یونیورسٹی، ہاسٹل اور دوسرے رنگ
میں اپنی یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود تھا۔ تا حد نظر شیلفوں میں کتابیں سجی ہوئی تھیں۔ میں لٹریچر کے سیکشن میں کھڑا ہوا تھا۔ مجھے ایک کتاب کی تلاش تھی۔ کوئی بھی ایسی کتاب جسے میں ایشو کرا کے پندرہ روز تک ہوسٹل میں اس کے مطالعے سے محظوظ ہو سکوں۔ لیکن ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں لٹریچر کا سیکشن کیوں؟ وہاں ادب یا فنون لطیفہ تو نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ یا انجینئرنگ کا طالب علم لٹریری کتاب کیوں ڈھونڈ رہا تھا؟ اسے تو الیکٹرانکس یا کمپیوٹر پروگرامنگ کے سیکشن میں ہونا چاہیے۔ یا زیادہ سے زیادہ مطالعہ پاکستان، اسلامیات یا انگلش کمپوزیشن کے سیکشن میں، جو لازمی کورسز تھے۔ لیکن لٹریچر؟ لٹریچر تو ڈگری کا حصہ ہی نہیں تھا۔ لٹریچر آؤٹ آف سلیبس تھا۔
ایک انجینئرنگ سٹوڈنٹ کا لٹریچر کے سیکشن میں موجود ہونا ایک خلاف معمول واقعہ تھا۔ جبکہ اس کے باقی ہم جماعت کورسز کے متعلقہ سیکشنوں میں کتابیں کھنگال رہے تھے۔ یا سٹڈی کیبنز میں اسائنمنٹ یا کوئز کی تیاری کر رہے تھے۔ تاکہ محنت کر کے زیادہ سے زیادہ جی پی اے حاصل کر سکیں۔ اس پورے سسٹم میں پھر لٹریچر کا کیا مقام تھا؟ توجہ بٹانے کا ایک بہانہ؟ ایک خلل یا انتشار؟ نہیں، ہرگز نہیں! لٹریچر اتنا ہی اہم تھا جیسے کام کے بعد تفریح۔ دن بھر محنت کے بعد رات کی نیند۔ ایک متوازن ذہن کے لیے لٹریچر بہت ضروری تھا۔
اور اس روز میں لائبریری میں ادب کی کتاب ڈھونڈ رہا تھا۔ میری نظر ایک کتاب پر پڑی۔ اور پھر وہیں منجمد ہو گئی۔ بس اب مزید کسی تردد کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے میری منشا سے کہیں بڑھ کر ایک کتاب مل گئی تھی۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ نظروں کا دھوکہ تو نہیں؟ اس لیے میں نے آنکھوں کو کتاب پر ٹکائے رکھا۔ ان کو جھپکنا بھی مجھے ناگوار لگ رہا تھا کہ کہیں میں آنکھ کھولوں اور وہ کتاب نظروں سے اوجھل ہو جائے۔
کتاب کا نام تھا ”Other Colors“ یعنی دوسرے رنگ۔ وہ ترکی کے شہرہ آفاق نوبل انعام یافتہ اور میرے پسندیدہ ادیب اورحان پاموک کے مضامین کی ضخیم کتاب تھی۔ میں نے لپک کر کتاب اٹھا لی اور لائبریری کے سکوت کو چیرتا ہوا باہر آ گیا۔ اس دن ”ہائی وے“ پر طلبا کا خاصہ رش تھا۔ میں کتاب ہاتھوں میں تھامے اطراف میں ڈیپارٹمنٹل بلاکس کے سائے میں طلبا کے بیچوں بیچ یوں مین گیٹ کی طرف بڑھا جیسے خوشی کا انوکھا نسخہ میرے ہاتھ لگ گیا تھا۔ خواہ فقط پندرہ روز کے لیے۔
ہاسٹل پہنچ کر میں نے کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اس کتاب نے مجھے ایک عجیب کیفیت سے دوچار کیا۔ میں کئی دن تک اس کے سحر میں گرفتار رہا۔ بیشتر تحریریں ہلکی پھلکی اور شگفتہ نوعیت کی تھیں۔ ان کو پڑھ کر دل، دماغ اور روح تر و تازہ ہو جاتیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ وہ اپنے لفظوں سے دلکش خوابوں کو تخلیق کرتا ہے۔ رات کے وقت وہ دن بھر کے شور کو ایک سرگوشی اور پھر خوابیدہ آہ میں ڈھلتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ مصنف اپنے محبوب شہر استنبول کی بارش میں بھیگی گلیوں میں بے مقصد گھومتے لطف اندوز ہوتا ہے۔
