خود مختار ریاست اور آ زادی


ہائے افسوس! ہم ہر وہ قربانی بھول کر یاد رکھ سکے تو بس اتنا ایک ہی لفظ، ”آزاد“ بس ہم آ زاد ہیں۔ لیکن اس آ زادی کے معنی کو اپنی مرضی کا لبادہ اوڑھا کر اس قدر ذہنی غلام بن چکے ہیں کہ ہمیں خود اس پر احساس ندامت تک نہیں ہوتا۔ آج سے پہلے جس غلامی سے نجات کے لیے تگ و دو کی گئی آج وہ غلامی شوق سے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بیجا نہیں غلام کو آ زاد بھی کر دیا جائے، لیکن اس کے اندر غلامی کی عادت اس قدر رچ بس گئی ہوتی ہے، وہ آ زادی قبول ہی نہیں کر پاتا۔ وہ فطرتاً غلام ہی رہتا ہے۔

ہمارے اندر الزام تراشی کا فن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ میں اور آپ سب سے پہلا الزام لگاتے ہیں۔ ہمارے حکمران ہی کرپٹ ہیں۔ ہمارا نظام ہی خراب ہے، ارے معصوم لوگو! ہمارا تو آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے۔ وہ بے چارے بھی ہم میں سے ہی ہیں، اور ہمیں ایک ہی گھٹی ملی ہے آ زادی۔ بس فرق صرف اتنا ہے۔ ان کے پاس اختیار آ گیا ہے۔ جسے وہ باپ کی جاگیر سمجھ کر اپنی آ نے والی نسلوں کے لیے بس تھوڑے سے اثاثے ہی تو بنا رہے ہیں آزادی سے۔ کیا پتہ کب ان سے تھوڑا اور کوئی چاپلوس آ جائے، تو ان کی کرسی اس کے حوالے کر دی جائے۔ تو بچارے پھر اس عیش کے عادی غش کھا جائیں۔ اور یہ سب ہمارے ہاتھ میں آ جائے تو ہم بھی ایسا کرنے میں دریغ نہ کریں۔ اب اپنے منہ میاں مٹھو تو بننا ہمیں خوب آ تا ہے جناب۔

اف! ہمیں بڑے شکوے ہیں اپنے وطن سے۔ کہ اقتدار والے ہی بس آ زاد ہیں۔ ہمیں تو موقعہ ہی نہیں ملتا آ گے بڑھنے کا ۔ اور ہر سچے پاکستانی کی غلامانہ سوچ سرکار کا نوکر بننے کی ہے۔ سرکاری نوکری! ارے بس کوئی تگڑی سفارش مل جائے، تو نوکری پکی۔ اس کے بعد سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ ملک کو لوٹنے کی بھاگ دوڑ میں اپنا بھی حصہ شامل ہو، ہم کوئی کم ہیں کسی سے۔ سب تو ہمارے اجداد کی وراثت میں رچا بسا ملا ہے۔ اپنے بل پر کچھ کرنے کی چاہ ہی نہیں بلکہ رونا یہ کہ ہمارے پاس وسائل ہی نہیں یہ سوچ کر ہر شے سے بری الذمہ ہو گئے۔ غریب کی اولاد نے غریب مرنے کی ٹھان لی ہے۔

آہ! بس ایک بار باہر کا ویزا لگ جائے۔ اور پھر بس گرین کارڈ تو سمجھو آ نے والی نسلوں کے تو عیش ہی عیش ہیں۔ یہ حسرت ہر سچے پاکستانی کے دل کی دھڑکن ہے۔ ارے یہاں رکھا ہی کیا ہے حالات ہی بڑے خراب ہیں۔ ایتھوں جاواں گے تے گل بنے گی۔ اور وہ گل بنتی ہے بزرگوں کی ساری عمر کی جمع پونجی لٹا کر ۔ ”ارے رہے نہ وہ ہی غلام کہیں کے“ جن سے آ زادی کے لیے اتنی قربانیاں دیں۔ پھر ان کے قدموں میں جانے کے لیے مرے جا رہے ہو۔ اور ادھر ایک قصور معصوم والدین جو اپنی نالائق اولاد پر اس قدر گماں رکھتے ہیں، اگر اسے یہاں ہی کوئی کام کروا دیا تو پیسے تو ڈوب جائیں گے۔ لیکن گورے ایسے گدھے کو سنوار لیں گے اتنا اندھا یقین، ہائے رے ہم صدقے تمہارے۔

