وہ آٹھ


آئیے آپ کو ان سے ملواتے ہیں جو آٹھ ہیں اور خاص ہیں۔
مختلف ہیں لیکن دوستی کے رشتے سے بندھی ہیں۔
اب بوجہ فاصلوں دور ہیں لیکن دل سے قریب ہیں۔
سالوں، مہینوں بعد بھی ملیں تو وہیں سی شروع ہوتی ہیں جہاں پچھلی مرتبہ سلسلہ ٹوٹا ہوتا ہے۔
کچھ مزاحیہ ہیں، باقی سنجیدہ۔

سات نے شادی کے لڈو کھا لئے ہیں اور ابھی تک پچھتا نہیں رہیں۔ جبکہ ایک کو اس لڈو کھانے میں دلچسپی نہیں۔

اس لئے اس کے وعظ بچوں کے متعلق باقیوں سے مختلف ہیں اور بغیر ٹکٹ کے جاری بھی رہتے ہیں۔

اور ابھی سب کھانے کی لمبی مستطیل میز کے گرد آمنے سامنے بیٹھی ہیں۔ چار میز کے ایک طرف اور چار دوسری جانب۔

کھانا ایک بہانہ ہے ورنہ ’محفل یاراں‘ اصل مقصد ہے۔

تو پھر کدھر سے شروع کریں؟ دائیں یا بائیں؟ دائیں سے مناسب ہے۔ اور یہاں پہلی کرسی پر براجمان ملک کی ایک نامی گرامی جامعہ میں پڑھاتی ہے۔ پر اعتماد اتنی کہ سات سمندر پار تک اکیلے سفر کرتی ہے۔ ایک اور ترقی یافتہ ملک کی شہریت حاصل کرنے کے سارے لوازمات بھی خودی پورے کیے ہیں اور آج کل وہاں کے چکر بھی لگتے ہیں۔ والد مرحوم کے بعد ماں کی چھاؤں اور چھوٹے بہن بھائیوں کا باپ ہے۔ گاڑیوں میں بے حد دلچسپی ہے۔ اور کوئی انھیں اب گاڑی چلاتا دیکھ لے تو خود کو دانتوں سے بازو پر کاٹ کر یقین دلائے کہ یہ وہی ہے جو جامعہ کے دنوں میں سڑک پار کرنے کے فوبیا میں مبتلا تھی۔

اتنی کہ کسی نہ کسی کو ہاتھ پکڑ کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جانا پڑتا۔ اور اگر کوئی ہاتھ نہ پکڑاتا تو وہ خود کندھا یا دامن پکڑ لیتی۔ اور اگر یہ بھی میسر نہ ہوتا تو بیچ شاہراہ، چلتی گاڑیوں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتی کہ شاید کوئی لحاظ کر لے۔ دل اتنا چھوٹا کہ بجلی کے جھولے لینے جاتی تو ساتھ کسی کو پرچی بھی دے جاتی کہ کچھ ہونے پر اس نام، پتے پر اطلاع پہنچا دیں۔

اس سے آگے جو بیٹھی ہے وہ پوری گھریلو ہے۔ کتاب بینی کا شوق ہے۔ اور آرکیٹیکچر کی ڈگری گھر کے درو دیوار سے عیاں ہے۔ کبھی مکرامے بناتی ہے، کبھی دیواروں کو خود پینٹ کرتی ہے۔ کبھی شیشے کے جاروں پر پھول بناتی ملتی ہے۔ کبھی بیٹی کی فراکیں ڈیزائن کرتی اور سیتی ہے۔ بچوں کو آزادانہ گھماتی پھرتی ہے اور آئے دن روایتی، غیر روایتی کھانوں کے کامیاب تجربے کرتی ہے۔ اور بیکنگ کا تو مت پوچھیں، کسی اگلے ہی ’لیول‘ کی کرتی ہے۔

آئے دن اپنے کارنامے مشترکہ واٹس ایپ گروپ پر شیئر کرتی ہے۔ اور جو اس کو جامعہ کے زمانوں سے جانتے ہیں۔ ان کو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ انھیں ابھی تک اس کی دیسی گھی والی میکرونی نہیں بھولی۔ رومال میں لپٹی سادہ روٹی پر رکھا سالن نہیں بھولا۔ اور جب گھر جانا ہو تب بس اڈے تک جانے کو کسی ہم سفر کی تلاش نہیں بھولی۔ اسائنمنٹس کے خراب ہونے پر رونا نہیں بھولا۔ کیسی لائق وہ طالبہ تھی، کیسی اچھی وہ استاد تھی، انھیں وہ بھی یاد ہے۔

