یوم آزادی پر اداس یادوں کی روداد
میں اس ملک کے سیزرین سیکشن کے ذریعے پیدا ہونے کے چھ سال بعد پیدا ہوا تھا۔ سیزرین سیکشن سے میرے ملک کے جسم پر ایک بڑا داغ رہ گیا تھا۔ لیکن، میں ایک عورت نہیں ہوں، اس لیے میں اس تکلیف دہ عمل یا اس کے درد کی شدت یا اس کے بعد کے اثرات کو محسوس نہیں کر سکتا، اس لیے بھی کہ تاریخ میں آج تک کوئی مرد اس طریقہ کار سے کبھی نہیں گزرا۔
سیزرین سیکشن، درحقیقت، ایک ’سرجیکل اسٹرائیک‘ ہے، جو ماں اور بچے کی جان بچانے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ کئی ممالک نے قومی مفادات کے تحفظ اور اپنے ملکوں کو اندرونی اور بیرونی جارحیت سے بچانے کے لیے جب بھی ضرورت پڑی اسی طرح کی سرجیکل سٹرائیکس کی ہیں۔ مردوں نے عورتوں پر آزمائے والے اس طریقہ کار کے علاوہ ان سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔
میں ابھی پیدا نہیں ہوا تھا، لیکن، بعد میں میرے بزرگوں نے اطلاع دی کہ بانی قوم، قائد اعظم کا انتقال کراچی کی سڑک کے کنارے ہوا یا وہ اس وقت قریب المرگ تھے۔ وہ اس وقت زیارت سے لائے گئے تھے، جہاں خان آف قلات کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام رہے اور ریاست قلات کا پاکستان کا ساتھ جبری انضمام عمل میں آ گیا تھا۔
میری پیدائش سے دو سال پہلے، 1951 میں ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی کو راولپنڈی کے ایک پارک میں قتل کیا گیا۔ اس کے دو سال بعد ، 1953 میں کمیونسٹوں پر ’راولپنڈی سازش کیس‘ کا الزام لگایا گیا، کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی اور اسٹیبلشمنٹ اپنے فوجی معاہدوں سمیت امریکی کیمپ میں دل و جان سے چلی گئی۔ 1953 میں میری پیدائش کمیونسٹوں کے لیے منحوس ثابت ہوئی۔ مجھے اس کا بہت دکھ ہے۔
ہمارے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین جو کہ مشرقی پاکستان کے ایک مہذب سیاستدان تھے، کو 1953 میں برطرف کر دیا گیا۔ ہمارے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے 1957 میں اسکندر مرزا کے دباؤ پر استعفیٰ دے دیا۔
1958 میں ملک جمہوری تاریخ کے ریڈار پر کھو گیا، جب سکندر مرزا اور ایک ’انتہائی احمق‘ ڈکٹیٹر، ایوب خان نے پہلا مارشل لاء لگایا۔ سکندر مرزا صرف 20 دن تک اس مارشل لاء کا حصہ رہا اور بیس دن بعد ایوب خان نے اس کو فارغ کر دیا اور گیارہ سال تک ملک کو بڑے برے طریقے سے چلاتا رہا۔
1956 کا آئین تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے تیار کیا تھا، مارشل لاء نے اسے منسوخ کر دیا، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
1958 میں ہی بلوچستان کے نوروز بابا کے سات ساتھیوں کو پھانسی دی گئی اور 84 سالہ بابا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی سال مغربی پاکستان کے پہلے وزیر اعلیٰ اور بعد میں وزیر دفاع کا قلمدان رکھنے والے ڈاکٹر خان صاحب کو 1958 میں قتل کر دیا گیا (تاہم اس کا محرک مختلف تھا) ۔
1958 میں ہمارے ساتویں اور اس دہائی کے آخری وزیراعظم ملک فیروز خان نون کو مارشل لاء کے پہلے دن یعنی 7 اکتوبر 1958 کو برطرف کر دیا گیا۔ اسی دن ایک سندھی سیاستدان ایوب کھوڑو جو اس وقت وزیر دفاع تھے کو برطرف کر کے یہ عہدہ جنرل ایوب خان کو سونپ دیا گیا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گوادر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو اومان نے 1958 میں وزیر اعظم فیروز خان نون کی برطرفی سے قبل ان کی کوششوں سے پاکستان کو منتقل کیا تھا۔
میں ابھی بہت چھوٹا تھا اس لیے اس وقت ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، مجھے اس کا براہ راست اندازہ نہیں، لیکن مجھے اب اس بات پر بہت دکھ ہوتا ہے کہ 1960 کے آخر تک پاکستان مسلم لیگ کی صف اول کی پہلی پوری کھیپ اور قیادت کو، جس نے پاکستان بنانے کے لیے جدوجہد کی تھی، انہیں سیاسی منظر نامے سے بزور طاقت اور سازش ہٹا دیا گیا۔ ان میں سے بہت سے بعد میں غیر محفوظ اور فراموشی کی دردناک حالت میں مر گئے۔
سول ملٹری بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے طبقے اور لوگ جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا، یا برائے نام لیا تھا، انہوں نے ان تمام لوگوں کو راستے سے ہٹا دیا جنہوں نے تحریک پاکستان کا فریضہ سرانجام دیا۔ صد افسوس!
بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ یہ جبر کی ایک لمبی داستان ہے۔ 1960 میں کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کو قلعہ لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ ون یونٹ ان دنوں چھوٹے صوبوں، مشرقی پاکستان اور عبداللہ حسین کی ’اداس نسلوں‘ کی نازک گردنوں کے گرد ایک ’تنگ پھندا‘ بن چکا تھا۔
1969 میں ایک شرابی، جنسی طور پر بیمار پاگل نے باگ ڈور سنبھالی۔ ون یونٹ ختم ہو گیا، پہلے آزاد عام انتخابات منعقد ہوئے، لیکن تب ایک اور تاریخی نا انصافی ہوئی جب ’اکثریتی ونگ‘ کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا گیا اور یہ ایک طویل بغاوت کے بعد الگ ملک بن گیا۔ صد افسوس!
اب ہم 70 کی دہائی میں چلے جاتے ہیں۔ اسی جگہ جہاں ہمارے پہلے وزیر اعظم کو قتل کیا گیا تھا، 1973 میں نیشنل عوامی پارٹی کے جلسے میں 150 سے زیادہ پشتون مارے گئے تھے۔ عبدالولی خان اور ان کے ساتھیوں نے ان کی لاشوں کو صوبہ سرحد میں ان کے آبائی علاقوں میں لے جایا گیا ( 1947 سے اس صوبہ کا کوئی نام نہیں تھا) ۔ ولی خان اور غوث بخش بزنجو نے چند ہفتے بعد آئین پر دستخط کر کے ملک کو مزید انتشار سے بچا لیا۔ اس وقت میری عمر 20 سال تھی، اس لیے مجھے اس وحشیانہ واقعے اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے تمام نام اور کردار یاد ہیں۔
1977 میں زیڈ اے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایک اور مارشل لاء نے اپنا مکروہ چہرہ دکھایا۔ 1979 نے تاریخ نے ایک بڑا موڑ کاٹا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی۔ ضیاء الحق حدود آرڈیننس لے آیا۔ کیا تباہی، فساد اور فریب اس نے نہیں دکھائے۔ ضیاء کے مارشل لاء کے تحت جرائم کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ ’جہاد‘ کو دوبارہ ایجاد کیا گیا، افغانستان میں ثور انقلاب آیا جس کے بعد روسی وہاں تشریف لے آئے۔ ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوا۔ تب میری عمر 26 سال تھی۔ مجھے سب کچھ یاد ہے۔ سب کچھ، اگرچہ، عملاً ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ تاہم، دوسری طرف جمہوریت پسندوں، خواتین، طلباء، میڈیا، کسانوں، مزدوروں اور شہریوں نے بھرپور مزاحمت اور قربانیاں پیش کیں۔ جمہوریت پسندوں کو پھانسیاں دی گئیں، کوڑے مارے گئے، قید کیا گیا، اور نذیر عباسی سمیت کئی کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا، اور کچھ نے جمہوریت کے لیے خود سوزی کی۔
چند سال بعد 1988 میں فضا میں آم کی پیٹیاں پھٹ گئیں اور قوم کو ایک منحوس آمر سے نجات ملی، اگرچہ مرزا غالب کی روح کو آموں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی پر ضرور دکھ ہوا ہو گا۔ اس کے فوراً بعد پاکستان ایک بار پھر جمہوریت کے ریڈار پر نمودار ہوا۔ اس کے بعد کئی سال گزر گئے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا یک قطبی ہو گئی اور یہاں جمہوریت اسٹیبلشمنٹ کے سائے تلے رینگتی رہی۔ بہت سے سیاستدان اور دوسرے گروپس اور افراد نے طاقتور حلقوں کو چیلنج کرتے رہے۔
