بیمار کے تیماردار
تیمار دار اور بیمار کا رشتہ ماں بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ماں بچے کی ہر ضرورت اور تکلیف کا احساس بہت اخلاص کے ساتھ کرتی ہے۔ اگر مریض کے لیے ایسا احساس تیماردار کے دل میں نہ ہو تو وہ محض ایک تماش بین ہے جو مریض کے لیے زحمت بن جاتا ہے۔
زمانہِ طالبِ علمی میں ایک مضمون بہت شد و مد کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے کیونکہ وہ ہر سطح کے امتحان میں گھومتا گھامتا اپنا دیدار کروا دیا کرتا تھا اور ہم ہر بار چند جملوں کے اضافے کے ساتھ اپنی یاداشت کے بل بوتے پر مضمون لکھ دیا کرتے تھے۔ بچپن میں کبھی بیمار ہوتے تو گھر والوں کی جو خصوصی توجہ ملتی اور کسی خاص مہمان کی طرح آؤ بھگت کی جاتی تو ایسے میں اگر کوئی بزرگ کہہ بھی دیتے کہ دیکھا ”تندرستی ہزار نعمت ہے“ آپ نے کتابوں میں بھی پڑھا ہو گا تو ہم ان کے احترام میں بظاہر خاموش رہتے ہوئے دل میں سوچتے، ارے یہ بیماری بھی کسی نعمت سے کم نہیں جب گھر بھر کی توجہ کا واحد مرکز ہم ہیں۔ امی بصدِ اسرار میری پسندیدہ چیزیں کھلانے کی کوشش کر رہی ہیں تو بہن بھائی اپنے من پسند کھلونے ہمارے سامنے سجا رہے ہیں۔ والد پٹیاں بھگو بھگو کر ہمارے ماتھے پر رکھتے اور امی سے دوا وقت پر دیے جانے کے حوالے سے رپورٹ لیتے۔
دراصل اس مقولے کا مفہوم تب سمجھ میں آیا، جب خود پر ذمہ داریاں پڑیں اور بیماری کی حالت میں بھی اکثر اوقات ہمت نہ ہونے کے باوجود ذمہ داری کو پورا کرنا پڑتا۔ تب احساس ہوا کہ بچپن اور ناسمجھی کے عالم میں، والدین کی چھتر چھایا میں زندگی کی اتنی اہم حقیقت کو سمجھ ہی نہ پائے۔ بیماری کی اذیت کا مزید اندازہ تب ہوتا ہے جب نوبت ہسپتال میں داخل ہونے پر پہنچ جائے۔
حال ہی میں والدہ کے ساتھ طویل وقت ہسپتال میں رہنے کا موقع ملا جہاں مریض کی بے بسی اور تیمار داروں کے رویوں کا معاشرے کے مختلف طبقات کے حوالے سے جائزہ لینے بلکہ سہنے کا موقع ملا۔ یہاں دو مریضوں کے لیے ایک کمرے کا انتظام تھا۔ درمیان میں پردوں کے ذریعے حدود متعین تھیں۔ ایسی صورتحال میں دونوں اطراف کے مریض اور تیماردار ایک دوسرے کی نقل و حمل سے نہ صرف آگاہ رہتے بلکہ اکثر اپنی خدمات پیش کر دیا کرتے۔ ان میں اکثر بزرگ مریضائیں تھیں جن کا تعلق معاشرے کے مختلف طبقوں سے تھا۔ ان میں دیہاتی لوگ بھی تھے، شہری بھی اور نسل در نسل افسر طبقے کے لوگ بھی۔
ایک رات ڈیڑھ بجے کے قریب نرس دوڑی دوڑی آئی اور ساتھ کے خالی بستر کے ساتھ لگے بورڈ پر مریض کا نام اور بنیادی تفصیل لکھ کر باہر نکل گئی۔ اس کے جاتے ہی ایک اسٹریچر پر اماں جی کے ساتھ بیٹے، داماد، پوتے، نواسے، بیٹی اور بہو بھی کمرے میں داخل ہوئے اور مریض کو اسٹریچر سے بیڈ پر منتقل کرنے کے صحیح طریقے اپنے اپنے انداز میں زور و شور سے بتانے لگے۔ اسٹریچر کبھی دائیں تو کبھی بائیں گھمایا جاتا، پوتے کو بیڈ پر چڑھایا گیا تاکہ دادی ماں کو آرام سے بستر پر منتقل کر سکے لیکن مشوروں کو سنتا کبھی وہ پھدک کر پائنتی کی طرف آتا تو کبھی سرہانے کی جانب۔ اس ساری افراتفری میں بیچاری مریضہ کی آواز کہیں دب چکی تھی جو ہائے ہائے کرتے ہوئے التجا کرتی کہ مجھے جلدی بستر پر لٹاؤ۔ اس دوران ساتھ کے بستر پر دو اؤں کے اثر سے سوتی والدہ بھی ہڑبڑا کر جاگ گئیں۔ خیر پانچ سات منٹ کی تگ و دو کے بعد آخر کار مریض کو بستر پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ قافلہ گاؤں سے مریضہ کو لے کر پہنچا تھا جو کہ دو افسروں کی والدہ تھیں۔ مریضہ کو دیکھنے کے لیے ڈیوٹی ڈاکٹر اپنی ٹیم لے کر آئیں چونکہ مریضہ کو ایمرجنسی سے وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا لہذا تجویز کردہ طبی سہولیات فراہم کرنا ضروری تھا۔ اس مقصد کے لیے مریضہ سے جیسے ہی ڈاکٹر سوال کرتیں ہر جانب سے مختلف جواب آتے اور ان میں پانچویں نحیف آواز مریضہ کی ہوتی۔ جب مریضہ کی بات کو سامنے رکھ کر ڈاکٹر اگلا سوال کرنے لگتیں تو چاروں اطراف سے اماں جی کو باور کروایا جاتا کہ اماں جی آپ کو نہیں پتہ ہم صحیح بتا رہے ہیں۔ خیر جیسے تیسے ڈاکٹر نے تفصیلات میں سے نتائج اخذ کر کے نرس کو ہدایات جاری کیں اور خود سر پکڑ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ ڈاکٹر کے جانے کے ٹھیک پانچ منٹ کے بعد کمرہ انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبوؤں سے مہک اٹھا جیسے کسی ولیمے کا کھانا کھل گیا ہے۔ اب بوفے کی طرز پر کھانا چن دیا گیا اور سب نے خوب مزے سے کھایا اور ساتھ مریضہ کو بھی کھلایا۔ آخر کار رات تین بجے بہو کو مریضہ کے پاس چھوڑ کر سب رخصت ہوئے۔ یہ گہما گہمی ہفتہ بھر جاری رہی، روزانہ کھڑے ڈنر سے لطف انداز ہوا جاتا اور دن بھر پھلوں کے ٹوکرے اڑائے جاتے جو مریضہ کی عیادت کے لیے آئے لوگ تحفے میں دے کر جاتے۔ رات کے دو بجے مریضہ سے تیمار داری پر مامور بیٹیاں کہتیں، ”اماں کچھ کھاؤ گی؟ کوفتے بھی ہیں، دہی بھلے بھی ہیں، روٹی بھی ہے۔“ اماں کا جواب آتا ”چل دو بُرکیاں دہی بھلے دیاں دے پتر فیر کوفتے وی چکھا دئیں۔“
اس کے بعد خاندان کے مختلف گھرانوں کے حالات زیرِ بحث رہتے اور پھر رات تین بجے کے قریب سکون سے سو جاتے۔ اس دوران ساتھ کا مریض کس اذیت سے گزر رہا ہے، کسی کو ہوش نہیں۔ اگلی صبح جب ڈاکٹر مریض کو دیکھنے آتیں تو کہا جاتا، ”پتہ نہیں اماں کیوں نہیں ٹھیک ہو رہی۔
خیر ایک ہفتے کے بعد دوبارہ ایک قافلے کی صورت مریضہ ہسپتال سے رخصت ہوئیں اور شام کو ایک کم عمر بچی داخل ہوئی جو ایک اعلیٰ افسر کی بیٹی تھی اور ساتھ ماں باپ آئے تھے۔ سوچا، چلو اب چھوٹی سی فیملی ہے امید ہے وقت اچھا گزر جائے گا۔ اور واقعی اگلی شام تک سب ٹھیک تھا لیکن پھر والدہ کی طبیعت بگڑ گئی اور نرسوں کا آنا جانا اور والدہ کی تکلیف سے نکلتی آوازوں سے وہ بچی دبک گئی جبکہ ہم اپنی جگہ پریشان کہ جلد از جلد والدہ کو بھی افاقہ ہو اور وہ بچی بھی آرام کر سکے۔ رات تک معاملات کنٹرول میں آ گئے اور دونوں مریض سکون سے سو گئے۔ اسی اثنا میں بچی کی والدہ کا فون بجا اور ایک سہیلی کی کال موصول ہوئی جس میں محلے کے حالاتِ حاضرہ پر مباحثہ اس قدر طویل ہوا کہ دلچسپی لیتے ہوئے بچی نے بھی لقمے دینے شروع کیے۔ اب ہمیں پریشانی نے آن گھیرا کہ ان قہقہوں اور خوش گپیوں کے دوران اگر والدہ کی آنکھ کھل گئی تو باقی رات دوسروں کی بھی آنکھوں میں کٹے گی۔
