نیکرو فیلیا (لاشوں سے جنسی عمل) کے بڑھتے ہوئے جرائم: دوسرا حصہ
لیکن پاکستان سے تعلق رکھنے والے مجرمان کو سائیکو پیتھ کے بجائے مجرم کہنا غلط نہ ہو گا۔ پاکستان سے رپورٹ ہونے والے تمام واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مجرم اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے یہ جرائم کرتے ہیں اور مردہ جسم کی شکل میں ایک آسان ہدف کا شکار کرتے ہیں جو اس جرم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائے گا کیونکہ مردہ بول نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جنسی گھٹن، معاشی نا آسودگی، نشہ آور اشیا کا استعمال اور قبرستان میں ان کا ڈیرہ، خود کو مردار تصور کرنا، جیسی وجوہات ہیں جو یورپ اور امریکہ کے نیکرو فیلیک کیسز سے الگ ہیں ہاں مکمل پاور اور کنٹرول کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان میں ان جرائم نے عام اور معمول کی شکل اختیار کر لی ہے، کیونکہ پاکستان میں زندہ عورتوں، بچیوں اور لڑکوں میں ریپ کی شرح بلند ہو چکی ہے ان ریپ کی رپورٹ جب ہی زیادہ ہوتی ہے جب بچے، بچیاں اور عورتیں اس زیادتی کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ورنہ بصورت دیگر ہر بچہ، بچی اور عورت زیادتی کا شکار رہے ہیں جان بخشی کی صورت ان کے چپ رہنے میں تھی۔ ایسی جگہ پر لاش کو ایک ناکارہ جسم سمجھ کر استعمال کرنا اور زبان بندی نہ ہونے کی صورت میں مارنا بھی نہیں پڑتا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رپورٹ ہونے والے کیسز کے علاوہ کئی دفعہ کامیابی سے زیادتی کے بعد دوبارہ دفن کر دیا جاتا ہو۔ قبرستان ایسی جگہ نہیں کہ ان کے پیارے پچھلے پہر اٹھ کر ان کے پاس آئیں۔
مجرم اور سائیکو پیتھ کے درمیان ان کے نیکرو فیلیاک رویوں سے تقسیم کرنا مشکل ضرور مگر ناممکن نہیں ہے۔ کسی شخص کے لیے مردہ شخص یا بوسیدہ لاشوں کے ساتھ ہمبستری کرنا معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن تازہ لاش کے لیے قبرستان کھودنے والا صاف ظاہر کرتا ہے کہ انھیں اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے صرف خواتین کے تازہ جسم کی ضرورت ہے اور یہ پاکستان میں مختلف رپورٹس کی بنیاد پر دیکھا گیا ہے۔
اگرچہ بہت سے ممالک میں نیکرو فیلیا کو الگ جرم سمجھا جاتا ہے جیسا کہ امریکی ریاست جارجیا میں، جس نے نیکرو فیلیا کو کوڈ 16۔ 6۔ 7 ( 2020 ) کے تحت الگ جرم سمجھا۔ پاکستان میں اس کے لیے کوئی خاص تعزیری دفعات نہیں ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 297 اور سیکشن 377 نیکرو فیلیا کے مقدمات پر لاگو ہوتا ہے لیکن ایسے جرائم کی سزا کم سے کم ہے، جو قانون اور عدالتی نظام دونوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ اسی طرح نتھاری کیس جیسے رپورٹ ہونے والے کیسوں کے باوجود، بھارت میں بھی نیکرو فیلیا کے لیے مخصوص دفعات کا فقدان ہے۔ تعزیرات ہند کے تحت، میت سے متعلق صرف ایک شق ہے جو کہ سیکشن 297 ہے جو میت، فرد کی مناسب تدفین کے حقوق سے متعلق ہے۔
افسوس! خاندان کے افراد اپنے پیاروں سے جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں۔ یہ واقعی افسوسناک اور مایوس کن ہے کہ موت کے بعد بھی خواتین اور لڑکیوں کو ان مجرموں سے محفوظ نہیں رکھا جا سکتا جو انہیں محض اشیاء کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خواتین پہلے گھروں کی قید میں رہتی تھیں اور اب حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ وہ اپنی ہی قبروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہیں، یا شاید مستقبل میں انہیں ان کے سرپرستوں کی طرف سے ان کی دیواروں کے اندر ہی محفوظ رہنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ گھر، ان کے انتقال کے بعد بھی۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مخصوص قانون کی ضرورت ہے۔



بہترین تحریر۔ بہت بہت شکریہ