا گیا ہے۔

جنرل فیض حمید جو اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ادارے میں ملازمت کے دوراں طاقت کے مرکز سمجھے جانے والے تمام عہدوں پہ براجمان رہے چکے ہیں البتہ ادارے کی سربراہی والا عہدہ شاید ان کے نصیب میں نہ تھا یا شاید اس تک پہنچنے کی خواہش تھی جو کہ اس کو جہاں تک لے گئی اس میں اپنے فیض احمد فیض صاحب کا مصرعہ بطور تڑکا استعمال کیا جا سکتا ہے کہ

مقام فیض راہ میں کوئی جچا ہی نہیں

یہ انہونی اسے سوئے دار تک لے جائے گی یا پھر کسی معافی تلافی کا کوئی امکان ہو گا اس سے بالاتر ہوکے تاریخ کے پرانے حافظے کو کھنگالنے والے کئی مجھ جیسوں کو خان عبدالولی خان کی وہ بات یاد آتی ہے جس کو اس وقت کے آمر ضیا نے دل میں باندھ کر بھٹو کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے کی راہ سنوارنے کا کام آسان کیا۔

یہ بات ضیا الحق کو ولی خان نے بتائی یا یہ افواہ کی صورت اڑی کہ
”قبر ایک ہے بندے دو ہیں۔“

(اگر بھٹو نہیں تو ضیا الحق نے وہ قبر پُر کرنی ہے ) ضیا الحق کے قبر کے خوف نے بھٹو کو تختہ دار تک پہنچا دیا۔

ممکن ہے موجودہ چیف کو یہ بات کسی نے نہ بتائی ہو مگر ادارے سے باہر بھی جو نو مئی کے واقعات کو دیکھتے ہیں اور پھر سیاسی جوڑ توڑ کے تانوں بانوں کا سلسلہ کا گہرا مشاہدہ رکھتے ہوں ان کو ان تمام حالات کا سرا بیرک کے اندر و باہر کسی طاقت کے مرکز کے اندر جانے کی نشاندہی کرتا نظر آتا ہے۔

پوری زندگی گیٹ نمبر چھہ سے وفاداری نبھانے والے شیخ رشید سے لے کر آخری وقت پہ پھر جانے والے چودھری پرویز الہی کی جانب سے عمران خان کو جوائن کرنے کی قلابازی میں عوام کی مقبولیت کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنے کے علاوہ بھی کوئی خفیہ ہاتھ کا اشارہ ضرور نظر آیا تھا اور پھر نو مئی کے واقعات میں ٹارگیٹ کا تعین کرنا اور اس کا یوں آسان بنا دینا کہ بلوائیوں کے لیے جی ایچ کیو کے گیٹ ہی کھل جائیں تو کوئی نہ کوئی تانہ بانہ تو تھا جس کی پردہ داری ہوتی رہی۔

وہ پردہ داری ادارے کے تقدس کے معاملے کو رکھ کر کی گئی ہو یا پھر ٹھوس ثبوت کی تلاش میں۔

لیکن یہ طے تھا کہ خان کی سیاسی جد و جہد کو پرتشدد بنانے کے پیچھے بھی کئی ہاتھ ہوسکتے ہیں جن کو صرف غیرملکی ایجنٹ کہہ دینے سے بات بنتے نظر نہیں آ رہی تھی۔

ففتھ جنریشن وار کے اس قسم کے خطرناک نتائج شاید ادارے کے اندر موجود لوگوں کے بھی اندازے سے باہر تھے۔

سیاسی تجزیہ نگار جنرل فیض کے کورٹ مارشل کا فائدہ صرف ایک جماعت پی ٹی آئی کو دینے کے لیے بھی اپنے دلائل دے رہے ہیں کہ خانصاحب کی غیر موجودگی نے پارٹی کے اندر جنرل فیض کے اثر و رسوخ کو بڑھا دیا تھا جس کو وہ مخالف فوجی جنرلوں کے خلاف استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہے تھے اور چونکہ اب وہ براہ راست گرفتار کر لیے گئے ہیں تو پارٹی خودمختارانہ طور پہ کام کر سکے گی زور دوبارہ پرتشدد سیاست اور جارحانہ بیانیے کے بجائے مفاہمت پہ آمادہ ہوگی۔

دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہم جیسے عام تجزیہ نگار جن کو ادارے کے اندرون کی خبر انہی کے نامزد تجزیہ نگاروں سے ملتی ہو، ہم کو جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ادارے کے اندر جرنیلوں کی تعداد و تناسب کیا ہے، ان کے تجزیے کا دار و مدار اندرون سے خفیہ بنا کر پہنچائی جانے والی معلومات کے برعکس پیش آنے والی سیاسی تبدیلیوں سے اخذ کردہ مشاہدات پہ مبنی ہوتے ہیں۔ اس لیے ان تجزیوں میں بے شک واقعات و حالات کا تفصیلی ذکر نہ ہو مگر نتائج کا تجزیۂ عام سیاسی تجزیؤں نگاروں سے مختلف ہوتا ہے کہ ہمارا فریم آف ریفرینس ادارہ نہیں سیاسی عمل ہے جس میں بشمول سیاسی پارٹیوں کے سیاسی آئینی اداروں یعنی پارلیمنٹ وغیرہ کے معاملات آ جاتے ہیں۔

ان تمام سیاسی حالات و واقعات کے بغور جائزہ لیا جائے تو خان صاحب کی بے پناہ مقبولیت کو سیاسی معیار بنانے کا کام، اور اس کے بیانیے کو مقبول ترین تصور کروانے سے لے کر اقتدار سے علیحدگی تک کے واقعات کے پیچھے ادارے کی منصوبہ بندی کا خاص عمل دخل رہا۔

لیکن اقتدار سے علیحدگی سے لے کر بنی گالا اور پاکستان میں جلسوں اور بائی الیکشن تک کی کامیابی و زمان پارک میں محصور ہونے تک، ایک سال کی مزاحمتی سیاست سے زندان پہنچنے تک کے اسکرپٹ کے خالق جنرل فیض حمید رہے ہوں گے، یہ عام تاثر ہے۔

خان صاحب کی مقبولیت کا ایک خاصہ جو انہیں باقی سیاستدانوں سے الگ کھڑا کرتا ہے وہ یہ بھی ہے کہ خانصاحب کا فین کلب مخصوص ادارے سے لے کر بقیہ ریاستی اداروں یعنی مقننہ اور عدلیہ بشمول صحافت تک پھیلا ہوا ہے جس نے خانصاحب کو جائز و ناجائز کی پرواہ کیے بغیر، ماضی کے برعکس بہت مراعات دیں پھر چاہیے وہ بن مانگے مخصوص سیٹیں ہوں یا حکومت کے قائم کردہ جھوٹے سچے مقدموں میں ریلیف ہو۔ خانصاحب شاید پاکستان کے واحد سیاستدان ہوں گے جو حزب اختلاف میں ہونے کے باوجود کم وقت میں عدالتوں سے اتنا جلدی ریلیف پا چکے ہوں۔ عدلیہ میں ان کے فین کلب کے ممبران کے لیے کسی بڑے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس کا اندازہ عدالت میں حاضری کے وقت ججوں کے چہروں پہ عیاں خوشی سے لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ عدلیہ میں چند ایک کو چھوڑ کر باقی تمام خان صاحب کو دیکھتے ہی اس کے فین کلب کے ٹین ایجر ممبر کی طرح ردعمل دیتے ہیں۔

عدلیہ کو انتقام کے لیے استعمال کرنا اور اپنے مفادات کے حق میں آئین کی تشریح کروانے سے لے کر اپنی مرضی سے آئین کو پارلیمنٹ کی تقویت بخشنے کے بجائے اس کے خلاف کھڑا کر دینے کا کام پاکستان میں بے شک نظریۂ ضرورت سے لے کر ابھی تک استعمال ہوتا آیا ہے مگر جب سے چودھری افتخار آئین و قانون کے ساتھ سول سوسائٹی کا مینڈیٹ لے کر آئے اس نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور یوں اٹھارہویں ترمیم کے بعد عدلیہ اب پارلیمنٹ کو کنٹرول رکھنے کا آسان ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ یوسف رضا گیلانی سے لے کر نواز شریف کی بر طرفی تک عدلیہ غیرجمہوری اقدامات کو تحفظ دینے کے لیے ہی استعمال ہوئی۔

جو چیف آیا اس نے اپنے ادارے کے احتساب کے بجائے عوام کے منتخب نمائندگان اور پارلیمنٹ کو نشانہ بنائے رکھنے کی مشق جاری رکھی۔ ڈیم بنانے سے لے کر، تعلیمی ادارے، ہسپتال، کارپوریٹ سیکٹر ہر جگہ ناک گھسیڑی پر اپنے ادارے کو کبھی احتسابی عمل سے نہ گزارا۔ خانصاحب تو یوں بھی ان کے چہیتے رہے کہ فین کلب صرف جج صاحبان تک ہی محدود نہیں تھا مگر اس کا دائرہ خاندانوں کے بڑے بوڑھوں تک یوں پھیلا ہوا تھا کہ بعض جج صاحبان کے فیصلوں میں ان کی خوش دامن کا اثر و رسوخ دیکھا گیا۔ کوئی تو نیٹ ورک تھا جو طاقت کے مرکز سے عدلیہ سے لے کر صحافت تک کی ڈوریاں ہلاتا اپنے من پسند فیصلے لیتا رہا۔

