سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی اور غربت کا عفریت
سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار سرکاری ملازم سول قیادت کے اختیارات اپنے ہاتھوں میں لے کر ریاست میں قدم قدم پر اپنا سکہ جما لیں، سول اداروں کو آزادی سے پروان چڑھنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں اور سول سوسائٹی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی میں سہولت کاری کے لیے گماشتے تیار کرنا شروع کر دیں تو نتیجے میں کوئی بھی ملک جس سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی شکل اختیار کر سکتا ہے ہمارا ملک اس کیفیت سے دوچار ہو کر دیوالیہ قرار دیے جانے کے خطرے میں گھرا کھڑا ہے۔
ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی ابتدا 1951 میں بھرے مجمع سے خطاب کے دوران وزیراعظم اول لیاقت علی خان کے قتل سے ہو چکی تھی، اس قتل کی تحقیقات اور شواہد اکٹھے کرنے والا پولیس افسر اہم دستاویزات سمیت ہوائی حادثے میں جل کر راکھ ہو گئے، قتل کا یہ کیس 73 برس گزر جانے کے باوجود آج تک سرد خانے کے سپرد ہے۔ قتل کی اس واردات کے اصل کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں عدم دلچسپی نے 1958 میں جنرل ایوب خان کو ملک کے اقتدار پر قبضہ جمانے کی راہ ہموار کی، ایوب نے نا صرف سول حکمرانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا بلکہ مولوی تمیزالدین خان کیس میں اثرانداز ہو کر عدالتی نظام بھی تاراج کر دیا۔
عوام میں بے چینی اور اپنی باری لگانے کے منتظر جنرل یحیی ’خان کی اضطرابی کیفیت نے ایوب خان کو 10 برس بعد اقتدار اپنے نائب جنرل یحیی‘ کے سپرد کر کے سبکدوش ہو جانے پر مجبور کیا، ایوب کے رچائے مکروہ کھیل کے نتیجے میں جنرل یحیی ’اور ان کا ٹولا سول سوسائٹی کے ساتھ خونی تصادم سے دوچار ہوئے، نتیجتاً 1971 میں ملک کی اکثریت نے اپنے لیے آزادی کا انتخاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے قیام کا فیصلہ کر کے اپنے راستے جدا کر لیے ۔ جنرل یحیی‘ کے بعد جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے وقفے وقفے سے اس گھناونے کھیل کو جاری رکھا، ہر مرتبہ عدلیہ ان غیرقانونی و غیرآئینی اقدامات میں ان طالع آزماؤں کو سہولت فراہم کرتی ری، نتیجتاً بچے کھچے پاکستان کا سیاسی، معاشی اور عدالتی نظام زمین بوس ہوتے چلے گئے۔
محکمے کے براہ راست اقتدار کی درمیانی مدتوں میں باقی ماندہ ملک نے عوام کی منتخب کردہ حکومتیں قائم تو ہوتے دیکھیں لیکن ان سول حکومتوں کو بھی پس پردہ قوت کی سیاسی اکھیڑ پچھاڑ نے آزادانہ طور پر امور مملکت چلانے سے روکے رکھا۔ 1971 میں ملک ٹوٹ جانے کے باوجود عدلیہ نے انصاف کے بجائے محکمے کی غلامی کو ترجیح دیتے ہوئے 1979 میں بچے کھچے پاکستان کے وزیراعظم کو سولی چڑھانے کا فیصلہ سنانے میں عار محسوس نہیں کی۔
ملک کے نظم و نسق میں مسلسل مداخلت نے مضبوط سیاسی نظام اور معیشت کو پنپنے سے روکے رکھا۔ ملکی نظام کو چلانے کے لیے بیرونی گرانٹ، امداد اور قرض پر انحصار نے مالیاتی نظام کو اس قدر مفلوج کر ڈالا کہ آج ملک کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کرنا باقی رہ گیا ہے۔ ملک کے مالی حالات اس قدر مخدوش ہو چکے ہیں کہ قرضوں پر لگنے والے سود کی ادائیگی کے لیے بھی قرض مانگنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں قرض دینے والے ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو سخت رویہ اپنانا پڑا۔ ملک کے نظم و نسق میں بیجا مداخلت اور افغانستان کی پرائی جنگ میں بلا سوچے سمجھے، بلا روک ٹوک، پارلیمنٹ میں صلح مشورے بغیر کود پڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدمت لینے والا امریکہ پڑوس میں اپنی کارروائی مکمل کر کے پاکستان کو پیٹھ دکھا کر چلتے بنے اور ڈالر کی وہ برسات بھی جسے دائمی سمجھ لیا گیا تھا بند ہو گئی۔ مستقبل کے نتائج سے بے پرواہی کا تباہ کن نتیجہ یہ نکلا کہ کابل فتح کرنے کے لیے لگ بھگ چالیس برس جن مجاہدین کو مدد فراہم کی جاتی رہی وہی طالبان کا روپ دھار کر خونریز کارروائیوں میں مصروف ہیں جس میں لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
