اور کتنی آزادی چاہیے؟


یہ ناشکرے لوگ ہیں۔ پاں
ہاں یار ایسی نا شکری قوم نہیں دیکھی۔ پاں
اور سناؤ کیا چل رہا ہے۔ پاں
بس یار جشن آزادی اور پاں
ہاں یار اللہ کا شکر ہے کرم ہے ملک آزاد ہوا۔ پاں
چائے پیو گے فیصی
ہاں ہاں۔ پاں پاں
تو جناب پاں پاں کرتے ہوئے ہوٹل چل پڑے۔
یار ہوٹل کا نام بدل گیا۔ پاں
شاید یہ نام ہی پاں رکھ رہا ہو۔
ہاں بھئی دو چائے لیا۔ پاں
یار تو خود بتا یہاں لوگ بہت ناشکرے نہیں ہیں۔
ہاں یار ایسی ویسی ناشکری دل چاہتا ہے ان کے کانوں میں زور زور سے پاں پاں بجاؤں
پاں۔ نصیب والوں کو ملتی ہے۔
اور آزادی؟
پاں والوں کو۔ ہی ہی ہی

یار میں تو جس طرف دیکھوں جس ادارے کو دیکھوں جس سڑک کو دیکھوں جس بازار کو دیکھوں جس مسجد و اسکول کو دیکھوں حتیٰ کہ جہاں بھی دیکھوں میں نے اتنی بے نیاز آزادی کہیں نہیں دیکھی۔ لوگ ترستے ہیں بھائی ایسی آزادی کو۔

جہاں چاہے اسٹال لگا لو، لوگوں کا رش، جہاں چاہے ٹھیلا لگا لو گاڑی اس ٹھیلے کے سامنے ہی رک جاتی ہے خریداری کو بھلا ہے ایسی آزادی۔ جو چاہے بیچو، جہاں چاہے بیچو، جتنی قیمت پہ چاہے بیچو کوئی روکنے والا نہیں جہاں چاہے پارکنگ کرو، اور بائیک کو رانگ سائیڈ پر چلانے پر تو عوام الناس کا متفق علیہ فتویٰ ہو جیسے۔ ترستے ہیں لوگ ایسی آزادی کو بھائی۔

ہاں یار گاڑی بڑی ہو یا چھوٹی جو چاہے کچرا اس کے شیشے کھول کر گرا دو، جہاں چاہے کچرا کر دو، بعض تو شاہراہیں ہیں جہاں سائیڈ میں کچرا برسوں سے دیکھ رہا ہوں اور کمال یہ ہے کہ کچرا اٹھانے والا ادارہ روز اسی شاہراہ سے کچرا اٹھا کر اگلے دن آنے کا عہد کر کے روانہ ہوجاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ کچرا گرانے والا بھی یہی عہد کر کے گیا ہو گا۔ اور کتنی آزادی چاہیے یار۔

تھوڑی دیر چائے رکھ یار پاں پاں تو بجا لیں کافی دیر ہو گئی۔
بالکل صحیح
پاں پاں پاں پاں۔

ارے ایک چیز اور لوگ بولتے ہیں یہاں کا روبار رجسٹرڈ نہیں بھائی جان کتنے ہی سوکھے و گیلے گٹکے، اس عظیم نعمت جیسے ملک میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں سوچو اس سے نکلنے والی رجسٹرڈ پیک پر کیا اس روڈ کا حق نہیں۔ جہاں چاہے پیکو۔

یاد دلانا، دو دوپٹے پیکو کرانے ہیں۔ پاں

جہاں چاہے بازار لگا لو، جو چاہے قیمت رکھو کوئی پوچھتا ہی نہیں یہ ہوتی ہے آزادی۔ ابھی اسکول کے سلسلے میں اردو بازار جانے کا اتفاق ہوا پورا بازار مادر پدر آزاد ہے جس کا جو دل چاہے قیمت لے، یا جو چاہے کتاب کو چھپا کر اس کی مانگ میں اضافہ کر لے یہ ہے آزادی مرے بھائی۔ مزے کی بات تمام خریدار غیر مطمئن اور کوئی بازار سے خالی ہاتھ نہیں آ رہا اور تمام بیوپاری ہر سال کی طرح اس سال بھی یہی کہتے ملے وہ بات نہیں رہی نقصان ہو گیا۔ یہ ہوتی ہے آزادی۔

اور کیا چاہیے ان لوگوں کو یار جو چاہے مسجد و منبر سے بولو کوئی نہیں روکتا، مائیک آن کر کے بے سُری آوازوں میں زور زور سے گانوں کی طرزوں میں بلا وجہ نعتیں سناؤ کون روکتا ہے جہاں چاہے گائے، بکرے، اونٹ کی منڈی لگا لو، اور جہاں چاہے کاٹ لو، جہاں چاہے پال لو، زمین پر نہیں تو گھر کی تیسری منزل پہ جانور پال لو پھر کرین سے نیچے اتارو یہ ہوتی ہے آزادی۔ مذہب کے نام پہ جہاں چاہے ٹینٹ لگا کر سڑک بند کردو، مین شاہراہ بند کردو۔ یہ ہوتی ہے آزادی۔

پتہ نہیں یار ہم اور کتنی ناشکری کریں گے، بڑے برانڈز کو ہی لے لیں پاؤڈر ٹی وائٹنر کو دودھ بنا کر بیچنے کی آزادی، جو آئسکریم ہے ہی نہیں اسے آئسکریم بتا کر بیچنے کی آزادی، جس میں مکھن کا شائبہ ہی نہیں اسے مکھن بنا کر بیچ دیا اور کتنی آزادی چاہیے یار۔

اسلام کے نام پہ کولڈ ڈرنکس بیچنے کی آزادی اور قیمت وہی یہودیوں والی، ذائقہ مسلمانوں والا کہاں ملے گی ایسی آزادی یار۔

بھائی ایک چائے اور لے آ یہ چائے تو آزادی کی ناشکری میں نکل گئی۔ پاں
میرے لئے بھی ایک۔ پاں

ویسے یار اتنی مادر پدر آزادی کے بعد جب یہ میسج نظر سے گزرتا ہے کہ ہم آزاد نہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے یار۔ پتہ نہیں یار یہ اس آزادی کی قدر کیوں نہیں کر رہے جو انہیں ہر سیکنڈ پہ میسر ہے۔ کمبختو! اور کتنی آزادی چاہیے پاں پاں

مجھے لگتا ہے یہ لوگ اتنی آزادی چاہتے ہیں کہ یہ سب دوسرے ملکوں میں بھی کر سکیں۔
ہاہاہا
آ یار یہ ناشکری کا دکھ اس پاں سے مٹاتے ہیں کہ اسے بجانے کی بہت فضیلت آئی ہے۔
پاں پاں

Facebook Comments HS