تاہم، ان طاقتور حلقوں اور ان کے آقا سبق سیکھنے کو تیار نہیں تھے۔ کارگل ہوا! نواز شریف نے 1999 کو ’جبری ڈیل‘ کے ذریعے اقتدار اور وطن سے بے دخل کر دیا۔ میں اس وقت 46 سال کا تھا۔ اور جانتا تھا کہ ’کون کون ہے‘ ، اور کیا کر رہا ہے۔ مشرف، جو تمام آمروں میں سب سے زیادہ مکار تھا، ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ میں شامل ہو گیا، اور اس کے فوراً بعد ، پاکستان اور اس کے ارد گرد جہنم کی آگ بھڑک اٹھی۔
2005 میں جب 52 سال کا تھا، ایک کرشماتی باغی بلوچ نواب کو ایک غار میں گھس کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے لوگ لاپتہ ہونا شروع ہو گئے تھے اور یہ عمل انتہائی درجے کے جبر کا ایک رواج بن گیا ہے۔
دو سال بعد ، 2007 میں، جب میں 54 سال کا تھا اور لیاقت باغ کے ’مقتل گاہ‘ کے قریب راولپنڈی میں، اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھا، شاید میری زندگی کا بدترین سانحہ پیش آیا، اور پاکستان، سیاسی تدبر اور امید کی آخری کرن، بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ اس بار آصف زرداری نے ملک کو بچایا۔ اس عمل کے ذمہ دار لوگ یا تو نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہوں گے، یا، وہ واضح طور پر ’پاکستان کے دشمن‘ تھے، آخرالذکر بات مجھے سچ لگتی ہے۔
میں مزید حقائق پیش نہیں کر سکتا ہوں۔ کیونکہ ان کا تعلق ماضی قریب سے ہے۔ میں یہاں صرف چند ’سنگ میل‘ برسوں کا ذکر کروں گا، کیونکہ ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ برس ہیں : 2014، 2015، 2017، 2018۔ ان کے بعد پیش آنے والے واقعات محض پاکستان میں ماضی میں ہونے والی کارروائیوں کے نتائج اور اثرات ہیں۔
نتیجہ۔ آئیے ہم بلوچ اور پشتون نوجوان آوازوں کو سنیں اور ان کی شکایات کو دور کرتے ہوئے عوام کے حق حکمرانی اور وسائل کی ملکیت کے مطالبات کے حل کے لیے سیاسی راستے کا انتخاب کریں۔ لاپتہ لوگوں کی بازیابی، ان کو ان کے خاندانوں یا عدالتوں کے حوالے کرنا مسائل کے حل کے لیے لازمی شرط تصور کی جانی چاہیے۔ آئیے دوسری صاف ان معقول آوازوں کو بھی سنیں جو تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرے میں رہنے اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ پارلیمنٹ عوام کی خواہشات کی ترجمانی کرتی ہے اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے۔ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے آئینی کردار پر قائم رہنے دیں اور حال ہی میں اس نے اپنے ایک سینئر سابق فوجی افسر کے خلاف پیشہ ورانہ طرز عمل کی خلاف ورزیوں پر جو کارروائی کی ہے، اس کو پاکستان میں جمہوری سفر کو جاری رکھنے کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بننا چاہیے۔
ہمیں خیال رکھنا پڑے گا کہ تین سے زیادہ سیزرین سیکشن ایک عورت کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم یہ حد تو پہلے ہی عبور کر چکے ہیں۔ اب بس کریں!


