فیاض ہاشمی۔ فلمی نغمات کے مشہور شاعر


muhammad salim gujranwala

 

پاکستانی فلمی صنعت کے نامور فلمی نغمہ نگاروں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہوں نے لاتعداد مقبول اور مشہور فلمی نغمات تخلیق کیئے اور زیادہ تر فلمیں ان ہی نغمات کے باعث مقبول و مشہور ہوئیں۔ بچپن میں ریڈیو پاکستان سے پاکستانی فلموں کے نغمات نشر ہوتے تھے، نغمہ نشر کرنے سے پہلے نقیب ریڈیو فلم کا نام، شاعر، گلوکار اور موسیقار کا نام بتاتے تھے۔ آج تک ذہن میں وہ نام اور نغمات تازہ ہیں۔ ہر دو زبان اردو اور پنجابی کے کئی ایک نغمہ نگار ایسے ہیں جو شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔

تنویر نقوی، قتیل شفائی، سیف الدین سیف، شیون رضوی، تسلیم فاضلی، سلیم گیلانی، کلیم عثمانی، فیاض ہاشمی، حمایت علی شاعر، خواجہ پرویز، وارث لدھیانوی، احمد راہی اور حزیں قادری شامل ہیں، آخر الذکر چار شاعر پنجابی زبان کے نامور نغمہ نگاروں میں شامل ہیں۔

ماہ اگست کے حوالے سے آج پاکستانی فلمی صنعت کے نامور اردو نغمہ نگار فیاض ہاشمی کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔

اردو کے نامور پاکستانی شاعر، نغمہ نگار اور لازوال گیتوں کے خالق فیاض ہاشمی 18 اگست 1920 ءکو کولکتہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کولکتہ گرائمر اسکول سے حاصل کی، ہومیو پیتھک طب بھی سیکھی لیکن اس کو ذریعہ معاش نہ بنایا۔ ان کے والد سید محمد حسین ہاشمی دلگیر تھیٹر کے معروف ہدایتکار اور شاعر تھے اور اپنے زمانے کے مشہور تھیٹر گروپ مدن تھیٹر لمیٹڈ سے وابستہ تھے، فیاض ہاشمی نے صرف 15 برس کی عمر میں ہز ماسٹر وائس گرامو فون کمپنی سے وابستہ ہو کر ان کے لئے نغمہ نگاری شروع کردی تھی۔

فیاض ہاشمی نے اردو اور ہندی زبان کی آمیزش سے کئی خوب صورت گیت اور نغمات تخلیق کئیے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ اس کمپنی کے ڈائریکٹر بن گئے۔ 1956 میں انہوں نے فلمی دنیا سے مستقل وابستگی اختیار کر لی۔ پاکستان میں بطور نغمہ نگار ان کی پہلی فلم دوپٹہ اور انوکھی اور آخری فلم دیوانے تیرے پیار کے تھی۔ انہوں نے جن مشہور فلموں کے نغمات تحریر کیے ان میں بیداری، سویرا، اولاد، سہیلی، رات کے راہی، پیغام، داستان، شبنم، ہزار داستان، دال میں کالا، دیور بھابھی، دل کے ٹکڑے، پیسے، چودھویں صدی، ظالم، گہرا داغ، صنم، توبہ، لاکھوں میں ایک، کون کسی کا ، تقدیر، عالیہ، پھر صبح ہوگی، رشتہ ہے پیار کا ، بہن بھائی، شریک حیات، عید مبارک، زمانہ کیا کہے گا، آشیانہ، بزدل، پازیب، نہلا پہ دہلا، لو ان جنگل، انجمن، رنگیلا، آوارہ، جاسوس، خدا اور محبت اور نشیمن کے نام سرفہرست ہیں۔

انہوں نے جو پہلا نغمہ لکھا وہ طلعت محمود نے 1941 ء میں گایا۔ اس کے بعد طلعت محمود نے فیاض ہاشمی کا وہ گیت گایا جس نے انہیں عروج پر پہنچا دیا۔ یہ گیت تھا

تصویر تیری دل مرا بہلا نہ سکے گی
میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی

طلعت محمود نے ان کا لکھا ہوا ایک ملی نغمہ ساتھیوں کے ہمراہ بھی گایا تھا جس کے بعد ہندوستان کے فلم سازوں نے ان کے لیے فلمی نغمات بند کر دیے اور وہ صرف چند غزلیات تک محدود ہو گئے۔

فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے گیتوں نے متعدد فنکاروں کو شہرتِ دوام بخشی اور بلاشبہ وہ گیت نگاری کے بادشاہ قرار پائے۔

آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
اسے سب سے پہلے حبیب ولی محمد نے فلم بازی میں گایا تھا اور پھر فریدہ خانم نے گایا۔

زیادہ تر فلموں میں فیاض ہاشمی کے گیت ہوتے تھے اور ہر بڑا موسیقار یہ چاہتا تھا کہ فیاض ہاشمی اس کے لئے گیت لکھیں۔

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

یہ گیت نامور گلوکار ایس بی جون کی شہرت کا باعث بنا جو انہوں نے فلم سویرا میں گایا تھا۔ ایس بی جون اس وقت دو تین دن کے بھوکے تھے اور انہوں نے اس گانے کو اپنی روٹی روزی کو مد نظر رکھ کر گایا تھا جس کے باعث ایسا گیت تخلیق ہوا جو آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔

1960 میں فلم سہیلی پیش ہوئی تو فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے اس دو گانے نے دھوم مچا دی۔

کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا
خبر کیا تھی کہ یہ انجام ہو گا دل لگانے کا

یہ دو گانا درپن اور شمیم آراء پر فلمایا گیا اور اس دوگانے کو سلیم رضا اور نسیم بیگم نے اپنی مدھر آوازوں میں گایا تھا

ان کے دیگر مشہور فلمی نغمات بھی آج تک زبان زد عام ہیں۔

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکارہ نور جہاں، فلم لاکھوں میں ایک)
قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار، مہدی حسن، فلم داستان)
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار مہدی حسن، فلم دیور بھابھی)
نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار، مہدی حسن، فلم نائلہ)
لٹ الجھی سلجھا دے رے بالم (گلوکارہ نور جہاں، فلم سوال)
ساتھی مجھے مل گیا (گلوکارہ ناہید اختر، فلم جاسوس)
ہمیں کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے (گلوکار مہدی حسن / مالا، فلم شب بخیر)
رات سلونی آئی (گلوکارہ ناہید نیازی، فلم زمانہ کیا کہے گا)
ارے او بے مروت، ارے او بے وفا بتا دے کیا یہ ہی ہے وفاؤں کا صلہ

فلم سوال میں نور جہاں نے صبیحہ خانم کے لیے گایا اور کیا خوب گایا۔

فلم توبہ میں انہوں ایک نغمہ لکھا جو قوالی کی شکل میں فلمایا گیا تھا جس کو سلیم رضا، آئرن پروین اور سائیں اختر کی آوازوں میں فلمایا گیا تھا۔

نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ہم کہاں جاتے

فیاض ہاشمی کے لکھے ملی نغمات نے بھی کافی دھوم مچائی اور زبان زد خاص و عام ہوئے۔

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران،
اے قائد اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان۔

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے۔

سورج کرے سلام، چندا کرے سلام۔

آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی۔

قیام پاکستان کے وقت فیاض ہاشمی نے پاکستان کے لیے کئی نغمات گراموفون پر بھی ریکارڈ کئیے جن کو دوبارہ ریکارڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

1965 ء کی جنگ ستمبر میں تصور خانم اور شوکت علی کی آوازوں میں گایا یہ ملی نغمہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔

دشمنو تم نے کس قوم کو للکارا ہے۔

انہوں نے 1968 ء میں فلم ”لاکھوں میں ایک“ کا یہ لازوال گیت ”چلو اچھا ہوا تم بھول گئے“ لکھنے پر نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ تین گریجویٹ ایوارڈ بھی حاصل کیے ۔

فیاض ہاشمی کا تصوف اور مذہب کی طرف بھی خاصا رجحان تھا۔ انہیں باقاعدہ خرقہ خلافت عطا ہوا تھا اور ان کے مرید اپنے نام کے ساتھ فیاضی کی نسبت لگاتے ہیں۔

انہوں نے مجموعی طور پر 122 فلموں میں نغمہ نگاری کی، 482 فلمی گیت تحریر کیے اور 24 فلموں کی کہانی اور مکالمے تحریر کیے۔ فیاض ہاشمی 29 نومبر 2011 ءکو کراچی میں وفات پا گئے اور قبرستان سخی حسن میں دفن ہوئے۔

Facebook Comments HS