لالہ بختیار کا چلہ


لالہ بختیار سے رابطہ کرنا بہت آسان ثابت ہوا کیونکہ ان کا ایک ہی ٹھکانہ تھا۔ قاضی بک پبلشرز شکاگو کو فون کیا اور وہ وہاں موجود تھیں۔ ان کی گفتگو میں بہت اپنائیت تھی۔ مجھے اچانک اس خاتون کی ذات سے بہت دلچسپی پیدا ہو گئی اور میں ان سے ملاقات کے لئے بے چین ہو گئی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ شام پانچ بجے تک قاضی بک پبلیشرز کے بک سٹور میں مل سکتی ہیں۔ اتفاق سے مجھے چند ہفتوں کے بعد شکاگو ایک کانفرس اٹینڈ کرنے جانا تھا۔ میں نے ائرپورٹ سے نکلتے ہی ٹیکسی میں بیٹھتے ہی انھیں فون کیا انھوں نے اسی خندہ پیشانی سے جواب دیا لیکن مجھے بتایا کہ پانچ بجنے والے ہیں اور وہ ”seclusion“ کی حالت میں ہیں جس کے تحت وہ پانچ بجے کے بعد کسی سے نہیں ملتیں۔ مجھے ان کے ملاقات سے انکار پر کوئی تاسف نہیں ہوا بلکہ اپنے اصول کی پاسداری کے اس طرز عمل سے میرے دل میں ان کی قدر و منزلت اور بھی بڑھ گئی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ تجسس بھی ہوا کہ seclusion سے ان کی کیا مراد تھی؟ مجھے اس کی کھوج لگانا تھی۔ میری زندگی میں اب تک جن رول ماڈل خواتین کا گزر ہوا تھا ان میں لالہ بختیار کا نام بھی شامل ہو گیا اور انھوں نے مجھے بہت سے سبق سکھانے تھے۔

اگرچہ گوگل کے اس زمانے میں ہم مشہور شخصیات کے بارے میں ان سے ملے بغیر ان کے حالات زندگی کے بارے میں کچھ نہ کچھ جان سکتے ہیں لیکن زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ جب بھی ممکن ہو اپنی پسندیدہ شخصیات سے بالمشافہ ضرور ملاقات کرنی چاہیے۔ ایک تو یہ یاد سرمایہ حیات میں شامل ہو جاتی ہے دوسرے وہ آف دی ریکارڈ اپنے اور زندگی کے بارے میں وہ باتیں بتا جاتے ہیں جو کسی وجہ سے ان کی کتابوں میں لکھنے سے رہ جاتی ہیں۔ یہ میری خوش نصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ مجھے آنے والے دنوں میں دو دفعہ ان کے گوشہ تنہائی ( جو سینکڑوں کتابوں کے جھر مٹ میں تھا ) میں ان سے طویل ملاقاتوں اور گفت و شنید کا موقع ملا اور ان کی اپنی زندگی کا خلاصہ ان کی زبانی سنا۔ ان کی ماں امریکی اور باپ ایرانی تھا اور وہ امریکہ میں پیدا ہوئیں۔ 1970 کی دہائی میں وہ اپنے چار بچوں اور شوہر کے ہمراہ ایران میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کی شادی پندرہ برس کے ساتھ کے بعد ختم ہو گئی اور ان کے سر پر اچانک اپنے چار بچوں کی ذمہ داری آن پڑی۔ ان کے پاس جو ہنر تھا وہ یہ تھا کہ انہیں انگریزی اور فارسی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی خدمات فارسی کتابوں کے انگریزی تراجم کرنے کے لیے حاصل کی گئیں۔ ان میں ڈاکٹر علی شریعتی کی کئی کلاسیک کتابیں بھی شامل ہیں۔ امریکہ واپس آنے کے بعد ان کی ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزری اور اس دوران انھوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔

جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ گزشتہ سات سال سے بقول ان کے seclusion یا بالفاظ دیگر ”گوشہ نشینی“ کی حالت میں تھیں۔ جس کی تفصیلات یہ تھیں کہ وہ دن بھر سٹور کے انتظامی فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا کام کرتیں۔ قاضی بک پبلشرز اس وقت امریکہ کا صف اول کا اسلام اور صوفی ازم پر کتابیں شائع کرنے کا مرکز تھا جسے نائن الیون کے بعد کئی دفعہ انتہا پسندوں نے نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ وہ ان دنوں قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کر رہی تھیں۔ قرآن کا ترجمہ کرنے والی وہ دنیا کی پہلی یا دوسری خاتون ہیں۔ (ان کا یہ ترجمہ ”The Sublime Quran“ کے عنوان کے ساتھ شائع ہو چکا ہے)۔ شام پانچ بجے کے بعد وہ کسی سے نہیں ملتی تھیں۔ بک سٹور کی انتظامیہ نے انہیں عمارت کے اندر ہی رہائش کے لئے ایک جگہ دی ہوئی تھی۔ انہیں یہاں کام کرنے کا معاوضہ ملتا جو ان کی سادہ گزر بسر کے لئے کافی تھا۔ سال میں وہ صرف چار دفعہ اس عمارت سے باہر تشریف لاتیں۔ اس دوران وہ اپنے چاروں بچوں اور ان کے بچوں سے ملاقات کرنے جاتیں۔ لالہ بختیار کی شائع کردہ کتابوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اتنی کتابیں کیسے لکھیں؟ انھوں نے زندگی کی سب آزمائشوں اور مصروفیات کے باوجود پی ایچ ڈی کی ڈگری کیسے حاصل کی؟ ان کی زندگی بھر کی لگن کا اندازہ اپنی درمیانی اور آخری عمر میں قاضی بک پبلشرز اور بک سٹور میں بسر کیے گئے برسوں پر محیط ”چلے“ سے ہوتا ہے۔ یقیناً ان کی زندگی کا پہلے کا عرصہ بھی اسی جذبے سے بھر پور گزرا ہو گا۔ میں نے اس سے پہلے کسی خاتون کی ایسی ”گوشہ نشینی“ نہیں دیکھی تھی۔ وہ راہ تصوف کی مسافرہ تھیں جس کی ایک جھلک ان کی لکھی ہوئی کتاب Sufi Women of America میں نظر آتی ہے لیکن انھوں نے مجھے صوفی چلے کے ایک نئے رخ سے متعارف کروایا۔ یہ میرے لیے ایک حیرت انگیز مشاہدہ تھا۔ ان کی عمر اس وقت 69 برس تھی۔ انھیں دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ عمر کی ساٹھ کی دہائی عورت کے لیے قدرت کا وہ حسین تحفہ ہے جس میں اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ایک اور موقع دیا جاتا ہے جو کچھ خواتین کے لیے آخری موقع بھی ہو سکتا ہے۔ گھر واپس آ کر میں نے لالہ بختیار سے ای میل اور بعد میں فیس بک کے ذریعے رابطہ رکھا۔ 2008 کی کچھ ای میلز ابھی تک محفوظ ہیں۔ ایسی ہی ایک ای میل میں، میں نے ان کی گوشہ نشینی اور اس دوران کتابیں لکھنے کی زندگی پر رشک کیا کہ کاش کہ یہ موقع مجھے بھی ملے۔ ان کی جوابی ای میل کا لب لباب یہ تھا کہ میں اس وقت اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں دن رات جو محنت کر رہی تھی وہ جہاد اکبر ہے۔ اور اگر میرا جذبہ سچا ہوا تو زندگی مجھے لکھنے کا موقع ضرور دے گی۔

لالہ بختیار جیسی بہت سی شخصیات کا گزر ہماری زندگی کے ان برسوں میں ہوتا ہے جب ہم زندگی کے مختلف ادوار سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ہماری ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ بعد میں اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ کاش تیز رفتار زندگی سے کچھ اور گھڑیاں ان نابغہ روزگار ہستیوں کے ساتھ گزاری جاتیں۔ کیونکہ جب زندگی کی دوڑ میں کچھ کمی آتی ہے تو یہ ہستیاں اس جہان فانی سے کوچ کر چکی ہوتی ہیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مختصر رفاقت بھی ہم پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہے۔ اس گہرے تاثر کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو جانا اور انہیں اپنا مقصد حیات سمجھ کر دوسروں کی فلاح کے لئے استعمال کیا۔ ان کا اخلاص اور فراخ دلی ان کی یاد کو قائم و دائم رکھتا ہے۔

Facebook Comments HS