فوج اور اس کی قیادت کی ذمہ داری صرف اور صرف ملک کے دفاع کو یقینی بنائے رکھنا یا مخصوص حالات میں حکومت کے احکامات پر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے، ان مقاصد کے لیے مسلسل تربیت اور ملک کے دفاع کی خاطر خود کو ہر لمحہ طاق رکھنا ہے، یہ ذمہ داری اپنی جگہ بہت دشوار، مکمل توجہ طلب اور کل وقتی ہے، سرحدوں کے دفاع پر مکمل گرفت رکھنے کے لیے قوم اپنی محنت اور مشقت سے محکمے کو ہر ممکن وسائل مہیاء کرتی رہی ہے لیکن یہ وسائل اور وقت اپنی حربی مہارت پر لگانے کے ساتھ اپنے وطن کے داخلی اور خارجہ معاملات سمیت سیاسی اور کاروباری امور پر بھی مرکوز کرنا شروع دیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ریاستی امور میں عدم توازن پیدا نا ہو؟
محکمے کی ریاستی امور میں دخل اندازی اور سول قیادت کو اپنے تابع رکھنے کی ایک مثال سال 2016 میں مشہور ہونے والے ڈان لیکس پر وزیراعظم کی جانب سے بھیجے جانے والی رپورٹ پر وزیراعظم کے تقرر کردہ ماتحت چیف کے بھی ماتحت افسر کا ”نوٹیفیکیشن ریجیکٹڈ“ کی مہر ثبت کرنا ہے جو درحقیقت عوام کی اکثریت کے منتخب کردہ وزیراعظم کو نیچا دکھانا اور عمران حکومت کو ملک پر مسلط کرنے کے مشن کے لیے علی الاعلان راہ ہموار کرنے کے پلان کا حصہ تھا۔
اس عدم توازن کے نتیجہ میں جس سیاسی بے چینی اور معاشی ابتری نے ملک میں اپنی جڑیں پکڑیں ان کے نتیجے میں زرعی اور صنعتی پیداوار میں ترقی کا پہیہ دھیرے دھیرے ٹھہر گیا، جو ملک سات سے زائد دہائیاں ”ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے“ کی مسلسل گردان میں گزار دے، استحکام کا دور دور نشان نا ہو، خزانہ خالی ہو جائے، جس زرمبادلہ کو ملک کے ذخائر میں دکھایا جائے وہ سب دوست ممالک کی منت سماجت سے حاصل کیے قرضوں کا مرہون منت ہو تو یہ جان لینا کوئی مشکل بات نہیں کہ ملک کے نظام میں جاری مداخلت کی دیمک اسے چاٹ کر کھوکھلا کر چکی ہے۔
بڑھتے قرضوں اور ان پر لگنے والے سود سے پیدا ہوئے مالی معاملات بار بار آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کرتے رہے، قرض کی ادائیگی کے لیے متعدد مرتبہ سخت ترین شرائط پر دستخط کرتے رہنے کے باوجود اپنے وسائل اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بجائے ملک میں بڑھتی غربت کے اضافے کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں۔ نتیجتاً قرضوں کا ڈھیر اور ان پر سود کے بوجھ نے رفتہ رفتہ ملک کی پچاس فیصد سے زائد آبادی کو غربت سے نچلی سطح میں دھکیل دیا۔
ملک چلانے کے لیے قرض کی درخواست کرنے والے ارباب اختیار اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیا نے فری لنچ بانٹنا یا مفت مالی مدد بند کر کے کاروباری مزاج اپنا لیا ہے، پاکستانی معیشت کے مستقبل سے مایوسی اور مستقل ہاتھ پھیلائے رکھنے کی عادت نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے قریبی دوست ممالک کو بھی ماضی کے طرز پر مہیا کی جاتی رہی مدد سے انکار پر مجبور کیا۔ اپنی تاریخ کی لگ بھگ 8 دہائیوں تک بیرونی امداد پر انحصار کی لت نے خود انحصاری کا فقدان پیدا کیا، پاکستان کو مفت امداد فراہم کرنے والے ممالک نے دو طرفہ تعلقات کو کاروبار کی نظر سے دیکھنا شروع کر کے مفت ملنے والی مدد پر پابندی اور متفقہ شرح سود پر قرض کی فراہمی پر بمشکل حامی بھری۔ اعداد و شمار کے ذرائع مطابق اس ماہ اگست میں کل 5۔ 14 بلین ڈالرز جس کی موجودگی کو ملکی خزانہ بتایا جا رہا ہے اس میں موجود ذخائر میں سے پانچ بلین ڈالر پاکستانی بینکوں میں شہریوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں، 5۔ 6 بلین ڈالرز چین، 2 بلین ڈالر سعودی عرب اور ایک بلین ڈالر متحدہ عرب امارات کی امانت ہیں جنہیں ایک خاص شرح سود سمیت واپس لوٹانا ہے۔ آئی ایم ایف کے 24 ویں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (قرض پروگرام) کی اہم ترین شرط پاکستان کے خزانے میں 5۔ 9 بلین ڈالر رکھنے والے تینوں ممالک سے اگلے تین سال تک اس رقم کو جمع رکھنے کی سالانہ یقین دہانی یا گارنٹی مہیاء کرنا ہے۔ ان شرائط سے پاکستان کے مخدوش مالی حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف ایسا مالیاتی ادارہ ہے جو مالی مشکلات سے دوچار اپنے ممبران کو ضرورت پڑنے پر اپنے نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کروائے جانے کے بعد قرض مہیا کرتا ہے، قرض کی درخواست وصول کرنے پر درخواست گزار ملک کے مالیاتی نظام کو جانچ پرکھ کر خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور معاہدوں میں ان نقائص کی نشاندہی کرتا ہے جن کی درستگی قرض کی اقساط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں، معاہدے کی مدت پوری ہونے تک قرضدار ملک کے مالیاتی نظام پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہدایات جاری کرتے رہنا آئی ایم ایف کا معمول ہے تاکہ قرضدار ملک کو ادائیگی میں مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے اور معقول بندوبست کے نتیجے میں آئندہ قرض کے لیے ہاتھ نا پھیلانا پڑے۔ قرض کی منظوری سے لے کر اجراء تک اور معاہدے کے اختتام تک قرض مانگنے والے ملک کے تمام اہم امور جن میں سیاسی استحکام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے گہری نظر رکھتا ہے، لیکن باوجود آئی ایم ایف کی مسلسل ہدایات اور گزشتہ 23 مرتبہ مالیاتی اصلاحات کا یقین دلاتے رہنے کے اصلاحات سے گریز اور ملک کے ”نازک دور“ سے گزرنے کی رٹ لگائے رکھنا ارباب اختیار کی حکمت عملی بنی رہی ہے۔ لہذا اصلاحات سے مسلسل گریز کی وجہ سے آئی ایم ایف سے حاصل کیا جانے والا ہر نیا قرض ماضی سے زیادہ سخت شرائط پر میسر آ سکا ہے۔
آئی ایم ایف سے 23 مرتبہ قرض حاصل کرنے کے باوجود اصلاحات سے گریز کی وجہ سے 24 ویں مرتبہ ہاتھ پھیلانا پڑا ہے تو قرض کے حصول میں اسی تناسب سے مشکلات کا سامنا بھی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی میں آئی ایم ایف کے عمل دخل کو پارلیمنٹ لے جانے پر مجبور ہونا زمینی حقائق کو جاننے کے لیے کافی تھا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں آئی ایم ایف اپنے 23 ویں اصلاحاتی پروگرام سے روگردانی پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے قرض کی بقیہ اقساط جاری کرنا بند کر چکا تھا۔ قرض کی بقایا رقم کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف کو راضی کرنے میں جس انتہائی دقت کا سامنا کرنا پڑا وہ سب خبروں کی زینت بن چکا۔ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 24 ویں مرتبہ اصلاحات میں ناکامی کی صورت میں آئی ایم ایف سے 25 ویں مرتبہ مدد ملنا کتنا مشکل ہو گا، اس گمبھیر صورتحال کے باوجود ریفارمز یا اصلاحات میں سست روی ارباب اختیار کی عدم دلچسپی بتاتی ہے جو خطرے کا سائرن ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ آئی ایم ایف دنیا کے 190 ممبران پر مشتمل وہ مالیاتی ادارہ ہے جس سے پاکستان 23 مرتبہ قرض حاصل کر کے ممبر ممالک میں اول یا سب سے زیادہ مرتبہ قرض حاصل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
آئی ایم ایف اپنے ہر پروگرام میں جن اصلاحات کی سفارش دہراتا رہا ہے ان میں سے چند یہ ہیں :
مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کو مضبوط بنانا۔
ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا۔
ریاستی ملکیت میں چلنے والے کاروباری اداروں (State Owned Enterprises) کے انتظام کو بہتر بنانا۔
مسابقت (Competition) کی فضا مضبوط بنانا
سرمایہ کاری کے لیے برابری کے میدان کو محفوظ بنانا۔
انسانی سرمائے کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ، اور
بڑھتی غربت کو قابو میں رکھنے کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
