الہامی شاعر۔ اقتدار جاوید

اقتدار جاوید کسبی نہیں بلکہ الہامی شاعر ہیں۔ ان پر دیومالائیں اترتی ہیں۔ ان کی شاعری ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس نقطے کے گرد کئی چھوٹے چھوٹے تخلیقی دائرے بناتی ہوئی کائناتی وسعتوں کو سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے تمام دائرے ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے نقطے کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ نیا نقطہ ہی ان کی شاعری کا نقطہ عروج ہے

Read more

عابد خورشید کی نظموں کا مجموعہ: یا محبت

عابد خورشید جدید اردو نظم کے اہم شاعر ہیں۔ اُن کا تعلق دبستان سرگودھا سے ہے اور درس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں۔ وہ ان دنوں ڈیرہ غازی خاں یونیورسٹی میں بطورِ اسسٹنٹ پروفیسر (اردو) اپنے فرائض سرانجام دے رے ہیں۔ اُن کی نظموں کا مجموعہ ”یا محبت“ 2017 ء میں مثال پبلشرز، فیصل آباد سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں اُن کی چوالیس ( 44 ) نظمیں شامل ہیں۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر حنیف سرمدؔ کا

Read more

ایک حقیقی شاعر: رفیق سندیلوی

رفیق سندیلوی احساس، ادراک اور وجدان کے حقیقی شاعر ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے داخلی اور خارجی محرکات کو شاعری میں بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری دیگر ہم عصر شعرا کی شاعری سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ منفرد داستانوی اسلوب ان کی خاص پہچان ہے۔ انھوں نے اساطیری کرداروں اور اساطیری واقعات کو بڑی چابکدستی سے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ وہ قدیم موضوعات کو نئے انداز میں پیش کرتے ہیں اور ان موضوعات کی تفہیم

Read more

شعری مجموعہ ”لمس“ میری نظر میں

”لمس“ ڈاکٹر عابد خورشید کا اولین شعری مجموعہ ہے۔ جو ان کی خاموش طبع، منکسرالمزاجی، کثیر المطالعہ اور متوازن شخصیت کے ساتھ ان کے زندگی کرنے کے فن کو آشکار کرتا ہے۔ لمس کا تعلق قوت لامسہ سے ہے یعنی محسوس کرنے سے ہے۔ لمس کی حدت اور شدت کو عابد خورشید اپنی ذات میں جذب کرتے ہیں۔ جس سے انھیں تخلیق کا اذن ملتا ہے۔ عابد خورشید تخلیق سے محبت کرتے ہیں۔ یہ محبت عشق میں ڈھلتی ہے اور پھر

Read more

اسلوب اور اسلوب نگار

اسلوب کے متعلق مختلف آراء ملتی ہیں۔ لیکن ان تمام آراء میں یہ بات مشترک ہے کہ اسلوب اسلوب نگار کی شخصیت کا مظہر ہوتا ہے۔ اس میں اسلوب نگار کی شخصیت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس طرح سے جلوہ گر ہوتی ہے کہ اس کی ذات کی تمام داخلی اور خارجی کیفیات اور واردات کا بھر پور اظہار ہوجاتا ہے۔ اسلوب شخصی صفت ہے جو اسلوب نگار کی شخصیت کا مجموعی تاثر پیش کرتے وقت اس کے

Read more

علم الاقتصاد :دیباچہ میری نظر میں

”علم الاقتصاد“ علامہ اقبال کی پہلی علمی اور نثری تصنیف ہی نہیں بلکہ اردو زبان میں اقتصادیات کے موضوع پر لکھی جانے والی پہلی کتاب بھی ہے۔ جو علم سیاست مدن کے عنوان سے معروف ہوئی۔ اقبال نے یہ کتاب پروفیسر آرنلڈ کی تحریک پر تحریر کی تھی۔ اقتصادیات کو علامہ اقبال کے افکار میں کبھی مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی لیکن اس کے باوجود اقبال کو اس موضوع سے بڑی گہری دلچسپی تھی۔ اقبال کی شاعری اور نثر دونوں

Read more

”راجہ گدھ“ میری نظر میں

راجہ گدھ بانو قدسیہ کا مقبول ترین ناول ہے جو عنوان کے لحاظ سے نہایت جاندار، منفرد، جاذب نظر اور تجسس کا حامل ہے۔ اس میں ذہنی اور نفسیاتی تصور کا مطالعہ مذہبی اقدار کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ جس سے ناول کا تناظر علامتی بن گیا ہے۔ بانو قدسیہ نے یہ تناظر انسان (خصوصاً مرد) کی نفسیات اور سرشت کو دریافت کرنے کے لیے تشکیل دیا ہے۔ جس میں انھیں خاطر خواہ کامیابی ملی ہے۔ لیکن ان

Read more

افسانہ ”سریلا آدمی“ میری نظر میں

اعجاز روشن ایک اچھے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اسلوب انفرادیت اور اچھوتے پن کا حامل ہے۔ وہ جس واقعہ یا کردار کو افسانے میں بیان کرتے ہیں، اس کے پس منظر میں پو شیدہ حقیقت کو اس انداز سے آ شکار کرتے ہیں کہ وہ قاری پر ایک دیر پا تاثر قائم کرتی ہے۔ ”سریلا آدمی“ اعجاز روشن کا افسانہ ہے جو کہ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”باسی ٹکڑے والا۔ اور دوسری کہانیاں“ میں شامل ہے۔ انھوں نے