اسی طرح ایک ریٹائرڈ نرس بھی ہسپتال میں داخل ہوئیں جو کہ سب ڈیوٹی نرسوں کو جھاڑتیں، تیمارداروں کی کھنچائی کرتیں سب کو ماتحت سمجھتے ہوئے اس قدر ڈانٹتیں کہ سب سٹاف ان سے کترانے لگا۔ انجکشن لگنے پر ایک کہرام برپا ہو جاتا اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ گویا مکافاتِ عمل کا سلسلہ جاری ہے، نہ جانے کتنے مسکین مریضوں کو بے دردی سے انجکشن لگا چکی ہیں۔
ان سب باتوں سے قطع نظریہ ایک ایسا موقع تھا کہ جب معاشرے کے کئی پہلووں سے شناسائی ہوئی۔ بیمار اور تیماردار کے رشتے کی اہمیت اور نزاکت کا اندازہ ہوا۔ جہاں بیٹے ماں کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے نظر آئے کہ ایک ملازمت پر جاتا تو دوسرا ماں کے پاس موجود رہتا اور ایسے خدمت کی جاتی کہ گویا اپنی کل متاع کو اپنے ہاتھوں سے سنبھالا جا رہا ہے۔ اعلیٰ افسران کو ہمیشہ آرڈر دیتے دیکھا ہے لیکن وہ اپنے ہاتھوں سے ماں کی خدمت کرنے والے کسی غلام کی طرح چوکس بھی رہ سکتے ہیں، یہ پہلی مرتبہ دیکھا۔
یہ حقیقت ہے کہ ماں باپ کی خدمت اولاد کی ذمہ داری ہے۔ اس کا صحیح اندازہ ہسپتال میں تب ہوا جب ہر بزرگ مریضہ کو بیٹے یا بیٹیاں سنبھالتے نظر آئے۔ اگر کوئی دوسرا رشتہ جیسے بہو، پوتی یا نواسی خدمت کرتی نظر آئی تو اسے اچنبھے سے دیکھا گیا کیونکہ ایسا شاذ و نادر ہی نظر آتا تھا کہ اولاد یا ملازمہ کے علاوہ بھی بزرگ خاتون کی خدمت کوئی کر سکتا ہے۔ یہاں رشتوں کے درمیان بڑھتے فاصلے کھل کر سامنے آتے دکھائی دیے۔ لفظی اور عملی محبت شاید ایسے ہی مواقعوں پر عیاں ہوا کرتی ہے کہ جب آپ اپنی روزمرہ روٹین میں سے وقت نکال کر کسی کو اپنا سمجھتے ہوئے اس کی تیمارداری کے لیے ہر قسم کی بناوٹ اور دکھاوے سے بالاتر ہو کر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں یا کم از کم عیادت کے لیے آتے ہیں۔
تیمار داری کرنا سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہے اور اس کے اپنے تقاضے ہیں جیسے کہ نبی پاکً پر کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی تیمار داری کا واقعہ کسے یاد نہیں ہو گا۔ تیمار دار اور بیمار کا رشتہ ماں بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے ماں بچے کی ہر ضرورت اور تکلیف کا احساس بہت اخلاص کے ساتھ کرتی ہے۔ اگر مریض کے لیے ایسا احساس تیماردار کے دل میں نہ ہو تو وہ محض ایک تماش بین ہے جو مریض کے لیے زحمت بن جاتا ہے۔ مریض کے سامنے اس کی تکلیف کو دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہوئے بھی الفاظ اور لہجے کے انتخاب کو مدنظر رکھنا لازم ہے کیونکہ مریض ڈاکٹر کے بعد اپنے تیماردار سے شفا کی امید حاصل کرتا ہے۔ اگر کبھی تیمارداری کی سعادت نصیب ہو، تو صبرو تحمل اور اخلاص کے دامن کو تھامنا کبھی مت بھولیں بصورتِ دیگر رحمت کے زحمت بننے میں فقط نقطے کا فرق ہے۔ ذرا سوچیے! کہ آخری مرتبہ کب کسی بیمار کی تیمار داری کی سعادت نصیب ہوئی، جس میں دکھاوے کے عنصر کو آپ نے خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ اگر یہ موقع ابھی تک نہیں ملا یا عرصہ دراز سے ممکن نہیں ہوا تو اپنے اردگرد غور کریں، سگے رشتوں کے بیمار پڑنے کا انتظار نہیں کریں۔ رب ہمیں اپنے مریضوں کے لیے باعثِ رحمت اور آسانیاں تقسیم کرنے والوں میں سے بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


