سنگھاسن بتیسی – تفہیم، تسہیل، تحشیہ
معلم، نقاد، محقق، مرتب، مدون، مترجم اور ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اورئینٹل کالج سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون استاز ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے ادبی سفر کا آغاز اقبالیات سے ہوا۔ آپ نے اقبال کے فن کے ان گوشوں پر تحقیق و تنقید کی ہے جن پر بہت کم یا بالکل کام نہیں ہوا۔
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کے فکر و فن کی ایک اہم جہت فن ِتدوین ہے۔ ان کی اہم تدوینی کاوش میں سنگھاسن بتیسی کی تدوین، تفہیم، تسہیل، اور تحشیہ شامل ہے۔ یہ کتاب دارلنوادر لاہور سے 2019 ء میں شائع ہوئی۔ کتاب 240 صفحات پر مشتمل ہے۔ انتساب ڈاکٹر رابعہ شیریں کے نام ہے۔ کتاب کی فہرست میں پیش لفظ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا تحریر کردہ ہے۔ پیش لفظ کے بعد راجا بکرما جیت کے دورِ حکومت کی دانش آموز بتیس کہانیاں پتلیوں کی زبانی درج ہیں۔ ان کہانیوں کے اندراج کے بعد خاتمہ الطبع (سنگھاسن بتیسی) ، ضمیمہ بعنوان ”اردو کے دو حکمت آموز داستانوی قصے“ اور آخر میں کتابیات درج ہیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی بیتال پچیسی اور سنگھاسن بتیسی کی تسہیل و ترتیب کی خصوصیات کو سراہا ہے۔ اس حوالے سے لکھتے ہیں :
”۔ مقامِ مسرت ہے کہ تفہیم، تسہیل اور تدوین کا یہ کام اب ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کے ہاتھوں مکمل ہوا۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے متنی انحرافات سے حتی الامکان گریز کرتے ہوئے کہانیوں کی دیو مالائی اور مافوق الفطرت فضا کو بحال رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے نئے املائی ضابطوں کو بروئے کار لانے، اصطلاحات اور بنیادی تہذیبی لفظیات کو برقرار رکھنے میں خصوصی درک سے کام لیا ہے، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین قابلِ مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اردو کے داستانوی ادب کے سوتوں کو خشک ہونے سے بچایا ہے اور یہ کام انھوں نے تسہیل کے جدید اصولوں کے مطابق کیا ہے۔“
پیش لفظ میں ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے کلاسیکی متون بالخصوص داستانوی ادب کی اہمیت، جدید دور میں انھیں ڈھالنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فورٹ ولیم کی اس حوالے سے خدمات کو سراہا ہے۔ بقول ڈاکٹر بصیرہ عنبرین:
”حقیقت یہ ہے کہ اردو کا قدیم داستانی سرمایہ فورٹ ولیم کالج، کلکتہ کے تحت اس دور کی مروج زبان میں ڈھل کر تازہ تر ہوا اور یوں اس میں پیش کردہ تمام تر خیالی، عقل و ذہنی اور ماورائی دنیاؤں میں پوشیدہ حکمت و دانش کی رمزیں نئے تناظر میں سامنے آ گئیں۔“ سنگھاسن بتیسی ”کا شمار بھی قصہ کہانیوں کی اسی خیالی اور مثالی دنیا سے ہے جو فورٹ ولیم کالج کے تحت اس وقت کی قابلِ فہم زبان میں ڈھل کر نئی معنویت سے ہم کنار ہوئی۔“
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے پیش لفظ میں سنگھاسن بتیسی کا تعارف، موضوع، کہانی، کہانی کے پیچھے چھپے اسرار و رموز، قصے کی منظر نگاری، تاریخ میں اس کی اہمیت و اشاعتوں کا ذکر جامع انداز میں کیا ہے۔ ان کی پیش کردہ معلومات کے مطابق سنگھاسن بتیسی راجا بکرماجیت کے ماضی سے متعلق بتیس پتلیوں کی زبانی بتیس کہانیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں بکرما جیت کے دورِ حکومت کی دانش آموز کہانیاں ہیں، اس میں طلسم آفریں فضا بھی ہے، خیر و شرکا تصادم بھی، ہمت و دانائی و سخاوت و عدالت کی کہانی بھی، تخیل و رومان کی آمیزش بھی، مذہبی و قومی و تہذیبی و ثقافتی رنگ و فضا کی عکاس بھی۔
کہیں جنگ و امن کی داستان بھی، کہیں محبت و عشق کے جذبے کی عکاس بھی الغرض یہ کہانیاں وسیع جذبات و کیفیات اور واقعات کی عکاس ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہانیوں میں پیش کردہ پتلیوں کے نام بھی گِنوائے ہیں۔ اور بتایا ہے کہ یہ پتلیاں بظاہر خوب صورت تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ باطنی طور پر بھی ایسے کمالات رکھتی ہیں۔ جن سے اپنے راجا بکرماجیت کے مرتبے کی اصل پہچان کرسکیں۔ راجا بھوج کے سامنے اپنے راجا بکرما جیت کی فہم و فراست کا ذکر اس انداز سے کرتی ہیں کہ راجا بھوج کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ کسی طور راجا بکرماجیت کے تخت پر بیٹھنے کے قابل نہیں۔