سیاسی جوڑ توڑ اس ادارے کے لیے نئی نہ تھی مگر ہائبرڈ نظام نے اس کی گرفت اور مضبوط کر لی کہ ایک بیانیے کے علاوہ باقی تمام سیاسی پارٹیاں، قیادت، دیگر صوبوں کے مسائل اور پڑنے والی آفتیں سب ثانوی ہو کر رہ گئیں تھی۔

اس صورت میں یقیناً دیگر صوبوں کی عوام اور دیگر جماعتوں کے حامیوں میں فوج کے لیے پیار کے پھول تو نہ کھلنے تھے مگر یہ کریڈٹ بھی خانصاحب کو جاتا ہے کہ کب وہ ایک آئینی قدم سے اقتدار سے باہر کیے گئے تو اس نے فوج کے خلاف ایسا جارحانہ رویہ اختیار کیا کہ وہ بات جو چھوٹے صوبے زبان پہ لاتے ہوئے لرز جاتے تھے، وہ لاہور کے زمان پارک سے یوں عام ہوئیں کہ کیا چھوٹے صوبے کیا بڑے صوبے خود بیرک کے اندر جنم لینے والے فوجیوں کے بچوں نے بھی ان کو نعرہ عام بنالیا۔

تحریک لبیک کے دھرنے سے لے کر نو مئی کے واقعات تک شاید سب کچھ اس لیے بھی برداشت کر لیا گیا کہ فین کلب بیرک اندر بھی اپنا اثر رکھتے تھے۔

کیا معلوم کہ موجودہ چیف نے اس فین کلب کے اثرات کو کنٹرول کرنے کے بعد ہی اس انہونی کی ابتدا کی ہمت باندھی ہو کیونکہ اگر خطرہ اندر سے ہے تو اس کے انتظامات بھی ضروری ہوں گے۔

سیاست پہ اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں اس سوال کا جائزہ لیں تو نو مئی سے پہلے اور بعد کا منظرنامہ یکسر مخلتف ہے کہ بظاہر ہائبرڈ نظام کی گرفت کم ہونے کے بجائے اور زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ ایک جانب مقبولیت والے بیانیے سے خوفزدہ حکومت ہے جس کو ادارے کی وہی سرپرستی چاہیے جو کسی وقت خانصاحب کو حاصل تھی۔

دوسری جانب خود خانصاحب ہیں جو اب بھی اس مغالطے کا شکار ہیں کہ ان کی مقبولیت ایسی ہے کہ بغیر کسی ادارہ جاتی سپورٹ کے اور ریاستی اداروں کے اندر موجود فین کلب سے حاصل کردہ مراعات کے بغیر، وہ کسی بڑی بغاوت کا باعث بن سکتے ہیں۔

شاید وقت ان کو غلط ثابت کرے کیونکہ ایک سال عدلیہ کی طرف سے مکمل سپورٹ کے باوجود وہ نہ جیل سے باہر آ سکے ہیں اور نہ ہی وہ حکومت کے لیے ناقابل کنٹرول مشکل حالات پیدا کر پائے ہیں کہ حکومت کے لیے کوئی بڑے خطرے کا باعث بن سکے ہوں۔ اس صورت میں جنرل فیض کی گرفتاری ان کے کارکنان سے لے کر عدلیہ و بیرکی فین کلب کے لیے مایوسی کا پیغام لائی ہے جو کہ فطری سیاسی عمل کے لیے خوش آئند ہے۔

دوسری طرف سیاسی طور اس ایک امید باندھی جا سکتی ہے کہ فوج کی طرف سے ادارتی فین کلب سے مکمل مایوسی خانصاحب کی سیاست کو کچھ قابل قبول حد تک لچکدار بنا دے کہ وہ اب ادارے کے دست شفقت کے انتظارِ کے بجائے دوبارہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی طرف رجوع کرنا سیکھ لے جس کو وہ اس وقت اہمیت دینے سے مکمل طور پہ انکاری ہیں۔