Read more

ناول ”کرول گھاٹی“ میری نظر میں

غافر شہزاد نے ”کرول گھاٹی“ میں ایسا انداز متعارف کروایا ہے جو ناول کے عمومی انداز سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ اس انداز سے اردو ناول کا قاری ابھی تک واقف نہیں ہے۔ اس لیے غافر شہزاد نے بلاواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے ناول کے مختلف تناظر کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قاری کی دلچسپی اور جڑت برقرار رہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ وہ ناول یا فن پارہ جو

Read more

الہامی شاعر: اقتدار جاوید

اقتدار جاوید کسبی نہیں بلکہ الہامی شاعر ہیں۔ ان پر دیومالائیں اترتی ہیں۔ ان کی شاعری ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس نقطے کے گرد کئی چھوٹے چھوٹے تخلیقی دائرے بناتی ہوئی کائناتی وسعتوں کو سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے تمام دائرے ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے نقطے کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ نیا نقطہ ہی ان کی شاعری کا نقطہ عروج ہے

Read more

اسد سلیم شیخ کی "شجر کہانی”

شجر کہانی ”اسد سلیم شیخ صاحب کی اشجار اور فطرت سے محبت کا اظہار ہے۔ جو اسد صاحب اور اشجار کے مابین اپنائیت کے رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ اسد صاحب اشجار سے اپنے دیگر دوستوں کی طرح کلام کرتے ہیں اور اشجار بھی گفتگو کے دوران ان سے بے تکلف دوستوں کی طرح گھل مل جاتے ہیں۔ اس سے اسد صاحب اور اشجار کے درمیان مکالمہ تشکیل پاتا ہے۔ جس کی بدولت اشجار کو زبان مل جاتی ہیں اور

Read more

مکلی میں مرگ، میری نظر میں

قبروں، مزاروں اور مقبروں سے جڑی زندگی کے رشتے اور عقیدے فکشن کا روپ ہیں۔ جن کو غافر شہزاد نے ”مکلی میں مرگ“ میں ایک نئے اور منفرد انداز سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے ایک ایسی زندگی کو متعارف کروایا ہے جو انسان کو مرنے کے بعد اپنے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے ذہنوں میں ملتی ہے۔ اس سے انسان کی ایک نئی شناخت قائم ہوتی ہے جس کا تعلق بعض اوقات اس کی حقیقی زندگی سے نہیں

Read more

وقت کے امکانات کا شاعر۔۔۔۔عامر عبداللہ

عامر عبداللہ کی نظمیں (مشمولہ "اجلی کرن کی پگڈنڈی پر”) ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔وہ اپنی نظموں میں ایک ایسا دائرہ تشکیل دیتے ہیں جس کا مرکزی نقطہ وقت ہے۔اس دائرے کے ان گنت نقاط ہیں جو اپنے وجود میں کائناتی وسعتوں اور وقت کو اس کے تمام تر امکانات کے ساتھ سمیٹے ہوئے ہیں۔اس دائرے کی متعین حدود کے اندر بیک وقت کئی ذیلی دائرے بنتے اور بکھرتے رہتے ہیں جن سے

Read more

"جدید ادب کا سیاق” میری نظر میں

”جدید ادب کا سیاق“ ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی مشرقیت پسندی کا ثمر ہے۔ جو 2019ء میں فکشن ہاؤس سے شائع ہوئی۔ بخاری صاحب نے اپنے اس مطالعے میں جدید ادب کے پس منظر میں کارفرما نوآباد کاروں کے عزائم کو دریافت کر کے جدید ادب کی تفہیم کا ایک نیا در وا کیا ہے۔ جس سے قاری کو استفادہ کرنا چاہیے۔ ”جدید ادب کا سیاق“ کا مطالعہ نو آباد کاروں کے طرز فکر اور ان کے استحصالی طریقہ کار

Read more

”حسرت تعمیر“ میری نظر میں

قاری کو جو چیز زیر مطالعہ فن پارے کی سب سے پہلے متاثر کرتی ہے وہ اس کا عنوان ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فن پارے کا عنوان اچھوتا اور جاذبیت کا حامل ہو تاکہ قاری کی توجہ حاصل کر سکے۔ اگر فن پارے کا عنوان آفاقی شعر سے منتخب کیا گیا ہو تو سونے پر سہاگے کا کام دیتا ہے۔ حسرت تعمیر ”ایک ایسا ناول ہے جس کا عنوان اچھوتا اور منفرد ہے۔ اس کے عنوان کا

Read more

ذکر وزیر آغا، میری نظر میں

اچھے ادیب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے کچھ پہلو (خاص طور پر سماجی) ایسے ہوتے ہیں جو پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔ جنہیں دریافت کرنے کے لیے اچھی خاصی تلاش و بسیار کرنا پڑتی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل اور محنت طلب ہوتا ہے۔ اگر ادبی شخصیت ڈاکٹر وزیر آغا جیسی متنوع جہات اور ہمہ گیر ہو تو کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی شخصیت کا سماجی پہلو اس کے ادبی پہلو کی

Read more