ڈاکٹر یوسف خشک


ڈاکٹر یوسف خشک 1968 میں صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کی تحصیل سیہون شریف میں پیدا ہوئے۔ میٹرک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بھان سید آباد، انٹرمیڈیٹ ماڈل کالج حیدر آباد، ایم اے اردو ادب ( 1989 ) سندھ یونیورسٹی جامشورو، اردو ادب میں پی ایچ ڈی 2002 ) ) شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور سے کیا۔ اسی طرح شعبہ اردو میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اسکالر ہونے کا منفرد اعزاز بھی انھیں حاصل ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے 2007 میں جرمنی کی یونیورسٹی ہائیڈل برگ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ اردو ادب کے مختلف موضوعات پر ان کے پچاس سے زائد تحقیقی مقالے، تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی علمی، فکری، تحقیقی اور ادبی موضوعات پر مبنی سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے 1992 میں بطور اردو لیکچرار شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پو ر سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ 2003 میں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہو گئے۔ 2009 میں پروفیسر ہو گئے۔ 2018 میں انھیں پرو وائس چانسلر شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور مقرر کیا گیا۔ اس عہدہ پر تعیناتی سے قبل وہ ڈین فیکلٹی آرٹس اینڈ لینگوجز کے عہدے پر فائز رہے۔ اس دور میں انھوں نے اردو ادب پر متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد کرایا۔ سندھی، اردو، انگریزی، چینی اور دیگر زبانوں کے فروغ کے لئے عمدہ اور مثالی کام کیا۔ ایچ ای سی سے پاکستان کی جانب سے انھیں 2002 اور 2010 میں بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ دیا گیا۔ سال 2020 کے آغاز سے حکومت نے انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا صدر نشین (چیئرمین) مقرر کیا، وہ 2023 تک اس عہدے پر متعین رہے۔ پھر سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اگست 2024 میں ڈاکٹر یوسف خشک شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور میں شیخ الجامعہ مقرر ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف خشک سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات سن 2017 ء میں ہوئی جب وہ جامعہ کراچی کی ”سر سید احمد خان دو سو سالہ یادگاری بین الاقوامی کانفرنس“ ”میں شرکت کے لیے ڈاکٹر صوفیہ خشک کے ساتھ تشریف لائے۔ اردو ادب کا یہ جوڑا انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک اور بیگم یوسف خشک سے کہیں بھی ملاقات ہوئی ہمیشہ ایک دھیمی سے مسکراہٹ ان کی شخصیت کا حصہ نظر آئی۔ زمانۂ طالب علمی میں ان سے واقفیت کا ایک سبب، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور، کے شعبہ اردو سے جاری ہونے والا تحقیقی جریدہ ”الماس“ بھی رہا۔ وہ کسی تقریب کے مہمان ہوں یا میزبان ان کا رویہ ہمیشہ اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ اور بڑوں کے ساتھ عقیدت کا ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایک کی بات انتہائی غور سے سنتے ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی کی عالمی اردو کانفرنس، ادبی تقریبات، علمی و ادبی گفتگو کے مختلف سیشنز میں، ان کی گفتگو اور مقالے سننے کا موقع ملا اور انھیں ہمیشہ ایک مسحور کن شخصیت پایا۔

نومبر 2022 میں ڈاکٹر یوسف خشک نے ”بچوں کا ادب: ماضی، حال، مستقبل“ کے عنوان سے اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت ایک بڑی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اس کانفرنس میں بحیثیت مندوب شرکت کا موقع ملا۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے بحیثیت چیئر مین اکادمی ادبیات پاکستان، مختلف شہروں، اور ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین اور کانفرنس کے شرکا کا انتہائی خوش دلی سے خیر مقدم کیا۔ ان کی ملنساری اور ان کی ٹیم کی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے تقریباً تمام مندوبین اور شرکا اس کانفرنس میں آخر تک پر جوش رہے۔ پہلی دفعہ بچوں کے ادب کو اس قدر اہمیت دی گئی۔ ڈاکٹر یوسف خشک کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے خیر پور جیسے دور افتادہ شہر میں معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کے باوجود، بے انتہا کامیاب، عالمی ادبی کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور شاہ عبدالطیف خیر پور یونیورسٹی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ وہ ہمیشہ ایک متحرک شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف خشک کی شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور میں بحیثیت وائس چانسلر، تعیناتی خوش آئند ہے۔ اس وقت سندھ کی جامعات کی جو صورت حال ہے اس میں ہمیں ڈاکٹر یوسف خشک جیسی متحرک، اور فعال شخصیت کی ہی قیادت کی ضرورت ہے تاکہ جامعات کی تعلیمی، اور مالی صورت حال میں استحکام پیدا ہو سکے۔ ہم ڈاکٹر یوسف خشک کو شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور کا وائس چانسلر مقرر ہونے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان پر اپنا فضل و کرم قائم رکھے۔ آمین

Facebook Comments HS