جنرل فیض حمید کی گرفتاری سے یہ توقع رکھنا کہ فوج کی سیاست کے اندر مداخلت کم ہو جائے گی، درست نہیں ہو گا کیونکہ ہمارے ادارے نے ملک نظریاتی سرحد کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنے والی دلیل کو ابھی تک اپنے پاس رکھا ہوا ہے لہذا عدلیہ اور پارلیمان میں اس کی مداخلت کے امکانات جوں کے توں ہوں گے اور شخصی خواہشات میں ادارے کا تابع رکھنے کے اقدامات میں بھی کوئی فرق نہیں آنا البتہ ادارے کی اپنی حدوں کو پھلانگنے کی سزا کا خوف ہو سکتا ہے۔

پاکستان کی سیاست ادارے کے مفادات کی تابع رہی ہے اس لیے ایک جنرل کی گرفتاری سے کسی بڑے انقلاب کی توقع رکھنا غلط ہو گا مگر علامتی طور پہ یہ ملک میں جاری سیاسی عمل کے لیے یوں خوش آئند ہیں کہ علامتی طور پہ سہی مگر وہ ادارہ جس نے حمودالرحمن کمیشن پہ عمل درآمد نہ کیا، جس نے ضیا الحق کو علامتی طور پہ ہی کوئی سزا دینے کے بجائے فوجی اعزازیے کے ساتھ دفن کیا، جس نے بلوچستان پہ فوج کشی کرنے والوں میں سے ایک کا کورٹ مارشل نہیں ہوا، بھٹو، بگٹی اور بی بی کے قتل کے مقدمے ان کے قاتلوں کا تعین نہ کر سکے وہاں خود ادارے کی طرف سے ایک فور اسٹار جنرل کا کورٹ مارشل خوش آئند ہے۔

دیکھا جائے تو جنرل مشرف کے وقت بھی اندرون کی لڑائی میں مشرف جو کہ وردی کو اپنی چمڑی کہتا تھا سیاسی جماعتوں نے وہ وردی تک اتروا دی۔

جب سیاسی جماعتوں نے اسے وردی کے بغیر قبول کیا اور اعزازیے کے ساتھ رخصت کیا گیا جس پہ بہت تنقید بھی ہوئی مگر وردی کے اترتے ہی وہ عدالت عالیہ سے سزا پا گیا۔

بے شک ادارے کی مداخلت نے اس کی جان بخشی تو کروا دی مگر وہ پھر زندہ کبھی اس سر زمین پہ واپس نہ آ سکا۔ اس وقت جب ادارہ بھی اس کو زندہ لانے کے حق میں تھا کہ خاندان نے درخواست کی تھی کہ تاکہ وہ عزت سے اپنی زندگی کی آخری سانسیں اپنے ملک میں لے سکیں۔ جنرل مشرف کی سزائیں بھی کالعدم ہو چکی تھیں مگر وہ فوجی اعزاز کے ساتھ بقیہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے صرف تابوت کی واپسی ہوئی اور اس کو بھی ادارہ فوجی اعزاز کے ساتھ ہو دفن نہ کر سکا کہ اس کی نماز جنازہ گھر کے اندر ہوئی اور باضابطہ فوجی دستوں کے بجائے گارڈ آف آنر بھی ڈرائنگ روم میں ہوا۔ مشرف سے یہ عوام کا خونی انتقام نہ تھا مگر جمہوریت کا علامتی انتقام تھا۔ بالکل اسی طرح فیض حمید کو کسی عوامی انتقام کا سمان کرنے کے بجائے اسی ادارے کی طرف سے احتساب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے بل بوتے پہ اس نے اپنی طاقت، دولت و اثر رسوخ میں بے پناہ اضافہ کیا۔ یہ علامتی طور پہ خوش آئند قدم ہے۔

ہمارے جیسی نیم قبائلی نظام رکھنے والی ریاستوں کے اندر مغربی جمہوریتوں جیسے مثالوں کی تلاش بے سود ہوگی مگر یہ کہنا غلط ہو گا کہ جمہوری حکومتوں نے اپنے ماضی سے سیکھنے کی روایت ترک کر دی۔ ہمارے طبقاتی، قومی و لسانی سطحوں پہ پارہ پارہ ریاست میں یہ خوش آئند قدم ہے بس اب ادارے کو سیکھنا ہو گا کہ سیاست کی حرکیات کو طاقت کے بل بوتے پہ وقتی طور پہ تبدیل تو کیا جاسکتا ہے مگر تا دیر قائم رکھنا ان کے اپنے ادارے کے کیے تباہ کن عمل ہے

Facebook Comments HS