77 واں یوم آزادی۔ لمحہ فکریہ
یونائیٹڈ انڈیا سے الگ ہوتے ہوئے 77 سال پورے ہو گئے۔ آب میرے خیال میں ہمیں یہ روایتی جشنِ آزادی کو چھوڑ کر ہر 14 اگست سے پہلے بیٹھنا چاہیے کہ جو سال گزرا۔ ہم نے اسی سال کیا اچیومنٹ کیا ہے اور کون سی نقصان ہوا ہے۔ مثلاً ہمیں یہ سوچنا چاہیے ہر سال چودہ اگست کو کے اس سال پولٹیکل سٹیبیلٹی میں کتنا فرق آیا ہے اور اسی طرح ہر شعبہ کو دیکھنا چاہیے۔ آپ لوگوں اگر صرف 2023 کے رپورٹ چیک کریں تو ایک ہی سال میں ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ دہشتگردی کے واقعات میں چل بسے۔
اس کے علاوہ خارجہ پالیسی جو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے چین کے علاوہ ہمارے کسی بھی پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں، چین کے ساتھ آگر ہے۔ تو بھی ان کے مفادات کے خاطر ہے۔ وہ ادھر انویسٹمنٹ کرتے ہیں۔ جس میں ہمارے ملک کو ایک سو میں سے صرف 9 روپے ملتے ہیں ان پر غور کرنا چاہیے۔ یہ تو الگ بات ہے لیکن۔ اگر ہمارے ملک کے افغانستان، بھارت اور ایران سے آگر بہتر تعلقات ہو جائے تو بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہیں۔
اکانومی کے حوالے سے۔ ابھی تک ہمیں قرض ادا کرنے کے لئے قرض لینا پڑتا ہے، ابھی آپ کے پبلک اوپینین بھی تبدیل ہو چکی ہیں کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہو۔ اور جب تک ریاست پبلک اوپینین کو ترجیح نہیں دیتی۔ تو پھر یہ مسائل ضرور پیدا ہو گی۔ اس دفعہ میں چودہ اگست کو پورا دن رات سوشل میڈیا پر ایکٹو رہا تاکہ لوگوں کے امپریشن چیک کرو۔ پچھلے جشنِ آزادیوں کے نسبت یہ جشن تھوڑا الگ تھا۔ ایک تو بلوچ اور پشتون قبائل میں زیادہ تر لوگوں آزادی کے جشن کو چھوڑ دیا ہیں۔
کیونکہ وہ لوگ مایوسی کا شکار ہیں ان کو اپنی بنیادی حقوق جان کے تحفظ اصل نہیں۔ اور زیادہ تر لوگ یہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی گھر میں فوتگی ہو جائے تو کیا وہ فوتگی کے تیسرے دن خوشی اور جشن منایا گا۔ کرپشن کو اگر دیکھا جائے تو وہ بھی اونچائی کے حدوں کو کراس کر چکی ہیں۔ لوگوں سے سنتے ہیں کہ نوکری کے لئے سکل کے مطابق پیسے دینا پڑتا ہے۔ تو پھر نوجوان مایوس، سب سے زیادہ لوگوں پاکستان سے باہر جا رہا اور اس میں زیادہ تر سکیل فل لوگ شامل ہیں۔
گلوبل ریزڈنس انڈکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ 103 نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ مہنگائی کے شرح کو اگر دیکھا جائے تو ابھی کل چود اگست کو ہی بلوم برگ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایشیا کے تمام ممالک میں سے زیادہ مہنگائی ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق بجلی کے بِل گھروں کے کرائے سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ لہذا یہ ہمارے ملک کے اعلیٰ حکام اور تمام اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ کے کس طرح ہم اس دلدل سے نکلے گے۔ اور میرا عام لوگوں اور سٹوڈنٹس کو بھی یہی پیغام ہیں کہ باجہ بجانے اور ڈانس موسیقی اور جھنڈوں کے بجائے اس دن مختلف ایونٹس منعقد کریں اور اس میں مختلف شعبوں کے ایکسپرٹ لوگوں کو بلائے۔
سوچے کے ہم اس ملک کے ترقی، امن اور خوشحالی میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق 21 اور 22 توپوں کے سلامی کے بجائے حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ کس طرح اپنے عوام کو ریلیف دے۔ اس دفعہ اگر کسی نے چودہ اگست کے جشنِ کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ پوسٹ دیا ہے تو ساتھ یہ بھی لکھا ہے۔ کے اداروں سے اور سسٹمز سے گیلے شکوے ہیں لیکن پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں پاکستان سے محبت ہے۔ ابھی راولپنڈی اور اسلام آباد سیٹ اپ کو چاہیے کہ ابھی سے سوچے اور ایسا سوچے کے اگلی دفعہ لوگ سسٹم اور اداروں کے شکوے کے بغیر جشن منائے۔ ورنہ جو لوگ آج پاکستان زندہ باد کہتے ہیں کل کو یہ بھی نہیں ہوگی۔


