شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خاں کا 27 واں یوم وفات
کسے معلوم تھا کہ فیصل آباد میں واقع دربار لسوڑی شاہ میں اکثر نعتیہ کلام پڑھنے اور قوالی کرنے والا نوعمر بچہ بڑے ہو کر قوالی اور موسیقی کی دنیا کا بے تاج بادشاہ اور شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان بن جائے گا جن کی قوالی کے البم کی تعداد 125 سے زائد ہوگی اور ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہو گا۔
استاد نصرت فتح علی 13 اکتوبر 1948 ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام فتح علی اور چچا کا نام مبارک علی تھا جو مشرقی جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد میں آ بسے تھے۔ استاد کے والد اور چچا دونوں ہی فن قوالی سے وابستہ تھے اور استاد نے قوالی اور موسیقی کی ابتدائی تعلیم ان سے ہی حاصل کی تھی۔ استاد کے دادا کا تعلق افغانستان سے تھا۔
نصرت فتح علی خان نے اپنی پہلی کاوش ریڈیو پاکستان جشن بہاراں کے موقع پر پیش کی۔ ان کی سب سے پہلی کامیاب قوالی حق علی علی مولا علی علی تھی۔ جس نے ان کو پوری دنیا میں فن قوالی کے حوالے سے لازوال شہرت عطا کی۔ اس قوالی کے بعد نصرت نے پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور ہر قدم پر انہیں کامیابی اور شہرت ملتی گئی۔
فیصل آباد کے ایک جوہر شناس رحمت علی نے نصرت کے اندر چھپے ہوئے مستقل کے شہنشاہ قوالی کو دیکھ لیا تھا۔ رحمت علی کی اپنی گراموفون کمپنی تھی جس نے آگے چل کر نصرت فتح علی خان کے زیادہ تر البم کی ریکارڈنگ اور پیشکش کی۔
نصرت فتح علی خان نے امریکہ، برطانیہ بھارت اور جاپان سمیت دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں اپنے فن کا جادو جگایا اور قوالی کو ایک عالمگیر صنف موسیقی بنا دیا، جن کو قوالی کی کچھ سمجھ نہیں آتی تھی وہ بھی ان کی قوالی پر سر دھنتے تھے۔ استاد نصرت نے روایتی قوالی کو مغربی آلات موسیقی اور پوپ موسیقی کے انگ سے ایک نئی اور عالمی جہت عطا کی۔ وہ امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک کی جامعات میں موسیقی کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی شہنشاہ قوالی اور استاد کا درجہ حاصل کر چکے تھے۔ ان کا زیادہ تر تخلیقی کام پنجابی زبان میں ہے۔
فیصل آباد کے دو شعراء بری نظامی اور محمد صادق، استاد نصرت فتح علی خان کے لیے اپنا کلام لکھتے رہے ہیں۔ بری نظامی، جن کا اصل نام شیخ صغیر احمد تھا، خود گمنام رہے لیکن ان کا لازوال پنجابی کلام گا کر نصرت فتح علی خان نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا۔ استاد نصرت فتح علی خان کی حیات و خدمات کا تذکرہ بری نظامی کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہے گا۔ استاد نصرت فتح علی خان کی گائیکی کے سفر میں بری نظامی کی شاعری ہمیشہ ان کے ہم رکاب رہی۔
نصرت فتح علی کو فن موسیقی میں نمایاں کام کرنے کے اعتراف میں تمغہ برائے حسن کارکردگی، یونیسکو ایوارڈ، فوکوکا ایشیائی انعام، مونٹریال فلم ایوارڈ سمیت پوری دنیا میں انہیں موسیقی کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا۔ لاہور میں اپنے والد کی برسی کے موقع پر اپنے لازوال فن موسیقی کا مظاہرہ کرنے پر انہیں استاد کا درجہ حاصل ہوا۔ استاد نے مہدی حسن، ملکہ ترنم نور جہاں سمیت پاکستان کے تمام قابل ذکر گلوکاروں کے ہمراہ کام کیا۔ استاد نصرت نے بالی وڈ فلمی صنعت کی بہت سی فلموں میں بطور موسیقار اور گلوکار کام کیا۔ استاد نصرت فتح علی خان نے انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیر سگالی کے لیے بھی بہت سے موسیقی کے پروگرام کیئے۔
1988 ء میں استاد نصرت فتح علی کو اس وقت عالمی شہرت حاصل ہو گئی جب پیٹر گبریل نے اپنی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ میں نصرت فتح علی خان کی آواز کو مسیح علیہ السلام کو سولی دینے کے پس منظر میں بہت ہی اونچے سروں میں استعمال کیا۔ استاد نصرت فتح علی خان نے چار منٹ تک راگ درباری میں ایسا آلاپ کیا کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔
نصرت فتح علی خان ذیابیطس، گردوں اور زائد وزن کے عارضے میں مبتلا تھے۔ بیرون ملک ہی بیمار ہوئے۔ ان کو برطانیہ کے کرامو ویل ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا، جہاں وہ 16 اگست 1997 ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہیں فیصل آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ فیصل آباد آرٹس کونسل کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان کی بیوہ ناہید نصرت کینیڈا میں کچھ برس پہلے وفات پا گئیں۔ ان کی ایک بیٹی ندا نصرت بقید حیات ہیں۔
استاد نصرت فتح علی نے قوالی کے علاوہ، گیت، غزلیں، ملی نغمے اور صوفیانہ کلام بھی گایا ہے۔
استاد کے چند مشہور گیت غزلیں اور قوالیاں
کملی والے محمد تو صدقے میں جاں
حق علی علی مولا علی علی۔
دم مست قلندر مست مست
ہنجو اکھیاں دے ویہڑے وچ پوندے نیں دھمالاں
من اٹکیا بے پروا دے نال
میرے رشک قمر
وگڑ گئی اے تھوڑے دناں توں
دل مرجانے نوں کیہہ ہویا سجنا
غم ہے یا خوشی ہے تو ، میری زندگی ہے تو
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
میرا نام پاکستان۔