اس طرح یہ پتلیاں ناصرف راجا بھوج کو اس کی قابلیت کا احساس دلاتی ہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کے طور طریقے اور گُروں پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ کتاب سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ”سچ ہے جو جس کام کے جوگ نہ ہوتو لازم ہے کہ وہ کام نہ کرے۔“ ان الفاظ میں ہمارے موجودہ زمانے پر بھی طنز موجود ہے جہاں اہل کی جگہ نا اہل نے لے رکھی ہے۔
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے ”سنگھاسن بتیسی“ کی آغاز سے اب تک کی اشاعتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق فورٹ ولیم کالج میں اس کتاب کو جو پہلے سنسکرت زبان میں تھی ریختہ میں منتقل کیا گیا، کاظم علی جواں نے اولاً 1801 ء بعد ازاں 1805 ء میں پہلے دیو ناگری اور پھر اردو رسم الخط میں ”سنگھاسن بتیسی“ کے نام سے شائع کروایا۔ اس کے بعد یہ کتاب ہندوستان کے مختلف اشاعتی اداروں سے شائع ہوئی اور دوسری زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوئے۔
اس کتاب کی سب سے اہم اشاعت بقول ڈاکٹر بصیرہ عنبرین مطبع نولکشور، لکھنو ہے یہاں سے بھی اس کتاب کے بہت سے ایڈیشن سامنے آئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تاریخ ِ ادب ِ اردو میں اسی اشاعت کے متن یعنی تیرہویں اشاعت 1953 کو اپنایا ہے۔ 2014 ء میں انتظار حسین نے بھی اسی ایڈیشن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں سنگِ میل پبلی کیشنز سے اسے شائع کروایا۔ اس کتاب کی منظوم صورتیں بھی سامنے آئیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس کتاب کے انگریزی تراجم کا بھی ذکر کیا ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کتاب کی تسہیل کی بھی کوشش کی گئی اس حوالے سے ممتاز نقاد مجنوں گورکھپوری نے سنگھاسن بتیسی کے سادہ ترجمے کی کوشش کی، کیسری داس سیٹھ نے مطبع نول کشور سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ مجنوں گورکھ پوری نے اپنے بیٹے ظفر کے لیے ان کہانیوں کو از سرِ نو آسان زبان میں لکھنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اشاعت منظرِ عام پر آئی تو اس کتاب کی اصل شکل بگڑ گئی۔ اس میں مجنوں گورکھ پوری نے رنگ آمیزی کی ہے۔ انھوں نے جو جو تبدیلیاں کی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تفصیلاً اس کا ذکر کیا ہے۔
سنگھاسن بتیسی کے متن کی ایک اور مرتبہ صورت انتظار حسین کی مرتبہ سنگھاسن بتیسی ہے۔ جو 2014 ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کا مقدمہ پُر مغز ہے۔ اس میں اس کتاب کے متن کی اہمیت اور پاکستان میں اس کی عدم دستیابی کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے دیباچے سے چند دلچسپ اقتباسات درج کیے ہیں۔ اس ایڈیشن کا تفصیلی ذکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ تحقیق و ترتیب اور پیش کش کے نقطہ نظر سے یہ متن بھی ناقص ہے۔
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے بیتال پچیسی کی تسہیل و تفہیم کا ذکر کرتے ہوئے سنگھاسن بتیسی کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہوئے اس کی تسہیل و تفہیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے سنگھاسن بتیسی کی نولکشور کی اشاعت یعنی اشاعت چہار دہم کو بنیادی متن کے طور پر اختیار کیا ہے۔ اور اسے قابلِ قرات صورتوں میں لانے کی کوشش کی۔ بقول ڈاکٹر بصیرہ عنبرین:
”زیرِ نظر صورت بھی اس تصنیف کو آسان اور عام فہم بنانے کی ایک کاوش ہے۔ یہاں ترتیب ِ متن کے ضمن مین بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ اصل متن مجروح نہ ہو، متن میں حتی الامکان اضافات نہ ہوں اور کہانیوں کی حقیقی و اصلی فضائیں برقرار رہیں۔“
ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے زیرِ نظر کتاب کی تسہیل کے سلسلے میں میں منشی نولکشور کے شائع کردہ متن میں جو دشواریاں محسوس کی ہیں انھیں اس اشاعت میں دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں انھیں نکات کی صورت میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے :
1۔ متن کو سہل انداز میں ترتیب دیتے ہوئے اسے جدید انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ نے جملوں کی ترتیب درست کی ہے۔
2۔ لفظوں کو ملا کر لکھنے کی روش ترک کی ہے۔
3۔ حروفِ ربط اور حروفِ اضافہ کے مسائل حل کیے ہیں۔
4۔ قدیم املا کی بجائے جدید املا اختیار کیا ہے۔
5۔ متروک الفاظ کو جدید زبان کے الفاظ میں تبدیل کر دیا ہے۔
6۔ نئے املا کے ضابطوں کے مطابق لفظوں کے آخر میں ہائے مخلوط کی شمولیت ترک کردی گئی ہے۔
7۔ بامعنی اور سابقہ و لاحقہ کے حامل لفظوں کو ملا کر نہیں لکھا گیا۔ یہ اہتمام ہندی الفاظ کی ذیل میں کیا گیا ہے۔
8۔ ہندی کے اسمائے معرفہ یا خاص ہندی لفظیات جو کہانی کا لازمی جز ہیں بدستور قائم رکھے ہیں۔
9۔ تمام مشکل الفاظ و اصطلاحات کی توضیحات حواشی میں کردی گئی ہیں۔ کتھاؤں میں پیش کیے گئے تعظیمی اور مذہبی القابات و آداب ہندو قاعدے کے مطابق ہیں۔ مثلاً آغازِ داستان میں متن درج ہے۔
”اجین نگری ( 1 ) ۔ راجا راج، پَرجا سُکھی ( 3 )“
اس کی حواشی میں یوں توضیح کی گئی ہے :
” ( 1 ) ہندوستان کا شہر مالوہ۔
( 3 ) دستور ہے کہ جہاں کا حاکم اچھا، وہاں کی رعایا خوش باش۔ ”
10۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے بیتال پچیسی کی تسہیل کے ضمن میں جو اصول اپنائے ہیں سنگھاسن بتیسی کی ترتیب میں وہی مدِ نظر رکھے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں قصے ایک ہی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان پہلؤں پر ڈاکٹر صاحبہ نے بیتال پچیسی سے اقتباسات درج کیے ہیں۔ جن کا ذکر بیتال پچیسی کے جائزے میں کیا جا چکا ہے۔
11۔ سنگھاسن بتیسی کی تسہیل امرِ دشوار تھا، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے محنت کا دامن تھامتے ہوئے اس کارِ دشوار کے حل کے لیے ناصرف سنگھاسن بتیسی کی اردو بلکہ ہندی اشاعتیں بھی مدِ نظر رکھی ہیِں۔ علاوہ ازیں دیگر کتب، لغات، فرہنگوں، کتبِ اصطلاحات اور موضوع سے متعلقہ تمام مواد سے مدد لی ہے۔
پیش لفظ کے بعد بتیس کہانیوں کا متن سہل انداز سے درج کرنے کے بعد ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے ضمیمے کے طور پر اپنا تحقیقی و تنقیدی مقالہ ”اردو کے دو حکمت آموز قصے“ جو پہلے بیتال پچیسی میں بھی درج کیا ہے متن کی تفہیم کی غرض سے سنگھاسن بتیسی میں بھی درج کر دیا ہے۔ جس میں راجا بکرماجیت سے متعلق دو اہم داستانوی قصوں بیتال پچیسی اور سنگھاسن بتیسی کے موضوعات، اہمیت و انفرادیت اور اسلوب اور اہم پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سنگھاسن بتیسی کی ترتیب، تسہیل، تحشیہ، تفہیم امرِدشوار تھا۔ اس کا متن موجودہ زبان سے تفہیم میں دشوار تھا۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اس قدیم ادب کو موجودہ دور کے تفہمِ متن کے تقاضوں کو ناگزیر جانتے ہوئے موجودہ زبان میں ڈھال کر اس قدیم ادب کو جدید زبان کے مطابق قابلِ تفہیم بنا دیا ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے سنگھاسن بتیسی کے تمام مطبوعہ نسخوں کو دیکھتے ہوئے سب سے قابلِ اعتبار متن یعنی نولکشور کے نسخے کو بنیاد بنایا ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ کا تحریر کردہ پیش لفظ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے۔ اس میں داستانوی ادب کی اہمیت، جدید دور میں اس کی ضرورت، سنگھاسن بتیسی کی اہمیت، کہانی، مناظر، ادب میں اس کا مقام اس کی اشاعتوں اور ان اشاعتوں کے محاسن و معائب اور ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا اس کی ترتیب میں اختیار کردہ طریقہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس تفہیم و تسہیل سے مصنفہ کا مقصود یہ نہیں کی کتاب میں بگاڑ پیدا کیا جائے بلکہ مطالعے و قراءت میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ مفید توضیحی حواشی کا التزام کتاب کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحبہ نے اہم نکات کی وضاحت بھی کی ہے۔