باوجود آئی ایم ایف کی سفارشات کے ملک کے مالیاتی نظام میں اصلاح سے عدم دلچسپی کا اندازہ ان کی ناک کے نیچے عفریت کی طرح منہ پھاڑے بجلی اور گیس کے شعبوں میں مسلسل بڑھتے کھربوں روپے کے گردشی قرضے ہیں جن کا ماہ اگست 2024 میں تخمینہ 5.4 کھرب روپے سے زائد ہے جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان قرضوں میں بجلی کی چوری اور لائن لاسز سرفہرست ہیں۔ بجلی کے فی یونٹ قیمت میں اضافے کی وجہ بھی آئی ایم ایف کے دباؤ کے بجائے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونا ہے۔
بدعنوانی کی ایک اور مثال ( 400 ) چار سو ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیوں کو غیرقانونی طور پر معطل رکھنا ہے جس کی بڑی وجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمہ دار عملے کی جیب گرم کرنے کے لیے کمیشن کی وصولی ہے۔ چند ہفتوں پہلے ایف بی آر کے سینیئر افسران میں لوٹ مار یا کمیشن کی رقم میں تقسیم نے مار پیٹ کی شکل اختیار کر لی، دفتری اوقات میں سینیئر سطح کے افسران ایک دوسرے پر باقاعدہ اسلحہ تان کر خون خرابے کے لیے تیار ہو چکے تھے، شور کی آواز سن کر دفتر کے لوگوں نے بمشکل کسی پر تشدد کارروائی سے روکا، یہ حالات سول محکموں کے ہیں۔ دوسری جانب آج کل ٹاپ سٹی کیس زبان زد عام ہے اس کیس کے علاوہ لاہور کے سینیئر اور بزرگ وکیل جناب اکرم شیخ سے محکمے کے سینئر افسر کی ایما پر لوٹ مار کا چرچا ہے۔ ان واقعات پر عام شہری کا سر شرم سے جھکا ہوا ہے، اغوا، تشدد، قتل، بلیک میلنگ، اختیارات کے ناجائز دباؤ میں لا کر دھونس، دباؤ، بد انتظامی اور بدعنوانی کی وارداتیں اخباروں کی زینت بنتی رہتی ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہ گھٹیا پن آئی ایم ایف سمیت باقی دنیا کے علم میں نا ہو۔
مذکورہ بالا تمام بدنظمیوں اور مہنگائی میں خوفناک اضافے کے باوجود عوام نے صبر و تحمل کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ غربت کی ماری مائیں اپنے بچوں کو موت کی نیند سلا کر خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، بجلی کے ماہانہ بل کی ادائیگی پر ناچاقی کی وجہ سے بھائی کے ہاتھوں بھائی کی جان لینے کی خبر گردش کرتی رہی ہے جب کہ دوسری طرف دیر اور چترال میں ہونے والے حالیہ خونریزی کے واقعات، بلوچستان میں بے چینی، تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں آئے دن ہمارے فوجی جوانوں اور عام شہریوں پر خونی حملے زمینی حقائق سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
سول اور فوجی قیادت کے ایک جان دو قالب کے بیانیے سے زیادہ اہم سول اور فوجی معاملات میں مکمل نظم و ضبط کا نفاذ ہے، آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے کو یقینی بنانا ہے، فوج اور سول بیوروکریسی میں ذاتی مفاد کی خاطر سیاسی اور معاشی امور میں دلچسپی سے مکمل گریز کو یقینی بنانا ہے، ملک کے ہر محکمے پر سول حکومت کی رٹ قائم کرنا ہے، ہر قیمت پر دولت سمیٹنے اور مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی بیماری کے رجحان کا خاتمہ خواہ سول ہو یا فوجی یقینی بنانا ہے تاکہ ترقی کے سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔ مسلسل اور غیرجانبدار انتخابات سول حکمرانوں کو ان کے دائرے اختیار میں رکھنے کا بہترین نظام ہے، جبکہ سیاسی حکومت کی تشکیل کے لیے ناجائز طور پر اختیارات کے استعمال کی سزا آج پاکستان کی 25 کروڑ عوام بھگت رہی ہے۔
ہائبرڈ یا دو غلہ پن صرف تذبذب، انتشار، گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ جاری رکھنے کا باعث رہے گا، غربت سے نجات اور ترقی محض خواب و خیال رہے گی۔ آئینی اور قانونی حدوں سے تجاوز کے نتائج ہمارے سامنے کھلی حقیقت ہیں، اس حقیقت سے انحراف قرض کے لیے ہاتھ پھیلائے رکھنے کی عادت کو پختہ بنائے رکھے گی، غلطیوں اور خامیوں کا اعتراف ہی ملک کی سالمیت کو محفوظ بنائے رکھنے اور مکمل تباہی اور بربادی سے بچانے کا ذریعہ ہے۔


