تحریک انصاف میں مائنس ون کا منصوبہ


ملک میں حالات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں البتہ ان کا تعلق ملکی معیشت یا نظام حکومت سے نہیں ہے بلکہ یہ طے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ کون سا طریقہ موجودہ بے چینی و بحران ختم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے قرض اور دوست ممالک کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے لیکن ملک میں سیاسی استحکام اور اتفاق رائے ضروری ہے۔ حتی کہ قریب ترین دوست ممالک بھی یہی مشورہ دے رہے ہیں۔

حال ہی میں گرفتاریوں کا شروع ہونے والا سلسلہ اور آرمی چیف کی طرف سے اختلاف رائے کو ’ملک دشمنی‘ سے تشبیہ دینے سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ ملکی سیاسی ماحول میں مفاہمت کی جگہ مزید کم ہو چکی ہے بلکہ حکومت اور فوج جس جانب قدم اٹھا چکی ہیں، اسے مخالف سیاسی قوتوں کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ بھی کہا جاسکتا ہے۔ بظاہر یہ کارروائی دہشت گردی، بیرونی ایجنٹوں اور سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلانے اور اعلیٰ عسکری، عدالتی اور سیاسی قیادت کے خلاف نفرت انگیز و ہتک آمیز مواد کی اشاعت سے متعلق ہے۔ حکومت نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کو تمام تر حکومتی و ریاستی طاقت سے ختم کیا جائے گا۔ تاہم اس طریقے سے ملکی سیاست میں موجودہ تقسیم مزید واضح ہوں گی اور ایک دوسرے پر حملوں میں شدت بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

حکومت کو اس وقت فوج کی مکمل اعانت حاصل ہے یا دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ فوج ملک میں حالات کی بہتری کے لیے جو بھی اقدام کرنا چاہتی ہے ملک کی سیاسی حکومت پوری طرح اس کی پشت پناہ بنی ہوئی ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان خوشگوار ورکنگ تعلقات تو ہمہ وقت ملک کی ضرورت ہوتے ہیں اور کسی بھی سیاسی انتظام میں ایسی ضرورتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تاہم ایک دوسرے کو مدد فراہم کرنے کے طریقے میں اس بات کا اہتمام ضروری سمجھا جاتا ہے کہ یہ سارا انتظام آئین کی مقررہ حدود کے اندر ہو۔ البتہ شہباز حکومت اس وقت پاک فوج کو ملکی معاملات میں جو سپیس فراہم کر رہی ہے، اسے مقررہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کا طریقہ کہنا مشکل ہے۔

پاکستان کے سیاسی تناظر میں عسکری قیادت یا نام نہاد اسٹیبلشمنٹ نے اختیارات پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے۔ یہ صورت حال نئی تو نہیں ہے لیکن ملکی معاملات میں بڑھتا ہوا فوجی کنٹرول خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس وقت کس کی حکومت ہے اور اگر سارے فیصلے فوج ہی نے کرنا ہیں تو پھر انتخابات کے ڈھونگ اور پارلیمنٹ کا بکھیڑا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ البتہ اگر فوج براہ راست آئین معطل کر کے ماضی کی طرح اختیارات پر قابض ہونے کا کھلم کھلا اعلان کردے تو اسے ملک پر ایمرجنسی یا مارشل لا لگانے کا عمل کہا جائے گا۔ یہ کہنا یا سمجھنا تو غلط ہو گا کہ بعض بڑی طاقتوں مثلاً امریکہ وغیرہ کے دباؤ کی وجہ سے فوج اس اقدام سے گریز کرے گی۔ کیوں کہ کسی بھی ملک کی فوج جب کوئی غیر آئینی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لے تو کوئی طاقت اس کا راستہ روکنے کے قابل نہیں ہوتی۔ بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے واقعات اس کی تازہ ترین مثال ہیں جہاں فوج نے مرضی سے ایک ’منتخب‘ وزیر اعظم کو ہیلی کاپٹر میں فرار ہونے پر مجبور کیا اور آئین کی کتاب لپیٹ کر ملک میں عبوری حکومت قائم کردی۔ اگر پاکستانی فوج بھی ایسا ہی کوئی اقدام کرے تو کوئی بھی طاقت اس کا راستہ روکنے کے قابل نہیں ہوگی۔ البتہ براہ راست فوجی حکومت ملکی معاشی مشکلات میں اضافہ کرے گی جس کی وجہ سے ایسا کوئی فیصلہ دیکھنے میں نہیں آئے گا۔

