نلتر داستان ( سفرنامہ ) کا ایک مطالعہ


سفرنامہ ایک ایسی بیانیہ صنف ادب ہے جس میں سفرنامہ نگار اپنے اسلوب سے تحریر کو دلچسپ اور پرکشش بناتا ہے ۔ مغربی مفکرین نے ” ہیرو ڈوٹس” کو پہلا سفرنامہ نگار قرار دیا ہے ۔ اردو زبان میں سفرنامہ نگاری کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا ۔ یوسف خان کمبل پوش کے سفرنامے ” تاریخ یوسفی ” اور عجائبات فرنگ” کو اردو کے اولین سفرنامے کہا گیا ہے ۔ یہ سفرنامے 1847 میں دہلی سے شائع ہوئے۔ آغاز میں جو سفر نامے لکھے گئے ان میں ہر شے کو تاریخ و جغرافیے کے پس منظر میں بیان کیا جاتا تھا۔

بعد ازاں سفر ناموں کی ہیت اور تکنیک میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔” نلتر داستان” بھی ایک ایسا ہی سفرنامہ ہے جو تاریخ کے بوجھل حقائق سے لبریز ہے نہ جغرافیے کی گنجلک ڈور میں الجھا ہوا۔ سفر نامے کے مصنف قیصر عباس صابر کالم نگار، ، ناول نگار اور شاعر ہیں۔آپ کا تعلق ملتان سے ہے ۔آپ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں ۔ آپ کی سولہ سے زائد کتابیں اشاعت پا چکی ہیں۔ آپ کی تخلیقات چھاپنے کا ادبی کارنامہ پاکستان کے معروف اشاعتی ادارے ” سنگ میل پبلیشر” نے انجام دیا ہے۔

چند روز قبل آپ نے اپنی کتاب ” نلتر داستان ” کا تحفہ مجھے عنایت کر کے دیارِ غیر میں میری تنہائی کا مداوا کیا ۔آپ کی کتابوں کی تزئین و آرائش دیکھ کر منشی ہر گوپال تفتہ کے نام لکھا ہوا مرز ا غالب ؔکا وہ خط یاد آ گیا ۔جس میں مرزا غالب ؔکتابوں کی خوب صورت اشاعت پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہتے ہیں ” کاغذ، خط ، تقطیع ، سیاہی ، چھاپا سب خوب ، دل خوش ہوا”۔ بلا شبہ آپ کی کتابیں دیدہ زیب ٹائٹلز اور پرکشش ناموں سے مزین ہیں ۔

” نلتر داستان ” میں آپ بیان کرتے ہیں کہ نلتر وادی گلگت سے چالیس کلومیٹر دور واقع ہے ۔نلتر وادی میں موجود جھیلیں سطح سمندر سے دس ہزار فٹ بلند ہیں۔ اسی لیے اِن جھیلوں کا شمار دنیا کی بلندترین جھیلوں میں ہوتا ہے ۔ ” نلتر داستان ” میں آپ لکھتے ہیں کہ ” شاہراہ قراقرام پر میں پچیس بار سفر کر چکا ہوں ۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں سیکڑوں کارکن ہلاک ہوئے ۔ اس شاہراہ کی کل لمبائی 1300 کلومیٹر ہے ۔ یہ شاہراہ حویلیاں سے شروع ہو کر چین کے شہر کاشغر تک جاتی ہے ۔

مصنف کے خیال میں شاہراہ قراقرم دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔ مصنف” نلتر داستان” میں بیان کرتے ہیں کہ جب وہ ” نلتر زیرو پوائنٹ” پر پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔ نلتر بازار میں محض دس بارہ دکانیں موجود تھیں۔ مصنف ” نلتر داستان ” میں اس مادہ چیتے کا بھی احوال بیان کرتے ہیں جس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرکار 90 ہزار ماہوار رقم فراہم کرتی ہے۔ "نلتر داستان ” میں اُس ست رنگی جھیل کا بھی ذکر ملتا ہے جو "نلتر بالا” سے بارہ کلومیٹر دور واقع ہے ۔

جس کے پانیوں کا رنگ منفرد ہے ۔ کتاب میں اُس” بلیو جھیل” کا بھی تذکرہ ہے جس کی لمبائی 3150 میٹر ہے ۔جس کے کنارے ایک سرسبز و شاداب جنگل آباد ہے”نلتر داستان ” کی زبان سادہ سلیس اور عام فہم ہے ۔جو پڑھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہے۔ قارئین ! جب سفرنامہ نگا ر ماحول کی یکسانیت سے اکتا جاتا ہے تو نئے راستوں کو کھوجنے اور اجنبی منزلوں کی بارگاہ میں سلام ِعقیدت پیش کرنے گھر سے نکل پڑتا ہے ۔

سفر کی صعوبتیں، موسموں کے جبر، بدن کی تھکان سفرنامہ نگار کے حوصلے شکستہ نہیں کرتی بلکہ عزم و ہمت کو جلا بخشتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سفر ایک عام شخص کے لیے اعصاب شکن عمل ہے جبکہ سفرنامہ نگار کے لیے مسرت اور انبساط کا ذریعہ۔ قیصر عباس صابر کے لیے بھی سفر خوشی و مسرت کا ایک جہان ہے۔ خوشی کے اسی جہان کو پانے کے لیے آپ نے عمارتوں کے جنگل سے اکتا کر ایک دن نیلگوں آسمان کو چھوتے پہاڑوں کی آغوش میں آباد نلتر وادی کا قصد کیا۔

” نلتر داستان ” میں آپ نے دورانِ سفر پیش آنے والے واقعات کو پوری سچائی سے سپرد قلم کیا ہے۔ واقعات کے ترتیب میں فطری ربط کی بدولت تحریر میں تازگی، بے ساختگی اور سچائی نظر آتی ہے۔” نلتر داستان ” غیر ضروری رنگین بیانی اور مبالغہ آرائی سے کوسوں دور ہے۔ ” نلتر داستان” میں آپ سفری واقعات کو ادبی پیرائے میں بیان کرتے ہوئے شگفتگی اور برجستگی کو پوری تخلیقی توانائی سے بروئے کار لائے ہیں۔ اِس خوئے دل پذیر کی بدولت آپ کی تحریر لطف سے لبریز ہے۔

قاری دوران مطالعہ کہیں بھی بوریت کا شکار نہیں ہوتا ۔آپ دوران سفر جگہ جگہ اجنبی وادیوں میں بھٹکتے ہیں، اجنبی لوگوں سے مکالمہ کرتے اور پھر صفحہ قرطاس پر اپنے تاثرات ،مشاہدات و تجربات کا اندراج تخلیقی انداز میں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ "نلتر داستان ” میں آپ نے پرکشش مناظر، دلپذیر وادیوں، خوش کن اجنبی راستوں، شفافیت کا غلاف اوڑھے ہوئے جھرنوں، اجلی ہواؤں سے بغل گیر ہوتے دراز قد پیڑوں کی لفظی تصویریں بنائی ہیں۔

Facebook Comments HS