اور اس کے ساتھ جو دھیما دھیما مسکرا رہی ہے، پڑھائی کے وقتوں میں قہقہے لگایا کرتی تھی۔ غصہ ناک پر ہی دھرا رہتا تھا۔ نہ آئے تو نہ آئے اور جب آئے تو کبھی کوئی ہم جماعت زیر عتاب، کبھی کوئی ہاسٹل فیلو، کبھی کوئی کزن۔ آؤٹنگز کی شوقین۔ تو اکثر ہی دوستوں کے گروپ کے ساتھ سیر کو نکلی رہتی۔ جن کچھ طلبا کے پاس ان دنوں موبائل ہوتا تھا، اس کا شمار بھی انھی میں ہوتا تھا۔ اور اب جب ملو تو پورے ضلع کی انتظامی سربراہ ہونے کی وجہ سے بہت سوں کے غصے امرت سمجھ کر پی جاتی ہے۔ پبلک افسر ہونے کی بدولت متانت اب امر ناگزیر ہے۔ اور دوستوں کے واٹس ایپ گروپس میں بھی محتاط اور محدود ہے۔

اور اس قطار میں سب سے آخر پر وہ ہے۔ جو انگریزی بولتی تھی اور اردو بھی اسی رنگ میں رنگی تھی۔ انگریزی ناول پڑھتی تھی۔ پاکستانی تھی لیکن دیار غیر سے آئی تھی۔ دوستیں، مجلسیں، گپ شپ اسے محبوب تھیں۔ اور اس کے لئے رت جگے اس پر گراں نہیں گزرتے تھے۔ کون سا ریستوران کھانے کے لئے اچھا ہے؟ کون سا چائے کافی کے لئے؟ کہاں پر بیٹھنے کی اچھی گنجائش ہے؟ وہ اس کا علم رکھتی تھی۔ مختلف اور طرحدار پہننے اوڑھنے کی خواہاں تھی۔

گھر داری سے نابلد۔ کھانے پکانے سے انجان اور کپڑے دھونے سے ناواقف تھی۔ پہلی دفعہ ہاسٹل میں کپڑے دھونے اور پھر گر کر خراب ہو جانے پر پھوٹ پھوٹ کر روتی تھی۔ اور اب مکمل اچھی بہو، بیوی اور ماں کے سانچے پر اترنے کو ہلکان۔ بچوں کی پرورش میں مشغول۔ سوشلائزیشن کا کیڑا بھی کہیں گم ہو گیا۔ کتابیں سائیڈ ٹیبل پر دھری رہتی ہیں اور اسے کم ہی فرصت ملتی ہے۔ تھری پیس سوٹ پہنتی ہے اور سب سے حیران کن کہ بڑی بڑی دعوتوں کا اہتمام باحسن کرتی ہے۔ ہاں! لیکن دوستوں کو ویسی میسر نہیں رہی۔

اور ادھر الٹے ہاتھ پر جو ہے وہ ایک کاروباری خاتون ہے۔ جس کا دن صبح فجر سے بھی پہلے شروع ہوتا ہے اور رات کے کس پہر ختم ہو، نہیں معلوم۔ آج کے دور میں جب لڑکیاں دو بچے بھی ’اوکھے‘ ہو کر پال رہی ہیں۔ وہ ماشاءاللہ سے چھ بچوں کی خوش مزاج ماں ہے۔ مددگار ہونے کے باوجود کاروبار، بچے، خانگی مصروفیت دن کے چوبیس گھنٹے، آرام اور نیند بھی کھا جاتے ہیں۔ جو اس سے حال میں ملے، اسے کوئی کیسے بتلائے کہ طالب علمی میں کیسے گھوڑے، گدھے بیچ کر سوتی تھی۔ اور نیند سے پیارا اسے کچھ نہیں لگتا تھا۔ راتوں کو ایف۔ ایم ریڈیو سننا، پابندی سے ہفتے کے آخر پر مووی دیکھنا، اور کارڈز کھیلنا دل پسند مشاغل میں سے کچھ تھے۔ اب یہ شوق کہاں گئے، نہیں معلوم۔ ہاں جسمانی کھیل اس کا عشق تھے۔ جو اب اس کی اولاد میں منتقل ہو رہے ہیں۔