اگلے روز یونیورسٹی میں مصروف شیڈول تھا۔ کمپیوٹر آرگنائزیشن اینڈ آرکیٹیکچر کے پروفیسر وائٹ بورڈ پر انہماک سے لکھے جا رہے تھے۔ ساتھ دھیمی آواز میں کچھ بڑبڑا رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ انہیں پڑھانے میں دلچسپی تھی نہ طلبا کو ان کے لیکچر میں۔ جیسے پروفیسر تدریس نہیں بلکہ کوئی معمہ سلجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو ان سے ہو نہیں رہا تھا۔ الیکٹرانکس کے استاد کا یہ شیوہ تھا کہ وہ لیکچر کے آخری پندرہ منٹ میں کمرہ جماعت میں آتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سارا وقت اپنے دفتر میں کرسی پر بیٹھے ٹیک لگا کر سوچ میں گم سگریٹ پھونکتے رہتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک نہایت ذہین اور قابل استاد تھے۔ وہ اتنے مختصر وقت میں بھی ہمیں ایسی گتھی تھما جاتے جس کی گرہیں ہم اگلے لیکچر تک کھولتے رہتے۔
لاینحل تھیورم اور پیچیدہ فارمولے سیکھ کر یونیورسٹی سے شام گئے ہاسٹل لوٹنے والے تھکے دماغوں کا تفریح کرنا تو بنتا تھا۔ رات کو ہاسٹل ایک سینما تھیٹر اور گیمنگ سٹوڈیو بن جاتا۔ کسی کمرے میں ”Jab We Met“ کا وہ سین چل رہا ہوتا جب کرینہ کپور گھر سے بھاگتے ہوئے ”یہ عشق ہائے“ گا رہی ہوتی۔ یا ”نمستے لندن“ میں اکشے کمار محبت میں وقتی ناکامی پر ”تیرا بنے گا وہ جو تیرا نہیں ہے“ کے بول گنگنا رہا ہوتا۔ کسی کمرے میں انگلش فینٹسی مووی ”اواتار“ چل رہی ہوتی تو کسی میں سیزن ”بگ بینگ تھیوری۔“
ہاسٹل میں موسیقی کے متوالے بھی کم نہیں تھے۔ کسی کمرے سے جشن مووی کا ”درد تنہائی“ گونج رہا ہوتا۔ تو کسی گوشے سے ایمینم کا نہ سمجھ آنے والا ریپ میوزک۔ کچھ لڑکے وڈیو گیمز کے شوقین تھے۔ اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق وہ ”نیڈ فار سپیڈ،“ ”فیفا“ یا ”ٹیکن“ کھیل رہے ہوتے۔ مجھے طلبا اور کمپیوٹر کے باہم مدغم شور میں ”Other Colors“ ختم کرنے کی جلدی تھی۔
امتحانات کے آتے ہی خصوصاً آخری رات گویا سب کو سانپ سونگھ جاتا۔ سب فلم، موسیقی، گیمز اور ادب کو چھوڑ کر کورس کی کتاب رٹنے میں لگ جاتے۔ اس رات چند ایک پڑھاکو لڑکے ایک کمرے میں بتی گل کر کے سکون کی نیند سو جاتے۔ باقی طلبا ساری رات اپنے اپنے کمروں میں ان کی اسائنمنٹ سے استفادہ کرنے میں مصروف رہتے۔ تاکہ اگلے روز وہ بھی امتحان میں اچھی کارکردگی دکھا سکیں۔
امتحانات کے بعد سب کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہو جاتی۔ ایسے میں یونیورسٹی میں غیر نصابی سرگرمیوں کی دھوم ہوتی۔ یونیورسٹی میں بہت سی سوسائٹیاں قائم تھیں۔ جن کی سرگرمیوں میں طلبا اپنے اپنے شوق کے مطابق حصہ لیتے تھے۔ کوئی ٹرپ آرگنائز کر کے شمالی علاقوں کا رخ کرتا۔ تو کوئی ڈراموں کی اداکاری میں حصہ لیتا۔ ان دنوں میں نے مصوری میں دلچسپی کے پیش نظر ہاتھ سے ایک مشاعرے کے دعوت نامے لکھے۔ اور ایک ٹیک فیئر کے لیے ”ہیری پورٹر“ کے کرداروں پر مبنی بڑے میورل بنائے۔
پھر یونیورسٹی اور ہاسٹل کے وہ چار سال بھی گزر گئے۔ علم و ہنر کے حصول کے لیے مجتمع وہ رنگین گلدستہ تلاش معاش میں تتر بتر ہو گیا۔ کئی اور برس بیت گئے۔ کیسے یونیورسٹی اور ہوسٹل کے چٹیل کینوس پر تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم، موسیقی، گیمز، ادب اور غیر نصابی سرگرمیوں کے رنگ بکھرتے رہے۔ ان ”دوسرے رنگوں“ کے بغیر یونیورسٹی اور ہاسٹل کا وہ وقت اب ناممکن نظر آتا ہے۔