کہا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں فوج کو طالب علموں کی جد و جہد اور حسینہ واجد کے جابرانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے یہ موقع ملا اور پاکستان میں ابھی ایسے حالات موجود نہیں ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں میں اس حوالے سے جو قدر مشترک دیکھی جا سکتی ہے وہ سیاسی قوتوں کی مختلف دائروں میں تقسیم ہے۔ وہاں بھی دو سیاسی گروہ موجود تھے جو کسی بھی معاملہ پر اتفاق رائے پر آمادہ نہیں تھے۔ حسینہ واجد نے اپنے مسلسل پندرہ سالہ دور حکومت میں تمام سیاسی مخالفین کو دبانے اور قید رکھنے کا اہتمام کیا۔ اسی جبر کی وجہ سے طلبہ مشتعل ہوئے اور ایک بظاہر معمولی مسئلہ پر شروع ہونے والا احتجاج ملکی حکومت کا تختہ الٹنے پر منتج ہوا۔ البتہ اگر فوج اس میں ملوث نہ ہوتی اور مسلسل حکومت کا ساتھ دیتی تو ملک میں شدید خوں ریزی کے باوجود حکومت کی تبدیلی شاید ممکن نہ ہوتی۔ ایسا امکان سیاسی مفاہمت کے ماحول یا فوجی طاقت کے زور پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی سیاسی تقسیم بہت واضح اور شدید ہے اور سیاسی لیڈر کسی بھی قیمت پر ایک دوسرے کی بات سننے یا قومی مسائل حل کرنے کے لیے کوئی مشترکہ ایجنڈا تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اس لیے طاقت کا توازن مسلسل فوج کی طرف جھکتا جا رہا ہے۔

متفقہ اپوزیشن لیڈر اور عوام کے وسیع تر حلقوں میں مقبول عمران خان نے کبھی اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہنے دیا کہ وہ سیاسی حکومت یا پارٹیوں سے بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ فوجی قیادت سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھے ہوئے ہیں۔ ایک موقع پر تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے‘ ۔ عمران خان کی دلیل تو یہی ہے کہ چونکہ ملک میں فوج ہی طاقت کا واحد سرچشمہ ہے (اس بات پر انگشت بدنداں ہونا چاہیے کہ آئینی جمہوریت کے لیے جد و جہد کرنے والا لیڈر آئین کی بجائے فوج کو طاقت کا سرچشمہ مانتا ہے) اس لیے اسی کے ساتھ انتقال اقتدار اور ’حقیقی جمہوریت‘ کی بحالی کے لیے بات چیت ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسی دلیل دیتے ہوئے وہ اس سچائی کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ فوج کو یہ طاقت سیاست دانوں کی کوتاہیوں نے عطا کی ہے۔ وہ باہم مل کر مسائل حل کرنے کی بجائے فوج کے ہاتھ اور پوزیشن مضبوط کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

دوسری طرف شہباز شریف کی حکومت براہ راست پاک فوج کے ’زیر سایہ‘ امور حکومت انجام دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی۔ یوم آزادی کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریبات اور اعلانات سے ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ ’پالیسی بیان‘ آرمی چیف جنرل عاصم منیر جاری کرتے ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف اس کے مطابق پر جوش اعلانات سے کام چلا لیتے ہیں۔ موجودہ حکومت ایسے انتخابات کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے جن کے بارے میں شبہات ہر آنے والے دن کے ساتھ قوی ہو رہے ہیں۔ ملک میں اگرچہ سیاسی جمہوری نظام قائم ہے اور اسمبلیاں فیصلہ ساز اداروں کے طور پر کام کر رہی ہیں لیکن ان کے پاس ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے یا اسمبلیوں کو میدان جنگ بنانے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں ہے۔ گو کہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار آئین پاکستان عطا کرتا ہے لیکن ملک کی سیاسی قوتیں مل جل کر ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں غیر منتخب ادارے جمہوری عمل اور پارلیمنٹ کے اختیارات پر قدغن عائد کرنے کا حوصلہ کرلیتے ہیں۔ واضح رہے جب غیر منتخب اداروں کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد فوج اور عدلیہ ہوتی ہے۔