افسوس! کہنے کو ”آ زاد ملک“ میں رہتے ہوئے ہمیں سوچنے تک کی آ زادی نہیں ہے۔ اگر کوئی سچ کی سوچ کو لفظوں کا لبادہ اوڑھا کر حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش بھی کرے، تو سب سے پہلے اسے بیچ چوراہے ننگا کر دیا جاتا ہے۔ یہ تو ہم کر رہے ہیں آزادی کا پرچار۔ غلام کو غلامی کی اس قدر لت لگ چکی ہے یا تو وہ خود غلامی کی زندگی کو ترجیح دیتا ہے یا پھر وہ سب کو اپنا ماتحت کر لیتا ہے۔ ہائے اقبال کیا حال سناؤں تیرے وطن کے آزاد غلاموں کا۔

آزادی کو ہم اپنی مرضی کا رنگ دے کر جئے جا رہے ہیں۔ ہر غلط چیز کرنے میں ہم آزاد ہیں لیکن جیسے ہی سوال آ تا ہے جس میں وطن کی بہترین کے لیے کچھ کرنا ہو ادھر ہی ہمیں خیال آ تا ہے ہمارے پاس تو وسائل ہی نہیں ہیں۔ بے تکے کرتب کر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونا، ہر شے پر ممیز بن جانا انتہائی بے تکا قسم کا مزاح ہمارے اندر گھر کر چکا ہے۔ شاہینوں کی پرواز اب اس حد تک محدود ہو گئی ہے۔ میں حیران ہوں پاکستان کی تعمیر کے وقت یہ باجے کیوں نہیں بجائے گئے، لوگوں کو پتہ کیسے چلا ہو گا کہ آج چودہ اگست آ زادی کا دن ہے۔ اب ہمارے پاس تو اس کے علاوہ اظہارِ خوشی کا کوئی اور چلن نہیں۔ آہ! یہ ہے قائد اعظم کا پاکستان۔

بجلی، گیس، پانی، اور ضروریات زندگی کے معاملات میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے۔ کہ اس میں الجھے رہیں اس سے آ گے کا سوچ ہی نہ سکیں۔ ہسپتالوں میں جانے تک کے لیے پہلے جان پہچان ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بہترین ڈگریوں والے دو ٹکے کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ پہلے ملک کے لئے قرضے لینے کے لیے اتنی شرائط ہوتی تھیں اب بے دریغ قرض دیا جا رہا ہے۔ معاشرتی مسائل کا ایک پہاڑ بن چکا ہے جس کی بلندی کے ٹو کی چوٹی سے بلند ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یوں ہوئے ہم آ زاد کہ آ زادی ہوئی حیراں۔

ہمارے اندر چالاکی اور منافقت کا گڑھا اتنا گہرا ہو چکا ہے۔ ہم جذباتی میلان پر تو اکٹھے ہوتے ہیں۔ آواز بھی اجتماعی طور پر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن دراصل وہ سوچ سب کی انفرادی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اجتماعیت کا تصور اپنی اصل روح کے ساتھ وجود ہی نہیں رکھتا۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو آج تک کسی قوم یا ملک کے حالات تب تک نہیں بدلے۔ جب تک ایک شخص بھی انفرادیت کی چھاؤں سے نہ نکلا ہو۔ آ زادی کی چاہ ہر قلب میں دھڑکتی ہے۔ لیکن آ زادی کے اصل مطلب سے نا آشنائی ہی ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے جو ہماری غلامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ماضی کی ہر قربانی کو فراموش کیے۔ ہم نے آ زادی کو اپنے پہنائے رنگ کے لبادے میں اتنا ڈبو دیا ہے، کہ جان کے لالے پڑے ہیں۔ اور اب بھی کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں۔ ہم آ زادی کے خول میں قید ہیں اس سے فرار کی رہ سجھائی تب تک نہیں دے گی جب تک ہم نہیں چاہیں گے۔ ماضی کے پنوں میں دفن چند تحریروں کو اک نظر دہرا لیں تو شاید وطن کی ڈوبتی کشتی کو بھنور سے بچا کر کنارے تک لے جا سکیں۔

Facebook Comments HS