اور ان سے ملئے۔ چالیس کی عمر میں وزن بھی چالیس ہی ہے۔ اور ایسا کرنے کی خاصیت اس کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ یونیورسٹی میں اس کے لئے اسٹیڈیم کے میدان ناپے جاتے تھے اور اب الیکٹرک مشینوں کی کم بختی آئی رہتی ہے۔ اس کے باوجود انگریزی میٹھوں کی شوقین۔ جتنے کیک اس کے کمرے کی میز پر سبھی ندیدوں کو دعوت عام دیتے تھے۔ اتنے ہی کیک یہ اب خود بنا بنا کر کئی ندیدوں کو خود کھلاتی ہے۔ سامنے ماتھے کے پاس سے کچھ بالوں کو نکال کے انگلیوں پر گھماتے جانا اور باتیں کرنا اس کا ابھی بھی ویسا ہی ہے، جیسا جامعہ کے عرصے میں ہوتا تھا۔ ان دنوں جو کسی پریشانی اور ناکامی پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے لئے گھنٹوں نیند کا سہارا لیتی تھی۔ اب مشکلات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیتی ہے۔

اور ذرا آگے بڑھیں تو یہاں بھی اس کے ساتھ اس کی یار غار اور روم میٹ بیٹھی ہے۔ جو وطن کی زمین چھوڑ کر کہیں اور جا بسی ہے۔ کھانا پکانا شوق سے کرتی تھی جو شادی کے بعد اتنا کرنا پڑا کہ خاک ہو گیا۔ حس مزاح جامعہ میں بھی زندہ باد اور اب بھی سلامت۔ سہنے کے ہنر میں ماہر تھی۔ حساس اور عملی تب بھی تھی۔ اب تجربات کی بھٹی نے کندن بھی کر دیا ہے۔ شام کی چائے یاروں کو بنا کر دینا اس کی خاصیت تھی۔ جو اب کم ہو گئی ہے۔ انگریزی گانے سننے والی اب مہینوں کچھ نہیں چلاتی۔ مزاج جس کا ایسا تھا کہ ہر ایک کو لگے اس کی دوست ہے۔ وہ اب دوستیاں ہی نہیں کرتی۔

اور سب سے آخر میں ایک اور ڈاکٹر اس میز پر موجود ہے۔ جس کو اب دنیا اس کے لکھنے کے جراثیموں کی بدولت بھی تھوڑا بہت جانتی ہے۔ ایک کمپنی کی تخلیق کار ہے۔ ’ملٹی ٹاسکنگ‘ اس کا خاصہ ہے۔ کانفرنس، میٹنگز میں خطاب کرتی ہے۔ پریشان دلوں کو سنتی اور ان پر مرہم رکھنے کا کام کرتی ہے۔ اور اس کی یہی دوستیں حیران ہوتی ہیں کہ جو اکثر و اوقات کتابوں میں منہ چھپائے رہے۔ غیر نمایاں رہنے کو فوقیت دے۔ دس لفظوں سے زیادہ بول دے تو حیرانی ہو۔ وہ کیسے اتنا بدل گئی؟ دوست احباب کو بیشتر اوقات کھانا پکا کے کھلانے والی، اسی صفت کی بنا کئی جونیئر، سینیئر کے ہاتھوں استعمال بھی ہوئی۔ اب اربن فارمنگ کرتی اور آرگینک کھلاتی ہے۔

ان آٹھ سے ملاقات اس لئے کروائی ہے کہ ہم سب جان لیں کہ:
حالات ایک سے نہیں رہتے۔
دلچسپیاں بدلتی رہتی ہیں۔
ذمہ داریاں اور ترجیحات ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں۔
انسانی شخصیت کا حسن تبدل میں ہے۔
کل کے ڈرپوک آج کے بہادر بن سکتے ہیں۔
ماضی کے سست حال میں چاق و چوبند ہو سکتے ہیں۔
پہلے کے غصیلے اب کے نرم مزاج ہو سکتے ہیں۔
جوانی کے شرمیلے و کم گو اب کے باتونی ہو سکتے ہیں۔
جوانی کے غیر ذمہ دار ضروری نہیں کہ ساری عمر ذمہ دار نہ بنیں۔
اس لئے :
’ٹیگنگ‘ سے اجتناب کریں۔
رویوں میں ’لچک‘ لائیں۔
آراء کے ’ضدی پن‘ سے بچیں۔
لوگوں کی ’تکریم‘ انسان ہونے کے سبب کریں۔
’سمجھداری‘ سے اپنا اور دوسروں کا کردار پہچانیں۔
وقت کے بہاؤ پر خود کو آزاد چھوڑ دیں۔

Facebook Comments HS