سیاست دان اگر سیاسی جاہ پسندی کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوں گے تو یہ صورت حال طاقت ور غیر منتخب اداروں کے دائرہ کار میں اضافہ کرتی ہے اور انہیں چیلنج کرنے والی قوت موجود نہیں ہوتی یا اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ وہ مزاحمت کے قابل نہیں رہتی۔ فوج کے مقابلے میں سیاسی پارٹیوں و لیڈروں کی بے بسی تو کئی حوالے سے مشاہدہ کی جا سکتی ہے لیکن حال ہی میں اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے بھی بار بار منتخب اداروں، حکومت و پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کا اقدام دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ منظر تو اب روز کا معمول بن چکا ہے کہ کسی انتظامی معاملہ یا حکومتی فیصلہ پر ایک پٹیشن دائر ہوتی ہے اور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج سخت سست ریمارکس کے ذریعے ملک کے جائز قانونی انتظام پر سوال اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے بلاول بھٹو نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری عدلیہ دنیا بھر میں انوکھی ہے۔ وہ ڈیم بناتی ہے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے قیمتوں کا تعین کر سکتی ہے لیکن اپنی آئینی حدود کا احترام کرنے میں ناکام ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ جیسے فوج کو سیاسی افتراق اور عدم تعاون کے ماحول میں غیر معمولی اختیارات حاصل ہوئے ہیں، ویسے ہی عدلیہ بھی ملک کی سیاسی افراتفری کے ماحول میں یہ سمجھنا شروع ہو گئی ہے کہ اسے ہی ملک کو آگے لے جانے میں کردار ادا کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ جج قانون دان ہوتے ہیں اور آئین کو سمجھ کر اس کی نئی حدود مقرر کر کے سیاسی بحران حل کر سکتے ہیں، سیاسی محرومی ختم کر کے بہتر ماحول پیدا کر سکتے ہیں اور حکومت و اپوزیشن کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنے پر آمادہ کرنے کے قابل ہیں۔ حالانکہ اصولی طور سے جس وقت بھی کوئی عدالت مقررہ آئینی حدود سے تجاوز کرے گی تو اس کی اپنی اخلاقی اتھارٹی چیلنج ہوگی۔ پھر عدالت عظمی کے ججوں کو سیمیناروں میں تقریر کرتے ہوئے بتانا پڑے گا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ حالانکہ یہ اعلان کرنے سے پہلے عزت مآب ججوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ ملک میں انصاف کے معاملات میں اس حد تک بگاڑ کیوں پیدا ہوا۔ اگر وہ اس پہلو پر توجہ مبذول کریں تو دیکھ سکیں گے کہ جب بھی عدالتیں آئین کی تشریح کے نام پر اس مقدس دستاویز سے چھیڑ چھاڑ کریں گی یا پارلیمنٹ کو عدالت کے زیر نگین ادارہ سمجھنے کی غلطی کریں گی تو مشکلات کا باب کھل جائے گا۔

ملکی تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ پہلی بار اقتدار و اختیار پر دسترس میں حصہ لینے کی سعی کر رہی ہے، اس لیے دیکھنا ہو گا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ فوج کے برعکس عدالتوں کے پاس اپنی بات منوانے کے لیے ہتھیار نہیں ہیں۔ اس لیے عدلیہ کی پوزیشن مضبوط پارلیمنٹ اور طاقت ور سیاسی حکومت کے ذریعے ہی مستحکم ہو سکتی ہے۔ البتہ سیاسی مفاہمت کے مقصد یا کسی دوسرے نام سے عدلیہ اگر پارلیمنٹ یا حکومت کوہی کمزور کرے گی تو وہ خود بھی بے سہارا ہو جائے گی۔

پاک فوج نے سابق آئی ایس چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو گرفتار کر کے اندرونی احتساب شروع کرنے کا فیصلہ ہی نہیں کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ گٹھ جوڑ سے فوج کو کمزور کرنے کی سیاسی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے اس گرفتاری کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ بہت سے لوگ اس لپیٹ میں آنے والے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ابھی تک مخصوص سیٹوں کے بارے میں اکثریتی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ اس فیصلہ کے قانونی نکات و پہلو دیکھ کر ہی اندازہ ہو سکے گا کہ اس معاملہ پر حکومت اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نظر ثانی کی درخواست کے لیے کتنی گنجائش رکھی جاتی ہے۔

ملک میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنے میں فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا فیصلہ اور مخصوص نشستوں پر ججوں کے رویہ سے ملکی سیاست کا اگلا مرحلہ واضح ہو سکے گا۔ یہ دونوں فیصلے چند ہفتوں میں سامنے آسکتے ہیں۔ ان فیصلوں کی بازگشت میں ہی طے ہو سکے گا کہ تحریک انصاف کو مائنس ون کرنے کی کوششیں کس حد تک بارآور ہوتی ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali