بیچارے عوام اور اختیارات کی جنگ لڑتی اشرافیہ
حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کے خلاف جب حق کا علم بلند کیا تو فرمایا کہ ”میری جنگ صرف ایک یزید سے نہیں ہے بلکہ ہر اس شخص سے ہے جس کے کردار میں یزید موجود ہے“
پاکستان بھی آج ان ہی حالات سے گزر رہا ہے جہاں ہر دوسرے شخص میں ایک یزید چھپا بیٹھا ہے۔ ملک میں دو طبقے ہیں ایک عوام اور دوسری اشرافیہ، اشرافیہ اور عوام دونوں ایک دوسرے کی مخالف سمت کھڑے نظر آتے ہیں۔ عوام بیچارے بجلی، گیس، روز مرہ کی اشیاء اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ حکمرانوں سے توقع باندھے ہوئے ہیں کہ وہ ان کی زندگیوں کی مشکلات اور مصائب کو ختم کرنے کے اقدامات کریں گے دوسری طرف اشرافیہ ہے جس کا جُزِ لازم، حکمران طبقہ ہے اور ملک پہ کُلی اختیارات کے حامل ادارے ہیں جو نا صرف باہمی چپقلش کا شکار ہیں بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی زور آزمائی میں مصروف ہیں۔
انتظامیہ عدلیہ کے اختیارات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے تو عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات کو ماننے سے۔ ایک طرف عدلیہ ہے جو مقننہ کے اختیارات استعمال کر رہی ہے تو دوسری طرف مقننہ ہے جو عدلیہ کی مداخلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے سامان حرب تیار کر کے عدلیہ پہ چڑھ دوڑنے کو تُلی بیٹھی ہے۔
ایسے میں ایک گروہ ایسا ہے جو ملک کے اقتدارِ اعلیٰ پہ فائز رہا اور اب اقتدار سے بے دخلی کے بعد ایسا بپھرا ہے کہ ملک دشمن عالمی طاقتوں، بیرونی اور اندرونی خوارج کو استعمال کر کے نا صرف ملک کی سلامتی استحکام کو داؤ پہ لگائے ہوئے ہے بلکہ ملک کی سیاست اخلاقیات اور معیشت کی تباہی کے تانے بانے بننے میں لگا ہوا ہے۔
یہ گروہ جسے عمران خان صاحب تحریک انصاف کا نام دیتے ہیں وہ اس وقت عملاً وہ کام کر رہا ہے جو پاکستان کے عظیم دشمن بھارت اور اسرائیل اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود نہ کر سکے، یعنی قوم کے نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے دلوں میں اپنی قابلِ فخر افواج کے خلاف نفرت کا زہر بھرنے کا ۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے اہم رہنما اب وطن فروشی کی حد تک جا کر ملک کی سالمیت کو کمپرومائز کر چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن جو کہ گرفتار ہیں کے فون ریکارڈز، واٹس ایپ ریکارڈز اور ان کی خفیہ ملاقاتوں کے ریکارڈز تمام تر ناقابلِ تردید شواہد کے ساتھ اب ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف اب تحریک انتشار کا روپ دھارن کر چکی ہے۔ عمران خان جیل سے باہر آنے اور اقتدار میں واپسی کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جو وطنِ عزیز کی دنیا بھر میں رسوائیوں کا سبب بن رہا ہے۔
یہاں سب سے اہم معاملہ جو اس وقت وطنِ عزیز اور اس کے باسیوں کو لاحق ہے وہ ہے زندہ رہنے کے لیے وہ سہولیات جو آئینِ پاکستان نے ہر شہری کو عطا کی ہوئی ہیں۔ یعنی روٹی، کپڑا، مکان۔ پاکستان کا ہر شہری اپنی حکومت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ حکومت ان کی زندگیوں کو سہل بنانے کے لیے دستیاب ہر وسیلہ استعمال کرے گی۔ اس وقت وطنِ عزیز بدترین مہنگائی اور معاشی بحران سے دوچار ہے، جس نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان کا صرف دو فیصد طبقہ جو اشرافیہ پہ مشتمل ہے اس بحران کی پکڑ سے محفوظ ہے جبکہ باقی پاکستانی مسلسل زندہ رہنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
ہمارا میڈیا، ہماری پارلیمنٹ، عدلیہ اور مقتدر ادارے صرف اس بات پہ فوکس کیے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے۔ پارلیمان میں موجود عوامی نمائندے عوامی مسائل اور ان کے حل کی تجاویز پیش کرنے اور حکومت کو ان تجاویز پہ عملی اقدامات کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے، گالم گلوچ کرنے اور ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں پامال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کچھ روز قبل ہی اپنے خطاب میں بڑے ہی رنجیدہ لہجے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔
عدلیہ بھی اپنے اختیارات کے زعم میں ایسے فیصلے صادر کر رہی ہے جو آئین سے انحراف کے زمرے میں آتے ہیں اور جو ان کے اپنے حلف سے روگردانی کے مترادف ہے۔ اس وقت پاکستان کو درپیش بڑے بڑے معاشی، مہنگائی اور اخلاقیات کی تباہی جیسے چیلنجز کسی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
اس وقت مسلم لیگ نون کی حکومت کو اقتدار پہ اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سب سے زیادہ عوامی تائید و حمایت کی ضرورت ہے جو صرف اس صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب حکومت عوام کو زندہ درگور کرنے جیسے اقدامات کے بجائے انہیں ریلیف دینے کے لیے بجلی، گیس اور دیگر اہم ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کرے۔
ابھی چند روز پہلے ہی مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف صاحب نے بجلی کی قیمتوں میں 201 یونٹ سے 500 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صرف پنجاب کے صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان کیا۔ اپنی بیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو شاباش دیتے ہوئے میاں صاحب نے ایک بار پھر اپنے پنجابی لیڈر ہونے کے تاثر کو تقویت دی۔ حالانکہ میاں صاحب چاہتے تو اپنے بھائی وزیر اعظم پاکستان سے پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کے لیے ایک مکمل اور دیرپا ریلیف پیکج کے لیے مشاورت کرتے، چاروں صوبوں کو اعتماد میں لے کر پچیس کروڑ عوام کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے، ایک عوامی رہنما ہونے کا ثبوت دیتے، مگر اس بار بھی انہوں نے اپنے آپ کو ”پنجاب کا رہنما“ ہی ثابت کیا اور عوامی رہنما بننے کا موقع گنوا دیا۔
پاکستان کے عوام یہ جانتے ہیں کہ حکومت کو معیشت کی زبوں حالی کا چیلنج درپیش ہے۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اس وقت اولین ترجیح ہے، مگر ان سخت اور مشکل ترین چیلنجز سے اسی صورت نمٹنا ممکن ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا۔ امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی۔ اشرافیہ اپنی عیاشیوں کو کم نہیں کرتی۔
اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان خارجی دہشتگردی کا شکار ہے تو دوسری طرف عمران خان اور ان کی جماعت بھی ارض وطن کے لیے خوارج بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں معاشی اور سیاسی اہداف حاصل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ سب اہداف بھی اسی صورت میں ممکن ہیں جب پاکستانی حکومت اور ریاستی اداروں کو عوامی حمایت اور مکمل تعاون حاصل ہو۔
پاکستان کے بیچارے عوام اس وقت مصائب کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کی مشکلات کا احساس ملک کے لیے فتنہ بنے مگر مقبول رہنما عمران خان کو بالکل نہیں ہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت نے اس وقت عدلیہ کے کچھ حصے کی سہولت کاری سے حکومت کو عوامی مسائل پہ توجہ مرکوز کرنے اور ان کے حل کے اقدامات اٹھانے کے بجائے فتنوں کی سرکوبی کے معاملات میں الجھا رکھا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ عمران خان کو عوام کے مسائل و مشکلات اور ان کے حل سے کو ئی سروکار نہیں ہے تو دوسری جانب اشرافیہ بھی اختیارات کی لڑائی میں بیچارے عوام کو فراموش کیے بیٹھی ہے۔


