ایک حقیقی شاعر: رفیق سندیلوی
رفیق سندیلوی احساس، ادراک اور وجدان کے حقیقی شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے داخلی اور خارجی محرکات کو شاعری میں بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری دیگر ہم عصر شعرا کی شاعری سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ منفرد داستانوی اسلوب ان کی خاص پہچان ہے۔ انھوں نے اساطیری کرداروں اور اساطیری واقعات کو بڑی چابکدستی سے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ وہ قدیم موضوعات کو نئے انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان موضوعات کی تفہیم جدید علوم کے تناظر میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اسلوبیاتی جدتیں ملتی ہیں جو ان کے اجتہادی نقطۂ نظر کا ثبوت ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے بقول انھوں نے عربی اور فارسی الفاظ سے استفادہ کیا ہے۔ جس وجہ سے ان کے ہاں اسلوب و آہنگی کا وہ روپ وجود میں آیا ہے جو ان کے فلسفیانہ افکار اور وجدانی تجربات کو سمیٹ لیتا ہے۔
رفیق سندیلوی اسلوب اور تکنیک کے باہمی رچاؤ سے شاعری میں اثر آفرینی پیدا کرنے کے ساتھ اس میں تحیر کی فضا بھی تخلیق کرتے ہیں جو قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ ان کی شاعری میں وجدانی کیفیت ملتی ہے جو قاری کو مستی سے سرشار کرتی ہے اور وہ تخیلاتی دنیا میں کھو جاتا ہے۔ ان کی شاعری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ معلوم سے نامعلوم کی طرف بڑھتی ہے اور بہت سے کائناتی اسرار و رموز کو آشکار کرتی ہے۔
دراصل رفیق سندیلوی تخیل کے اڑن کھٹو لے پر بیٹھ کر داستانوی شہزادے کی طرح کوہ قاف کی پریوں کو تلاش کرتے ہیں جو ان کی اپنی ذات کے حُسن کا پرتو ہیں جس وجہ سے ان کی شاعری میں تجریدیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ جمالیات کو کسی مخصوص پیکر تک محدود رکھنے کے بجائے اس کو متنوع صورت میں پیش کرتے ہیں۔ وہ بیک وقت کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت دکھانے پر قادر ہیں۔ وہ شاعری میں طلسماتی کیفیات کی تجسیم کرتے ہیں جو ان کی شاعری میں اسراریت پیدا کرتی ہے۔ ان کا تخلیقی زاویہ افقی نہیں بلکہ عمودی ہے جو ان کو اپنی ذات کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے اسی وجہ سے ان کی شاعری ہر سطح پر ان کی اپنی ذات سے جڑی رہتی ہے۔ وہ شاعری کے وجود سے اپنی ذات کو منہا کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک شاعری انکشافِ ذات کا وسیلہ ہے۔ وہ اپنی ذات کے اظہار کے لیے اساطیری علامتوں کو اس انداز سے برتتے ہیں کہ ان کی شاعری میں معنی کی کئی سطحیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جنھیں دریافت کرنا نا ممکن نہ سہی لیکن مشکل ضرور ہے۔
رفیق سندیلوی کی شاعری کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ان کی ذات سے دائرہ در دائرہ آگے بڑھتی ہے اور ان کی ذات کو کا ئناتی وسعتوں سے ملا دیتی ہے۔ با الفاظ دیگر ان کی شاعری چھوٹے بڑے جتنے دائرے بھی بناتی ہے۔ ان سب دائرے کا مرکزی نقطہ ان کی اپنی ذات ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کائنات کے مرکز میں کھڑے ہیں اور مظاہر فطرت سے تخلیقی قوت کشید کر رہے ہیں۔ انھیں مظاہر فطرت کے مطالعہ سے جو احساس، ادراک اور وجدان نصیب ہوتا ہے۔ اسے وہ داستانی اور اساطیری کرداروں کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رفیق سندیلوی اپنا مطمح نظر واضح کرنے کے لیے اساطیر، لوک کہانیوں، لوک کتھاؤں اور جاتکوں سے مختلف علامتوں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں طلسماتی فضا پیدا ہو جاتی ہے لیکن ان کی شاعری کا اساطیری اور دیو مالائی ماحول عصریت سے خالی نہیں ہے۔ وہ عصری مسائل کو اساطیری اور جادوئی واقعات سے جوڑتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں اساطیری ما حول تشکیل دیتے ہوئے اس کی تمام جزئیات کو باہم مربوط کرتے ہیں اور شاعری کے معنی اور مفہوم میں کسی قسم کا خلا پیدا نہیں ہونے دیتے
نظم ”تری دیو مالا میں“ رفیق سندیلوی کی اہم اساطیری نظم ہے۔ اس نظم کی معنوی لحاظ سے ان گنت پرتیں اور ہر پرت میں ایک طلسماتی جہاں آباد ہے۔ مذکورہ نظم ما فوق الفطرت ماحول کی حامل ہونے کے باوجود غیر فطری نہیں لگتی کیونکہ شاعر نے داستانوی اسلوب اپنایا ہے اور اس کے تمام لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ملاحظہ کریں :
میں تری دیو مالا میں
تیری اساطیر میں
سوئیوں میں پروئے ہوئے
روئی کے ایک پتلے کے مانند
اندھے کنویں میں لٹکتا رہا
نور و ظلمت کے
معلول و علت کے
پھیلے ہوئے سلسلوں میں
ترے جاتکوں میں
جہاں میں بکھرے ہوئے
تن کے سایے کو ترتیب
آنکھوں کے کاسے کو بینائی
سینے کے نم دار پتھر کو کائی ملی
ایک چٹکی سی دانائی ملی
بھکشا میں
جنموں کی اک اک کتھا میں
ابد تک کی لمبی جدائی ملی
اس سکوت و صدا کی گرہ سے
مجھے کب رہائی ملی رات دن
قلعہ قاف سے سر پٹکتا رہا!
میں تری دیو مالا میں
تیری اساطیر میں
بے خور و خواب
بے تاب
اڑتی ہوئی گرد میں گم
پروں والے گھوڑے پر
تیغ طلسمی لیے
اک پری کے تعاقب میں
امرت کی اک بوند کی جستجو میں بھٹکتا رہا


